سب"مائع" ہے۔

ارے صاحب سب "مائع" ہے
**********
mi kara deta sabi
می کارا دیتا سابی۔
اندر سے نکلا زنگ۔
ہم اپنی زبان میں ان الفاظ میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔
"اندر سے نکلا گند"
کسی فرد ،افراد یا اجتماعی سماجی سیاسی مذہبی معاشرتی برائی کے ظاہر ہونے کی صورت میں،
  ہم اس کا اظہار بیزاری سے انہی الفاظ میں کرتے ہیں کہ
"اندر کا گند " تھا جو سامنے آگیا۔
اکثر یوں ہی ہوتا ہے۔ کہ ہمارے دماغ میں جو "پک" رہا ہوتا ہے۔
یا جو "تصور یا خیال"  بیٹھ جاتا ہے۔ ہم اسی کے "اندر" سے "باہر" دیکھتے ہیں۔
"آئینہ " دیکھ کر ہم اپنا منہ صاف کرتے ہیں میک اپ کرتے ہیں بال سنوارتے ہیں۔
اور اپنے سراپے پر طائرانہ نگاہ ڈال کرمطمعین ہو جاتے ہیں۔
شاذو نادر ہی ایسی "نادر" بد شکل اور بیہودہ مخلوق پائی جاتی ہوگی جو اپنی "شکل" آئینے میں دیکھ کر
"لکھ دی لعنت" کیسی منحوس شکل ہے اپنے آپ کو کہتی ہو۔
آئینے کے سامنے ہم میں سے ہر "شخص" ملکہِ حسن اور "یونانی حسن کا دیومالائی دیوتا " ہی ہوتا ہے۔
لیکن دلچسپ بات "شاید" آپ بھی محسوس کرسکیں یا مشاہدہ ، تجربہ کرچکے ہوں۔
کہ کسی سے اختلاف یا متفق نہ ہونے کی صورت میں ہم یا کوئی بھی سب سے پہلے اپنے "مخالف" کی "ذات" پر حملہ آور ہوتا ہے۔
جھوٹے سچے"عیب " گنوا کر مخالف کی جملہ بازی سے تذلیل کرنا وغیرہ۔
اور دلچسپ بات سوچنے کی یہ ہے کہ "مخالف" بھی گھر سے "آئینہ " دیکھ کرہی نکلا ہوا ہوتا ہے۔
 مزید سمجھنے کیلئے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ
"روٹی" ہر شخص کھاتا ہے۔ لیکن کوئی موٹا، پتلا، لمبا ، ٹھگنا ،گورا، چٹا یعنی مختلف "اشکال" میں بدل جاتا ہے۔
ایک جیسی "شکل" میں نہیں رہتا۔
ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ
انسان  "پانی" کی ایک شکل ہے۔
پانی کو کسی بھی برتن میں ڈالدیں پانی اسی برتن کی شکل کے مطابق اس کے اندر سما جاتا ہے۔
جب بھی برتن سے پانی کو باہر نکالا جائے گا۔
اندر سے پانی ہی نکلے گا۔
برتن سے برتن میں نکال کر ڈالتے وقت پانی جس برتن میں ڈالا جائے گا اسی کی شکل اختیار کر جائے گا۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ زمین پر بہانے کی صورت زمین میں جذب ہوکر خاک ہو جائے گا۔
زمین اسے "بھاپ" بنا کر باہر پھینک دےگی تو "آسمان" کے ساتھ "آسمان" ہوجائے گا۔
ہم "آسمان" کو دور نزدیک کے سفید اور نیلے بادلوں کی صورت میں ہی دیکھتے ہیں۔
آسمان "پانی" کو باہر پھینکتا ہے۔
 تو ہم بارش کی صورت میں اس پانی کو زمین کو سیراب کرتے یا دریائی سمندری طوفان کی شکل میں دیکھتے ہیں۔
ظاہر ہےجس کے "اندر" جتنا "زیادہ" ہوگا اور جتنے"زور" سے باہر پھینکے گا ۔
اس کی "زیادتی یا کمی" کے مطابق ہی "نتائج" نکلیں گے۔
ایک بات کا مزید مشاہدہ اور تجربہ ہر کسی کو ضرور ہوا ہو گا کہ
"برتن" میں پڑا پڑا پانی "گدلا" یا "بدبودار" بھی ہوجاتاہے۔
جسے ہم پھینک دیتے ہیں۔
لیکن
پانی "پھیکنے" کے باوجود "برتن" بدبودار رہ جاتا ہے۔!!
تو صاحب !!
"انسانی وجود" بھی ایک "برتن " ہی ہے۔
"بد بودار یا گدلا" پانی پھینکنے کے باوجود "بدبو" اندر رہ جاتی ہے۔
بس اس برتن کو "دھونے " کیلئے خود احتسابی کرتے ہیں۔"معافی، تلافی، توبہ تائب" کا عمل کرکے
 صفائی ستھرائی کرتے ہیں۔
نماز ،زکواۃ ، روزہ ، حج ، صدقہ خیرات شاید اسی "صفائی ستھرائی" کیلئے ہم کرتے ہیں۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی. ''بیشک اس نے فلاح پائی جس نے اپنے آپ کو پاک کر لیا۔۔''
وما علینا الالبلاغ

 
سب"مائع" ہے۔ سب"مائع" ہے۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:12 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.