اداس کندھے

وہ سخت غصے میں کپکپا رہا تھا۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کس طرح رام کروں۔
یہ کیا بات ہوئی کہ
امریکی اور یورپین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی عوام کی زندگیاں تو قیمتی ہوں اور ہماری کوئی اوقات ہی نہیں؟
اس نے پھنکارتے ہوئے سوال داغ دیا۔۔
میں اس کی حالت دیکھ کر روہانسا ہو گیا۔
اور اسے ٹھنڈا کرنے کیلئے نرم لہجے میں کہا۔
بھائی آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ اللہ نے تمام انسانوں کو برابر پیدا کیا اور سب کے حقوق بھی ایک جیسے ہی ہیں۔
اس کے چہرے پر اپنی دل کی بات میرے منہ سے نکلوا کر اطمینان سا آیا ۔اور اس نے قدرے نرم لہجے میں میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کہ
آپ لوگ ساری زندگی پاکستان سے باہر گذار کر کچھ زیادہ ہی پاکستان مخالف ہو گئے ہیں۔اور موقعہ ملتے ہی پاکستانیوں کو ذلیل کرتے ہیں۔
معذرت بھائی ۔
میرا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا۔ اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا ہے۔۔مجبوراً زندگی کی سہولت یا آسائیش حاصل کرنے کیلئے پاکستانی شہریت چھوڑی ہے۔
غیر پاکستانی پاسپورٹ سے بیرون ممالک کاروبار کیلئے سفر کریں تو بہت آسانی ہوتی ہے۔پاکستانی پاسپورٹ پر ہر ملک کے ویزے کیلئے درخواست دینی پڑتی ہے۔اور ویزا بھی مشکل سے ملتا ہے۔۔عموماً انکار ہو جاتا ہے۔
میں ٹکٹ خریدتا ہوں اور دنیا کے جس ملک میں جانا چاہوں جا سکتا ہوں۔ سفر کا مقصد کاروبار ہو یا سیاحت کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
یہ سہولت "غیر ملکی " پاسپورٹ لیکر حاصل ہوئی ہے۔پاسپورٹ ہاتھ میں ہونے کے باوجود ایک "عجیب " سی اجنبیت ایک کسک اک زہریلی سی "ٹھیس" سینے میں محسوس ہوتی ہے۔
اپنا آپ عجیب سا کھوکھلا سا لگتا ہے۔
یہ بات انہیں کبھی محسوس نہیں ہو سکتی جو ایک بہت بڑے جیل خانے میں بند ہیں، ایک بہت بڑے "پاگل خانے" کے باسی ہیں۔۔۔۔۔
جن کی سڑکیں میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ جن کے ہاتھوں ایک دوسرے کی جان ،مال ،عزت ، محفوظ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی محسوس نہیں کر سکتے۔۔
اس کی آنکھوں میں پھر غصے کی تیز لہر دکھائی دی۔۔۔
میں نے مزید بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔
جان کی قیمت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
کہ ریمنڈ ڈیوس ایک قاتل ہونے کے باوجودکیوں باحفاظت نکال لے جایا گیا؟
اور اپنے ملک میں پارکنگ کی جگہ نہ ملنے پر ایک شخص کو گھونسا رسید کرنے پر اٹھا کر جیل میں ڈال دیا گیا ۔۔
کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
ان کے ملک میں قانون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کچھ الجھن زدہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔
چلیں ان کے ملک میں قانون کے ہونے کی بات تو آپ مان رہے ہیں۔۔
ایک جواب مزید دیں پھر آپ کو بہت سارے سوالوں کے جواب مل جائیں گئے۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے ملک میں کوئی عمارت گِر جاتی ہے۔اور ملبے سے مٹی میں لت پت ایک بچہ زندہ نکال لیا جاتا ہے۔اور بچہ "شاک " کی حالت میں ہے۔۔
آپ کا کیا خیال ہے کہ ان کا ملک ان کے حکمران ، ان کی پولیس عمارت کے گِرنے کی وجہ تلاش نہیں کریں گئے؟
کریں گئے کیوں نہیں کریں گئے!
اور ذمہ داروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟
ظاہر سی بات ہے ذمہ داروں کو سزا ملے گی۔۔
ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو بھائی میں یہی عرض کر رہا ہوں کہ
آپ کی زندگی کی قیمت اور ان کی زندگی کی قیمت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔آپ اور ان کے "انسانی حقوق" کسی طرح بھی برابرنہیں ہو سکتے۔۔
اس کے چہرے پر دوبارہ غصے کی سرخی چھا گئی ۔۔
وہ تذبذب کا شکار تھا۔۔شاید اسے "اظہار" کیلئے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔لیکن وہ مجھ سے متفق ہونا نہیں چاہتا تھا۔۔
میں نے اس کی آسانی کیلئے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔
دیکھئے۔۔۔
ہم ماں کے پیٹ میں ہوتے ہیں اور دنیا میں آنے کیلئے جب زور لگا رہے ہوتے ہیں تو ہمیں "رکشے" میں اسپتال لے جایا جاتا ہے۔۔
چوراہے پر معلوم پڑتا ہے کہ کوئی "وئی آئی پی" سیاسی شخصیت گذر رہی ہے۔۔اور ہمارا جنم رکشے میں ہی ہوجاتا ہے۔ دس نمبر پانے سے ہماری ناف کاٹی جاتی ہے اور ہمارا نام "رکشا خان" رکھا دیا جاتا ہے۔
جب ہم ساٹھ ستر سال جی لیتے ہیں ، اور قریب المرگ حالت میں ہمیں اسپتال لے جایا جاتا ہے تو ہمارے مرنے کے بعد افسوس کرنے کیلئے آنے والوں کو ہماری "اولاد" غمگین لہجے میں بتا رہی ہوتی ہے۔ کہ
دراصل ابا معصوم کی تو ابھی زندگی تھی "حرام دے" وئی آئی پی سیاسی شخصیت کی وجہ سے سڑک بلاک تھی اور ابا معصوم ایدھی کی ایمبولینس میں ہی تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار گئے۔۔
اور قبر پر کتبہ لگتا ہے۔۔۔۔"رکشا خان" مرحوم 14 اگست دو ہزار سولہ۔۔۔۔
اس نے پہلی بار بیچارگی سے دیکھا اور میری طرف پشت کرکے دروازے سےباہر نکل گیا۔۔
میں نے احساس تفاخر سے سرشار ہوتے ہوئے کافی کا مگ اٹھایا اور میری طرف پشت کئے باہر جاتے ہوئے ۔
اس کے جھکے اداس کندھوں کو حقارت اور سرد نظروں سے الوداع کہتے ہوئے گرم کافی کا گھونٹے بھرتے ہوئے اپنی زبان پر کافی کی "کڑواہٹ" محسوس کی۔۔
اداس کندھے اداس کندھے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:16 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.