غلط فہمی

آج وہ کئی عشروں بعد اپنے آبائی گھر واپس آیا تھا، اور اس کے ذہن کی سکرین پر ماضی کی یادیں چل رہی تھیں ۔ یہاں دو جزیرے تھے ، آمنے سامنے،

ایک آباد تھا اور دوسرا غیر آباد، آباد جزیرے سے غیر آباد جزیرے کا فاصلہ پانچ سو میٹر تھا، گرمیوں کے موسم میں نوجوان لڑکے لڑکیاں تیراکی کرتے ہوئے غیر آباد جزیرے تک آتے جاتے تھے۔

شاید نوعمری کے مہم جوئی کے جذبہ کو تسکین دیتے تھے۔

آباد جزیرے کا بڑے مرکزی ملک سے بھی چند سو میٹر کا فاصلہ تھا، صبح شام مخصوص اوقات میں ایک اسٹیمر آتا جاتا تھا۔جس میں جزیرے کے لوگ بھی آتے جاتے تھے اور سیاحوں کی آمد و رفت کے علاوہ ضروریات زندگی کا سامان بھی اسی چھوٹے سائیز کے بحری جہاز پر لایا لے جایا جاتا تھا۔

سیاح صرف موسم گرما میں ہی آتے تھے، موسم سرما میں اس جزیرے کا دنیا سے تعلق ٹوٹ جاتا تھا۔کیونکہ حکومت نے بجلی ، گیس وغیرہ مہیا کی ہوئی تھی ، اور جدید دور کی وجہ سے انٹرنیٹ بھی میسر تھا۔

اس جزیرے کی اکثریت کا ذریعہ معاش مچھلی کا شکار اور کاشت کاری تھی۔سبزیاں اور مچھلی مرکزی جزیرے کیطرف بھیج دی جاتی تھیں۔

ابھی موسم سرما اختتام کے آخری دنوں پر تھا ، اس دن سورج خوب چمک رہا تھا، ہر طرف سورج کی روشن پھیلی ہوئی سب کے چہرے بھی روشن روشن تھے۔

وہ مویشیوں کے کمرے کی صفائی کر رہا تھا ، کہ اس کے باپ کے ٹرک کے رکنے کی آواز آئی، اس کے گھر میں زیادہ تر چھوٹا ٹرک ہی استعمال کیا جاتا تھا۔

گھر کےزیادہ افراد نے ایک ہی جگہ جانا ہو تو بڑی ویگن نکالی جاتی تھی ورنہ چھوٹے ٹرک پر ہی ان کی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں۔

باپ نے اسے زور سے آواز دی تو وہ مویشیوں کے کمرے سے نکل کر ٹرک کے پاس کھڑے باپ کیطرف گیا۔۔

باپ نے مسکراتے ہوئے ٹرک کا دروازہ کھولا اور ایک بھورے رنگ کا کتے کا بچہ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔ کہ اس کی تربیت اور دیکھ بھال اب تم نے کرنی ہے۔۔کر لو گے نا؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا ،اور بھورے رنگ کے کتے کے بچے کو باپ کے ہاتھوں سے لے کر پیار سے اس کے سرپر ہاتھ پھیرا۔  باپ کا کتے کا بچہ لیکر آنا اس کیلئے یا گھر دیگر افراد کیلئے کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے گھر کا پہلا کتا کافی بوڑھا ہوکر اپنی طبعی عمر پوری کرکے مر چکا تھا۔

ان کے گھر کو نئے کتے کی ضرورت تھی۔ وجہ یہ تھی کہ قریبی پہاڑی کے جنگلات سے رات کو بندر اور جنگلی خنزیر اتر کر ان کے کھیت اجاڑ دیتے تھے۔ کتا رات کو بھونک اطلاع دیتا تھا تو اس کا باپ یا دادا گن اٹھا کر فائرنگ کرکے بندروں کو بھگا دیتے تھے۔
اور خنزیر کو مار کر اپنی اور گاؤں والوں کی خوراک کیلئے استعمال کر لیتے تھے۔ پڑوس کے ایواموتو کےدادا نے ایک بار شکار کیا ہوا بندر بھی کھایا تھا۔ لیکن ہنس کر بتا یا تھا کہ بندر کا گوشت کھانے کے قابل نہیں ہوتا اس لئے کوئی دوسرا آزمائیشی تجربہ نہ ہی کرے تو بہتر ہے۔
کتے کا رنگ بھورا ہونے کی وجہ سے اس نے ہی کتے کو بھورا پکارنا شروع کیا تو کتے کا نام بھورا ہی پڑ گیا تھا ۔ بھورا کس نسل کا تھا، کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا ، جو بھی دیکھتا تھا یہی کہتا تھا شاید یورپی نسل کا مخلوط النسل کتا ہے۔۔
بھورا دیکھتے ہیی دیکھتے قدآور اور جسیم ہو گیا تھا ،لوگ اسے دیکھ کر عموماً خوفزدہ ہو جاتے تھے۔گھر کے کچھ افراد بھی بھورے کیلئے ناپسندیدگی کے جذبات رکھتے تھے۔ وہ اس کا باپ اور دادا ہی زیادہ تر اس کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
بھورا بھی زیادہ تر انہی تین افراد سے مانوس تھا ۔ بھورا قدآور اور جسیم ہونے کی وجہ سے کھاتا بھی بہت تھا۔ اور اس کی ایک بری عادت یہ تھی کہ حکم کسی کا نہیں مانتا تھا۔ موڈ ہوا تو بلائے جانے پر قریب آجاتا تھا۔ورنہ کھانے کے وقت کے علاوہ اس نے کسی کیطرف دیکھنا بھی نہیں ہوتا تھا۔
اس کے بدن کی بدبو تھی یا دہشت کہ جنگلی خنزیروں اور بندروں نے بھی ان کے کھیتوں کیطرف آنا چھوڑ دیا تھا۔ ایک بار گرمیوں میں ریچھ پہاڑی جنگل سے اتر کر آگیا تھا تو بھورا غراتے ہوئے ریچھ پر چڑھ دوڑا تھا، ریچھ کچھ دیر تو بھورے سے مقابلے کیلئے پچھلےپاؤں پر کھڑا تو ہوا تھا۔

لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے خوفزدہ ہوکر جنگل کی طرف بھاگ گیا تھا۔ بھورا بھی ریچھ کا پیچھا کرتے ہوئے جنگل میں غائب ہو گیا تھا۔ لیکن دوسرے دن صبح واپس اپنے ڈربے کے پاس کاہلی سے لیٹا ہوا تھا۔۔معلوم نہیں ریچھ کے ساتھ اس کے معرکے کا کیا ہوا تھا۔
کچھ سالوں بعد اچانک بھورا گھر سے غائب ہو گیا۔ بہت تلاش کیا گیا، لیکن بھورے کا کچھ معلوم نہ ہوا کہ کہا ں چلا گیا۔۔اس کے غائب ہونے کی ان تین باپ بیٹا اور دادا کے علاوہ کسی کو کوئی خاص پرواہ نہ ہوئی تھی۔ اس کے باپ کو بہت زیادہ دکھ ہوا تھا۔۔
عموماً اس کا باپ جب زیادہ شراب نوشی کر جائے تو نشے میں روتے ہوئے بھورے کو بہت یاد کیا کرتا تھا۔ پھر اس کا باپ خود سے ہی مسکراتے ہوئے کہتا تھا ۔ کہ اس کا بھورا بہت دلیر تھا۔ جنگل میں ریچھوں کے غول سے لڑتے ہوئے مارا گیا۔ لیکن میدان سے بھاگا نہیں۔۔میرا بھورا دلیر تھا دلیر۔۔۔۔۔۔۔۔
باپ کی بھورے کیلئے اسی محبت بھری یادوں کی وجہ سے ان کے گھر میں دوبارہ کوئی کتا نہیں پالا گیا تھا۔انہوں کھیتوں کی حفاظت کیلئے بجلی کی بھاڑ جنگل کے طرف لگا دی تھی۔ اس بھاڑ میں رات کو کرنٹ دوڑا دیا جاتا تھا ۔
بھورے کے غائب ہونے کے تین چار سال بعد وہ اس کا باپ اور اس کا چھوٹا بھائی سمندر میں اپنے چھوٹے جہاز پر مچھلی کے شکار کیلئے نکلے ہوئے تھے۔ اس رات انہوں نے دو تین گھنٹوں میں ہی بہت ساری مچھلیوں کا شکار کر لیا تھا، موسم کے نشریاتی چینل کے مطابق طوفان قریب پہونچ رہا تھا، اس کے باپ نے فیصلہ کیا کہ اب واپس چلا جائے۔
اور صبح کی پو پھوٹنے سے پہلے ہی بندرگاہ پر اترجانا چاہئے۔۔ جیسے جیسے وہ اندرونِ سمندر سے ساحل کیطرف بڑھنا شروع ہوئے ،بارش شدت اختیار کرتی گئی اور ہوائیں طوفانی شکل اختیار کر گئیں۔ جیسے ہی وہ غیر آباد جزیرے کے پاس پہونچے اس کے باپ نے کہا کہ سیمنٹ کنکریٹ سی بنی بندرگارہ میں جانا خطرناک ہے۔
غیر آباد جزیرے کے کھلے ریتلے ساحل پر پڑاؤ ڈالا جائے اور طوفان کے تھمنے کے بعد واپس جایا جائے۔ انہوں نے ساحل سے قریب سے قریب تر ہو کر لنگر پھینکا اور اس کا باپ رسہ پکڑ کر ساحل کے پاس نظر آنے والے درخت سے رسہ باندھنے پانی میں اتر گیا ۔
جیسے ہی اس کے باپ نے رسہ درخت سے باندھا ،زور سے بجلی گرجی  تو ان سب کی نظر سامنے نظر آنے والی چھوٹی سے پہاڑی پر پڑی۔۔ چھ سات ہیولے انہیں نظر آئے ۔۔سب ایک جیسے ہی تھے۔۔ ان سب کے دماغ میں ایک ہی نام زور سے ابھرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھورا ۔۔۔۔
اس کا باپ دیوانہ وار پہاڑی کیطرف بھاگنا شروع ہو گیا اور زور زور سے پکار رہا تھا۔۔بھورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔۔وہ بھورے کا ہی ہیولا تھا۔۔
بھورا۔۔بھی دیوانہ وار اس کے باپ کیطرف دوڑتا ہوا آیا ۔۔اور ان کے کانوں نے اپنے باپ کے خوشی کے قہقہے سنے اور اس کا باپ اور بھورا۔۔خوشی سے گتھم گتھا ہو گئے۔ بھورے کے پیچھے ہی پیچھے پانچ چھ ہیولے بھی کچھ دیر بعد نمودار ہوئے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے باپ کے خوشی کے قہقہے  چیخوں اور کتوں کی غرغراہٹ میں بدلے گئے۔۔
بھورا دیوانہ وار کبھی ایک کتے سے اور کبھی دوسرے کتے سے بھڑ رہا تھا۔۔آخرکا بھورے نے تمام کتوں کو مار بھگایا۔۔ اور اس کے گرے ہوئے باپ کے پاس بیٹھ کر اوں اوں اوں کی آواز یں نکال کر رونا شروع ہو گیا۔۔
وہ دونوں بھائی جب ڈرتے ڈرتے اپنے باپ اور بھورے کے پاس پہونچے تو بھورا اس کے باپ کا چہرا چاٹ رہا تھا۔۔
اور اس کا باپ اپنی آخری سانسیں پوری کر چکا تھا۔۔بھورے نے اس کی طرف دیکھا ۔۔اور سر جھکا لیا۔۔ انہوں نے باپ کی لاش اٹھائی اور کشتی  پر لے آئے۔۔اور وہ دونوں بھائی کشتی پر گم سم بیٹھے رہے۔۔ساحل پر جس جگہ ان کے باپ نے آخری سانسیں لیں تھیں وہاں پر ساری رات بھورا بیٹھا روتا رہا۔۔
بھورا تو خوشی سے اس کے باپ سے گتھم گتھا ہوا تھا اور بھورےکے گروہ کے دیگر کتوں نے  جو کہ شاید اسی کی اولاد تھے نے سمجھا کہ بھورے نے شکار مار گرایا ہے۔۔۔

صبح ان کی کشتی کے ساحل چھوڑنے تک بھورا ریتلے ساحل پر ہی بیٹھا کشتی کیطرف ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ باپ کی لاش کو لیکر جیسے ہی بندرگاہ تک پہونچے تو سارا گاؤں بندرگاہ پر جمع تھا اور انہی کیلیے پریشان کھڑا تھا۔۔
چند دن بعد آس پاس کے علاقے سے شکاری جن کے پاس رائفل کا لائیسنس تھا جمع ہوئے اور پولیس کے ساتھ غیر آباد جزیرے پر بھورے اور اس کے گروہ کے کتوں کو مارنے کیلئے گئے ۔ لیکن انہیں جزیرے پر بھورے سمیت کوئی بھی کتا نظر نہیں آیا۔۔
اس کے بعد بھی کئی بار تلاش کی جاتی رہی لیکن بھورا اور اس کا گروہ کسی کو نہیں ملا۔۔ ہاں کبھی کبھی کوئی ضرور کہتا تھا کہ اس نے بھورے اور اس کے ساتھ پانچ چھ بھورے جیسے ہی کتوں کے ہیولے دیکھے ہیں۔۔

لیکن سننے والا خاموشی سے کچھ کہے بغیر فقط سر کو ہلا دیتا تھا۔۔
غلط فہمی غلط فہمی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:38 PM Rating: 5

1 تبصرہ:

iftikhar Raja کہا...

بہت اعلیٰ جی، ہمارے ہاں آجکل سیاہ سی طور پر ایسی ہی فضا بنی ہوئی ہے
کہ غلط فہمیوں پر ہی کام چل رہا اور چلایا جارہا ہے۔ ایک وہ باوا بھی ہوا کرتا تھا، وہ بھی غلط فہمیوں پر ہی ہر کسی پر چڑھ دوڑتا تھا، ہلا ہلا کرکے۔

پر خیر، مرنے والے نے تو مرنا ہی ہوتا ہے اور بھورا بھی تو پھر ادھر رات دن پھوڑی ڈال کر رہا۔ پھر جان بچانا فرض ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.