نفس کا تکبر



کوہستانی سلسلے کے دروں میں بسنے والوں کی زندگی کٹھن ہوتی ہے۔وسائل لوگوں کو میسر نہیں ہیں۔ہر دوسرے گھر کا جوان ہونے والامرد فوج میں جاتا ہے یا پھر کسی بھی بڑے شہر کیطرف مزدوری کیلئے نکل جاتا ہے۔
اب ٹی وی اور موبائل کے ذریعے انٹرنیٹ تک کی پہنچ نے معلومات کے اضافے کے ساتھ تشنہ خواہشات کو پورا کرنے کی لگن نے مسائل کھڑے کرنے شروع کردئیے تھے کہ جو جوان فوج یا شہر جانے سے رہ جاتے تھے.
وہ باپ یا بھائیوں کے بھیجے ہوئے پیسوں سے اپنے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ شوخی بھی دکھاتے تھے.
جس مقام پر بسنے والوں کا متحرک رہنے کا دائرہ محدود ہو۔ روزانہ سامنے آنے والی صورتیں ایک جیسی ہی ہوں۔ زیر گفتگو آنے والے موضوعات یکساں ہوں۔ایسے مقام ایسے علاقے میں بسنے والے لوگوں پر یکسانیت طاری ہو جاتی ہے۔
سوچیں محدود، خواہشات کثیر ہو جاتی ہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ موازنہ کرتا ہے اپنی کمی کو دور کرنے کیلئے مقابلہ کرتا ہے۔
اور اپنے ہی "گروہ" میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
احساس برتری سے سرشار ہوکر اپنے آس پاس کے انسانوں پر "اک نگاہ" ڈالنے کی "تسکین" حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایسے "محدود" مقام پر رشک و حسد کا جذبہ اپنی انتہا پر ہوتا ہے۔"محدود" رشتوں ناطوں سے ہی دشمنی شروع ہو جاتی ہے۔
"کینہ پروری" اپنی تمام رعنائیوں سے دلوں پر حکمرانی کرتی ہے۔
"کوہستانیوں" کی نسل در نسل کی دشمنیاں شہرت رکھتی ہیں۔ دشمنی کی ابتداء ایک بالش زمین کے ٹکڑے سے بھی ہوسکتی ہے۔ ایک درخت سے بھی اور گائے بکری مویشیوں کا کھیت میں گھس جانا بھی ہو سکتا ہے۔
وہ بھی اسی طرح کے ایک کوہستانی گاؤں میں پیدا ہوا تھا۔
اس کے گاؤں میں بھی پہاڑوں پر گھاس اور جنگل کی فصل ہی اگتی تھی یا پھر والدین کی کثیر اولاد ہی اچھی فصل سمجھی جاتی تھی۔
چھوٹی موٹی کھیتی باڑی کے علاوہ یہاں کوئی روزگار نہیں تھا۔پیدا ہو کر بالغ ہونے والے شہروں کا رخ کرتے تھے۔ایک بھائی باپ دادا کی پشتی زمین پر ہی بس جاتا تھا۔
باقی اس کی مدد امداد کیلئے رقم بیجھتے رہتے تھے۔

سال کے سال "گاؤں" واپس آنے والے آتے تھے پیچھے والوں کو انکی محدود خواہش کے مطابق کپڑا لتا دیتے تھے لیکن واپس بسنے کیلئے کوئی نہیں آتا تھا اور پھر ہرسال آنے والے مر جاتے یا آنا بھول جاتے تھے۔
اسی طرح اگلی نسل بھی پیدا ہوکر بالغ ہوتی تھی اور شہروں کیطرف "واپس" نہ آںے کیلئے نکل جاتی تھی۔

ابھی وہ بارہ سال کا ہی تھا اور گاؤں کی یہ ریت دیکھ رہا تھا . اس کے پڑوس کے چاچابشام کا بڑا بیٹا شہر مزدوری کیلئے چلا گیا .پھر وہ جب بھی آتا تو بہت سارا سامان بھی لاتا تھا۔
چاچا بشام خان کے گھر اب ایک درجن چائینا کی پرچ پیالی بھی آگئی تھی جن پر بہت ہی خوبصورت سے پھول بوٹے سجے ہوئے تھے تو جگر جگر کرتے بہت سارے سٹیل کے برتن بھی جمع ہوچکے تھے .
خاص مہمانوں کے واسطے شیشے کی چھ پلیٹیں بھی چاچی کمرے میں سجا کر رکھتی تھی۔چھوٹے سے کمرے میں دائیں طرف دیوار پہ لکڑی کے دو فٹ چوڑے تختے کو کیلوں سے لگاکے اس پہ اخبار کو جھالر کی طرح کاٹ کے بچھا رکھا تھا .
اور اس اخبار پہ خوب صاف کرکے سارے برتن ایسے رکھے تھے کہ آنے والے کی پہلی نظر ان پہ ہی پڑے.
کچھ وقت بعد ان کے گھر ٹی وی بھی آگیا ۔بشام چاچا کے چھوٹے بیٹے عموماً مسواک منہ میں ڈالے قمیض کے نیچے سے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بتاتے رہتے تھے کہ بھائی نے اس مہینے بھی پیسے بھیجے ہیں یا یہ یہ سامان بھیجا ھے.
وہ گھر کا بڑا بیٹا تھا۔ اس لئے ان کے گھر باپ کی فوج کیطرف سے آنے والی تھوڑی سی پینشن ہی تھی۔ وہ بھی سوچتا تھا جب بڑا ہوگا تو شہر مزدوری کیلئے جائےگا اور گھر والوں کو پیسے بھیجے گا۔
فارغ وقت میں اپنے چھوٹے سے گھر کا جائزہ لے کے خیالی پلاؤ پکاتا رہتا تھا اس جگہ ٹی وی رکھے گی ماں اور چاچی کی طرح برتن کی نمائش کس دیوار پہ تختے لگا کے کرےگی۔
ماں کو چائینا کی پیالیوں کا سیٹ اور چھوٹے بہن بھائ کو ٹی وی خرید کے دینا اولین خواب تھا جو وہ جاگتی آنکھوں سے دیکھتا تھا .
پھر وہ پندرہ برس کی عمر میں ہی شہر میں موجود تھا.
شہر میں اسے گاؤں کے جاننے والے نے سبزی منڈی میں مزدوری پر لگوا دیا ۔وہ پھلوں سبزیوں کی پیٹیاں اور بوریاں لادنے اتارنے کا کام کرنے لگ گیا۔
روز کی دیہاڑی جمع کرکے اس نے پہلے اپنا ٹھیلا لگانے کا سوچا اور پھر آڑھتی سے مال لیکر اس پہ عمل بھی کر ڈالا. خوب کمائی شروع ہوچکی تھی کہ خرچہ زیادہ نہی تھا اور بچت کرنا گھٹی میں تھی.
پھر اسے منڈی میں ہی ایک نئے تعمیر ہونے والی دکانوں میں سے دکان مل گئی تو اس کے کام میں مزید بہتری آگئی۔
تعلیم اس کی واجبی سی ہی تھی۔مسجد میں موسم گرما میں آنے والے قاری صاحب سے اس نے قرآن پڑھنا سیکھ لیا تھا۔
اور روزانہ پانچ میل کی مسافت پر بنے سکول سے اس نے پانچ جماعتیں بھی پڑھی ہوئی تھیں اسی لیے حساب کتاب میں کوئی اسے زیادہ چونا نہی لگاسکا.
شہر آنے کے بعدسات آٹھ سالوں میں ہی اس نے اتنی ترقی کی کہ وہ اسی سبزی منڈی میں ایک معروف آڑھتی بن چکا تھا۔
گاؤں سے اس کے پاس آنے والوں کو بھی اس نے اپنے پاس ملازم رکھ لیا تھا۔ اس کے پاس اب پچیس تیس ملازم ہوتے تھے۔
اب اس کے پاس گزارے لائق اپنی گاڑی بھی تھی۔
ایک دن اس کے گودام کے سامنے اسی کے علاقے کے ایک شخص نے ریڑھی لگاکر اس کے آنے جانے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو اس کے کہنے باوجود ریڑھی ہٹانے کے بجائے مزید بدتمیزی کی جس کی وجہ سے اس نے غصے میں آکے اس شخص پہ ہاتھ اٹھالیا .
وہ شخص نیا ہونے کے ساتھ اکیلا بھی تھا, اسی لیے تشدد کا سامنا کرکے خاموشی سے جگہ چھوڑگیا. کیونکہ اس کے پاس اپنے ہی علاقے کے بندوں کا بہت بڑا گروہ جمع ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کا رعب بھی تھا۔
اور اس کے علاقے کےملازم بھی اس کی چاپلوسی کی حد تک عزت کرتے تھے۔ایک شخص پر تشدد کرنے کی وجہ سے لوگ اس سے دبنا شروع ہو گئے تھے۔
اس کے گوداموں کے آس پاس ریڑھیاں کھڑی کرنے والے اور رات کو انہی ریڑھیوں پر بستر بچھا کرسونے والوں نے خود بخود ہی اس کے بندوں کے ذریعے ایک دوبار کچھ پیسے دے کر اس سے اجازت مانگی تو اس نے بھی کچھ سوچے سمجھے بغیر پیسے لیکر جیب میں ڈال لئےاور اجازت دے دی۔
اس کے ساتھ ہی ایک نظام سا بنتا چلا گیا اسے ہر ریڑھی والا "ماہانہ" دینا شروع ہو گیا اور اس نے بھی اسے اپنا جائز حق سمجھنا شروع کردیا۔
بعض اوقات کوئی ریڑھی والا مزدور "ماہانہ" نہیں دیتا تو وہ اپنے بندے لے جاکر اسے زود کوب کرتا اور اس مزدور کو "ماہانے" پر لگاتا یا علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیتا۔
کاروبار کے ساتھ "ماہانہ" بھی ملنے سے پیسہ تو اس کے پاس بہت کم عرصہ میں بے تحاشہ آگیا تھا۔
لیکن اب اس پر اپنی دہشت نما شہرت و ناموری کا عجیب سا نشہ طاری رہنے لگا تھا.
ایک دن پھر اس کے گودام کے سامنے پھلوں کی ریڑھی کھڑی تھی۔
اور اس کے ملازم جو کہ اب اسلحہ بھی نمائش کیلئے ساتھ رکھتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ نیا بندہ ہےاور ابھی ماہانہ بھی نہیں دیتا۔

وہ ریڑھی والے کے پاس گیا اور اسے گالی دے کر ریڑھی ہٹانے کا اور اس علاقے میں ریڑھی لگانے کی صورت میں ماہانہ دینے کا کہا۔۔
ریڑھی والا بھی " کوہستانی " تھا۔ اس نے کہا نہیں دیتا جواباً گالی بھی دے دی۔۔
اس کے تکبر کو بہت بڑی چوٹ لگی اور وہ بلبلااٹھا۔
وہ دھاڑا اور ریڑھی والے کو اپنے ملازموں کو پکڑنے کا حکم دیا۔۔
ریڑھی والے نے یک دم پستول تان لیا اور کہا کہ اسے تنگ نہ کیا جائے ۔
اس کا غصے سے برا حال ہو گیا۔
اس کے ملازموں نے بھی گنیں تان لیں۔۔
وہ سینہ تان کر ریڑھی والے کے سامنے گیا اور کہا ۔
مرد کا بچہ ہے تو گولی چلا کر دکھا۔
ریڑھی والے نے اسے کہا گولی مارو دوں گا ، اپنی راہ پکڑ!!
لیکن وہ باز نہ آیا اور غصہ سے گالی گلوچ کرتے ہوئے پھر بولا۔
مرد کا بچہ ہے تو گولی چلا کے دیکھ میرے بندے تیرا حشر کردیں گئے۔
ریڑھی والے نے اسے دیکھا اور اس کے بندوں کو دیکھا۔
پستول کا رخ اس کی پیشانی کی طرف کیا اور
ٹریگر دبا دیا!!!۔۔
اس کی مغزالی وہیں سڑک پر پھیل گئی ۔۔
ملازم حق دق کھڑے رہ گئے۔
ریڑھی والے نے سوالیہ نظروں سے "ملازموں" کیطرف دیکھا!!
سب خاموشی سے کھڑے رہے۔۔
ریڑھی والے نے آرام سے اپنی چادر اٹھائی, جھٹکے سے جھاڑا اور خاموش کھڑے تماشائیوں کے بیچ میں سے راستہ بناتے ہوئے ہجوم میں غائب ہوگیا۔
"پیسہ" دینے والا اور "پیسے" والا ہی نہیں رہا تو "ملازم" کس کی خاطر اور کیوں قتل کرتے؟
لاش وہیں پڑی رہی اور ہجوم کے ساتھ ،ملازم بھی رفتہ رفتہ بھیڑ کا حصہ بن گئے۔۔
لیکن
اس لاش کے بے روح چہرے پر کچھ سوالات تھے۔
اسے کسی نے کیوں نہیں بتایا تھا کہ
دنیا میں سیر پر سوا سیر لازمی ہوتا ہے؟
اسے کسی نے کیوں نہیں بتایا تھا کہ
خدا جب رزق حلال دے تو
عاجزی ، انکساری ،شکر گذاری ، اختیار کرنی چاہئے۔
اسے کسی نے کیوں نہیں بتایا تھا کہ
جب خدارزق میں فراوانی عطا فرمائے تو
"اچھائی ، نیکی ، شرافت" میں ناموری کی کوشش کرنی چاھئے۔
اسے کسی نے کیوں نہیں بتایا تھا کہ
جب دنیا کی پُرہجوم راہوں سے گذر ہو تو "کہنیاں" اٹھا کر چلنے سے دنیا والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔اور خدا نے دوسروں کو بھی "کہنیاں" دی ہوئی ہیں۔
کوئی دوسرا بھی "کہنیاں" اٹھا سکتا ہے۔
"کہنیاں" اٹھا نے والوں کیلئےہی "کہنیاں" اٹھتی ہیں۔
ہتھیار ، ہتھیاررکھنے والوں کے خوف سے ہی بکتے ہیں۔

نفس کا تکبر نفس کا تکبر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:39 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.