احساس کا درد

خالق نے تخلیق کیا اور
بتا دیا کہ
اتنا ہی بوجھ ڈالا جائے گا جتنا برداشت کر سکو گے۔
"ہمت" کر "برداشت" کر یا "پاس " کر۔
یہاں سے دو طبقے وجود میں آجاتے ہیں ،
"ذمہ دار" اور "غیر ذمہ دار"
اور یہی "مشکل" ہے ، کہ ہم "ذمہ دار" اور "غیر ذمہ دار" میں فرق نہیں کر سکتے ۔۔شاید اسے ہی "احساس" کا ہونا اور نہ ہونا کہتے ہیں۔
یا "احساس" کرنے والا اور "احساس" نہ کر سکنے والا کہہ سکتے ہیں۔
"غیر ذمہ دار" اپنا سارا بوجھ "احساس ذمہ داری" رکھنے والے پر ڈال کر ہاتھ جھاڑ لیتا ہے۔
اور ایک تسلسل کے ساتھ "احساس ذمہ دار" پر "ذمہ داری" کا بوجھ ڈالنا اور حیلے بہانے اختیار کر لیتا ہے۔
یہ حیلہ بہانہ مذہب بھی ہو سکتا ہے اور جذباتی بلیک میلنگ بھی ہو سکتی ہے۔۔
عمومی بات جو جتائی جاتی ہے۔ وہ یہ ہوتی ہے ، کہ اس کا اجر اللہ دے گا اور آخرت میں درجات بلند فرمائے گا۔۔
اس اجر اور آخرت کے درجات بلندی کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے سے "غیر ذمہ دار" بھاگ جاتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ "مذہب" کو پیشے کے طور پر اختیار کئے ہوئے شخص کی "جیب" کیطرف "صدقات و خیرات" کیلئے کوئی دیکھتا ہے؟
یہ "مذہبی پیشہ ور" پادری ، سادھو، بھکشو ، صوفی ،پیر، مولوی کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے تقدس یا مقدس ہونے کا ہم انکار نہیں کر رہے۔یہ صرف ایک مثال ہی تو ہے۔
بات سمجھنے کیلئے اس مثال کو "برداشت" کریں یا "پاس" کریں  :D
آپ نے دیکھا ہو یا نہ ہو۔
میں نے دیکھا بھی ہے اوراس دیکھنے پر مجبور ہونےکے محرکات پر سوچا بھی ہے۔
میں نے دیکھا تھا کہ ایک اوور لوڈڈ ٹرک جیسے ہی چڑھائی پر پہونچا تو "بوجھ" پچھلی طرف حرکت کرنے کی وجہ سے ٹرک چڑھائی پر پیچھے سے بیٹھ گیا ۔
اور اس کا کیبن والا حصہ فضاء میں معلق ہو گیا۔اور ڈرائیور خوفزدگی سے بڑی احتیاط اور مشکل سے کیبن سے نکل کرباڈی کے ساتھ لٹکتے اٹکتے زمین پر اترتے ہی دوڑ کر ٹرک سے دور کھڑا ہو کر حیرت اور پریشانی سے ٹرک کو دیکھ رہا تھا۔
ٹرک پر "بوجھ " ڈالتے وقت "بوجھ " ڈالنے والوں اور اس ڈرائیور کی "غیر ذمہ داری " ہی تو ہے ، کہ یہ "اندازہ" نہیں لگا سکے کہ "نقصان" بھی ہو سکتا ہے۔
اس غیر ذمہ داری کو ہم "بد عقلی" کا نام بھی دے سکتے ہیں۔اور " غیر دور اندیشی" بھی کہہ سکتے ہیں۔۔"عقل اور "دور اندیشی" اختیار نہ کرنے کو ہم "غیر ذمہ داری" کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔
یہ "نقصان" سانحہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور ڈرائیو شافٹ یا راڈ کے ٹوٹنے اور پنکچر کا بھی ہو سکتا ہے۔
یہ تو ایک "بے روح" اور "بے جان" پر بوجھ ڈالنے کے نقصانات ہوسکتے ہیں۔ جس کا ازالہ کرنے کیلئے کسی کی "جیب" پر ہی بوجھ پڑے گا۔
میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ
ایک گدھا گاڑی والا جب گدھے کی قوت و برداشت سے زیادہ "بوجھ" ڈالتا ہے تو گدھا گاڑی کا بوجھ پیچھے کیطرف منتقل ہونے کی صورت میں گدھا فضاء میں معلق ہو جاتا ہے۔
اور بے بسی ، لاچاری ، محتاجی سے فضاء میں ٹانگیں چلا کر اپنی بے بسی و لاچاری کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔اور کسی کی مدد کی محتاجی کا منتظر ہوتا ہے۔
تماشہ دیکھنے والے!۔
ڈرائیور اور گدھا گاڑی والے کی بیوقوفی بد عقلی جہالت پر قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں۔اور بہت کم لوگ گدھے اور ڈرائیور کی بے بسی لاچاری اور محتاجی کا "احساس" کرتے ہیں۔
ڈرائیور ٹرک کے مالک یا سامان کے مالک کے آگے مجبور و بس ہو سکتا ہے ، اور گدھا بیچارا سوجھ بوجھ ہی نہیں رکھتا۔
گدھے کو مار پیٹ کر ہانکا جائے تو "بے زبان" مار پیٹ کی تکلیف سے بچنے کیلئے اپنی تمام توانائیوں سے آگے کیطرف چلنے کی کوشش کرتاہے۔
یہاں پر ہم "احساس " کر سکنے اور نہ کر سکنے والوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔
خالق تو اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے۔ جس کا اسے معلوم ہوتا ہے کہ "مخلوق" اتنا ہی بوجھ اٹھا سکتی ہے۔
لیکن "مخلوق" اپنے "غیر ذمہ درانہ " رویئے کی وجہ سے "مخلوق" پر بوجھ پر بوجھ ڈالے جاتی ہے۔
اور دو گروہوں میں بٹ کر ایک گروہ قہقہے لگا رہا ہوتا ہے اور دوسرا گروہ دردمندی سے افسوس کر رہا ہوتا ہے۔
فرق صرف "احساس" کا ہے۔ جو جیسا محسوس کرتا ہے ویسا ردعمل دکھاتا ہے۔۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اکثریت کا شمار قہقہے لگانے والوں میں ہوتا ہے۔
"خالق" تو "مخلوق" پر اس کی برداشت کے مطابق توازن کے ساتھ بوجھ ڈالتا ہے۔
"مخلوق" ہی "مخلوق" پر عدم توازن اور بداعتدالی سے بوجھ ڈال کر "مخلوق" کو ہی فضاء میں معلق کرکے بے بس و لاچار کر دیتی ہے۔
احساس کا درد احساس کا درد Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:37 PM Rating: 5

2 تبصرے:

Nasreen Ghori کہا...

"خالق تو اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے۔ جس کا اسے معلوم ہوتا ہے کہ “مخلوق” اتنا ہی بوجھ اٹھا سکتی ہے۔
لیکن “مخلوق” اپنے “غیر ذمہ درانہ ” رویئے کی وجہ سے “مخلوق” پر بوجھ پر بوجھ ڈالے جاتی ہے۔"

بہت ہی خوب ۔۔ اللہ تعالیٰ آپکے علم و دانش میں مزید اضافہ کرے۔

راحیل فاروق کہا...

رفتہ رفتہ شعور آ رہا ہے۔ سوئی ہوئی قوم آنکھیں ملنے لگی ہے۔ حقوق کی باتیں ہو رہی ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ حالات بدل جائیں گے خواہ کچھ مدت ہی کیوں نہ گزر جائے۔ مگر بدل جائیں گے۔
آپ اپنا کام کرتے رہیے۔ آپ کی باتوں سے ہوش میں آنے والے کسی اور کو ہوش میں لائیں گے۔ اسی طرح شعور آئے گا۔ مگر مایوس ہونا کفر ہے۔ ہوش میں لائیے اور ساتھ امید بھی دلائیے۔ ورنہ عوام دوبارہ بے ہوش ہو جائیں گے!
خوش باشید۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.