خس کم جہاں پاک

خس کم جہاں پاک : یعنی گھاس پھوس کم ہوئے اور دُنیا پاک ہو گئی۔
کوئی نا اہل شخص کسی معاملہ کے بیچ سے نکل جائے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
تو صاحب یہی معاملہ ہمارے ساتھ ہوا۔
کہ ہم اس قابل ہی نہیں تھے۔
کہ "سوشل میڈیا" یعنی اور بامعنی "فیس بک" کا استعمال جاری رکھ پاتے۔
دس سال پہلے فیس بک کا اکاؤنٹ نیوزی لینڈ کے شہر "اوک لینڈ" میں انگلش زبان میں "مہارت" حاصل کرنے کیلئے اسکول میں داخل ہوگئے تھےتو اس وقت بنایا تھا۔
تین ماہ کیلئے اپنی پینتیس چھتیس سال کی عمر میں ایک بار پھر "سٹوڈنٹ" لائف انجوائے کررہے تھے ۔ کہ "سٹڈی ورک" میں "سوشل میڈیا" اور امریکہ کی یونیورسٹی میں طالب علموں کے درمیان "فیس بک" نامی اپلیکیشن کی مقبولیت کا ذکر پہلی بار سنا۔
پھر تمام کلاس روم نے اپنا اپنا فیس بک اکاؤنٹ بنا کر ایک دوسرے سے رابطہ اور ایک دوسرے کے سٹیٹس کو لائیک اور کمنٹس کا تجربہ کیا۔
پھر فیس بک کے استعمال کے تاثرات پر انگلش میں مضمون نگاری کرنےکا ہوم ورک ملا۔
اس سے پہلےتک ہم"سوشل میڈیا"، یاہو چیٹ ، بلاگنگ اور اردو بلاگنگ کے بارے میں جانتے تھے۔ بلاگ سپاٹ پر بلاگ تو بنا لیا تھا لیکن لکھتے وکھتے کچھ نہ تھے۔
اردو لکھنے میں ہی اتنی دقت ہوتی تھی کہ پرے دفے کرو۔
سے ہی گذارہ ہوجاتا تھا۔
اور "لی مین شاک" کے معاشی بحران تک ہمیں بھی کام سے سر اٹھانے کی فرصت نہیں ہوتی تھی ۔ کہ کسی قسم کی "تخلیقی" سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
اور معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ
"تخلیقی" سرگرمیاں ہوتی کیا ہیں۔
تیس پینتیس سال کی عمر ہوتی ہی کیا ہے۔ بندہ ابھی بچہ بچہ سا ہی تو ہوتا ہے۔
یہ تو چالیس کے بعد یک دم بیس پچیس سال کا کوئی لڑکا اچانک "چاچا" پکارتا ہے ۔
تو بندہ
اوئےےےےےےےےےےےےے خانہ خرابہ کہنے سے پہلے ایک بار رک کر جب سوچتا ہے تو پہلی بار احساس ہوتا ہے۔
یارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر تو واقعی "چاچا" والی ہی ہے۔
بحرحال
اردو بلاگرز کے بلاگ وغیرہ پڑھتا رہتا تھا۔
اور "اینی ماؤس" کے خودکار عطاکردہ نام سے کمنٹس بھی کرتا رہتا تھا۔
آہستہ آہستہ فیس بک کا چسکا لگتا گیا۔
اور انیقہ مرحوم کی حادثاتی موت کے بعد بلاگنگ سے دل بالکل اچاٹ گیا۔
پھر تو فیس بک پر "وقتی" طور پر چھائی "کفیت" کے زیرِاثر جو دل میں آتا تھا۔
"بکواسی" جاتے تھے۔
دوڑنے گئے تو جنگلی سوروں اور پہاڑوں کی فوٹو لگادی۔
ویٹ لیفٹنگ کی تو فوٹو چڑھا دی۔
کتے پہ پیار آیا تو کتے کی وڈیو اور فوٹو چڑھا دی۔
گھر کی انگیٹھی میں لکڑ جلائی تو آگ کو فیس بک پر ڈال دیا۔
مرشد پاک رضوی صاحب پر پیار آیا تو
"پین دی سری" کی تکرار چلا دی۔
فیس بک پر بہت سے دلچسپ مناظر بھی دیکھنےکو ملتےہیں۔
سب سےزیادہ دلچسپ تجربہ کچھ یوں ہوا کہ
کوئی زنانہ آئی ڈی یا زنانی ایک جملے کا سٹیٹس ڈالتی ہیں۔
کہ
آج مجھے"پچیش" لگےہیں ۔!!۔
حیرت انگیز طور پر مسلمان بھائی اور نیک سیرت ""ابا حضور"  حاضر ہوجاتے ہیں ۔اور پھر اسکے بعد تمام دینی دوائیں اور مسنونی و مسواکی  معالجے کے ٹوٹکے یہ "دینی بھائی اور دینی ابے" کمنٹس میں بیان کرتے جاتے ہیں۔
اور دو تین دن تسلی ہونے تک "حال " پوچھتے ہی رہتے ہیں۔
یہ ذرا سا حال قابلِ ترس قوم کا ہے۔
معلوم نہیں ہماری کسی کرتوت کی وجہ سے یا کسی کی رپورٹ کی وجہ سے یا غلط فہمی کی بنا پر ہمارا فیس بک اکاؤنٹ فیس بک والوں نے "بند" کردیا۔
اور پین دی سری کہتے ہیں کہ
آپ اس قابل نہیں ہو کہ "فیس بک" استعمال کرو۔
بعض ہمارے ستائے ہوئے مشہور و معروف ٹکے ٹکے کی شخصیات بھی خوشی پھولے نہیں سما رہے۔
کہ فیس بک نے ہمیں ٹھوکر مار کر جو نکالا ہے ٹھیک نکالا ہے۔
اب ہم پاکستان کے "سابقہ " وزیر اعظم تو ہیں نہیں کہ
ہماری بھی سنی جائے کہ
"مجھے کیوں نکالا؟"
اپنے کرتوت تو ہماری اپنی ہی  نظر میں مشکوک ہیں۔
اینج تے اینج سہی۔
چلیں آپ کو ہم ایک قصہ سناتے جاتے ہیں کہ
"اِدھر" سے دیکھا جائےتو یوں بات سمجھ آتی ہے۔
اور "اُدھر" سے دیکھا جائے تو بات یوں سمجھ آتی ہے۔
ایک "ولی" نے اپنی بیوی کو دریا کی دوسری طرف مقیم ایک درویش کے پاس کھانا لے جانے کو کہا۔
اور اسے کہا کہ
"پانی" کو کہنا مجھے اس ولی نے بھیجا ہے جو کبھی بھی عورت کے ساتھ نہیں سویا۔
پانی پھٹ جائے گا اور تو آسانی سے دریا میں سے گذر جائے گی۔
عورت نے ایسا ہی کیا۔
اور اسے شدید حیرت ہوئی کہ واقعی پانی پھٹ گیا تھا۔
حالانکہ عورت اپنی "ولی" شوہر کے بچے جن بھی چکی تھی!!۔
دریا کے اس پار جاکر درویش کو کھانا دیا تو درویش جب کھانا کھا چکا تو  عورت نے واپسی کا طریقہ پوچھا تو درویش نے عورت سے کہا کہ "پانی " کو کہنا
میں اس "درویش" کیطرف سے آرہی ہوں ۔جس نے تیس سال سے کھانا نہیں کھایا۔!!۔
عورت نے ایسا ہی کیا اور حیرت زدہ رہ گئی کہ
"پانی" واقعی پھٹ گیا اور عورت دریا سے گذر کر گھر آگئی۔
حالانکہ وہ دیکھ چکی تھی کہ درویش اس کا لایا ہوا کھانا،اس کے سامنے کھا چکا ہے۔
عورت نے اپنے شوہر سے پوچھا ۔
سرتاج یہ کیا معاملہ ہے؟
آپ کے بچوں کی ماں میں ہوں۔
اور دریاکے اس پار کے درویش نے میرے ہاتھ کا بنا کھانا میرے سامنے کھایا ہے۔
 "پانی" دونوں کی بات سچ جان کر "پھٹ" گیا اور میں دریا کے آرپار آسانی سے گذر گئی!۔
"ولی " صاحب بولے۔
دیکھ بی بی میں تیرے ساتھ اپنے نفس کی تسکین کیلئے کبھی نہیں سویا۔
محض تیرے "حقوق" ادا کرنے کیلئے سوتا تھا۔
جس کی بدولت تجھے خدا نے اولاد عطا کی اور میں نے خدا کی عبادت کی۔
اسی طرح دریا کے اس پار کے درویش نے بھی کھانا نہیں کھایا۔
"جسم " کا حق ادا کیا اور خدا کی عبادت کیلئے توانائی حاصل کی۔۔۔
تو صاحبان و خواتین۔۔۔
ہمارا بھی یہی حال ہے۔ کہ
اپنے اندر "اچھلتی" بھڑاس کو اپنے "سچ" کے ساتھ الفاظ میں ڈھال دیتے ہیں۔
"واہ واہ" اگر ملتی ہے۔ تو
جسے خدا جو چاہتا ہے عطا کردیتا ہے۔
سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔
یہی حال گالی گلوچ وصولنے کی صورت میں بھی ہے۔
فیس بک نہیں تو بلاگ تو ہم لکھ سکتے ہیں۔
کتے کی فوٹو اور وڈیو یہاں بھی ڈال سکتے ہیں۔
فیس بک کا کیا ہے۔ یہ اکاؤنٹ بند ہے تو کیا ہوا ؟
دوسرا کھول سکتے ہیں۔
لیکن کیا ہے۔ کہ
اگر اللہ نے ایک "واہیات" شے سے جان چھڑوا نے کا موقعہ عطا کرہی دیا ہے ۔
تو میرے خیال میں فیس بک کو چھوڑنے کی انتہائی کوشش کرنے کے باوجود
نہ چھوڑ سکنے والوں کو مشورہ یہی ہے۔
تجربہ کرکے دیکھئے کہ فیس بک آپ کو بلاک کرے اور آپ کو زندگی کا "اصل"  لطف دوبارہ نصیب ہو۔
تو آپ واقعی خدا کے شکرگذار ہوں گے۔



 
خس کم جہاں پاک خس کم جہاں پاک Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:21 AM Rating: 5

2 تبصرے:

Muhammad Farooq کہا...

جناب ہم آپ کی کمی محسوس کررہے ۔۔۔شکر ہے آپکا نمبر محفوظ کرلیا تھا ۔۔۔باقی ایف بی اب تو پ۔۔۔د۔ س ہی رہ گیا مچھلی بازار بن گیا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ایف بی واقعی فضولیات کی ماں ہے جان چھوٹ جائے تو بہت خوش نصیبی والی بات ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.