جاپانیوں کا نیا سال

جاپانیوں کا نیا سال
******
جاپانیوں کا نیا سال کچھ یوں ہوتا ہے کہ
جو جوان و نوجوان و لڑکے مڑکے اور لڑکیاں مڑکیاں ہیں۔ وہ تو مستی و خوشحالی میں ایک دوسرے میں مگن رہ جاتے ہیں۔
اور جن پر "معاشرے " نے عمر کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا بوجھ ڈال دیا ہوتا ہے۔
وہ اپنے کاروباری و خاندانی و نجی و ذاتی تعلقات والوں کو سال کے اختتام کا سلام و مبارک باد دینے حاضر ہوتے ہیں۔
اور اسی طرح جب نیا سال شروع ہوتا ہے تو نئے سال کا سلام و مبارک باد دینا لازمی ہوتا ہے۔
پرانے وقتوں جیسے ہماری بھی ایک بھولی بسری ننھی منی ثقافت تھی کہ عید کارڈ ارسال کیا کرتے تھے۔
جاپان میں بھی "نین گا جو" یعنی نئے سال کی مبارک باد کا کارڈ "تعلقات " والوں کو لازمی بھیجا جاتا ہے۔۔
یہ جاپان کی ایک اہم "روایتی ثقافت" ہے۔
بچوں کو جسطرح ہم "عیدی" دیتے ہیں۔ جاپانی بھی بچوں کو عیدی دیتے ہیں۔جسے "او توشی تاما" کہا جاتا ہے۔
یہ تو کسی بھی انسانی معاشرے میں پائی جانے والی "ثقافت" ہے۔ انسانی معاشرہ جس جگہ بھی "نیا سال" پاتا ہوگا ۔
اس طرح کی ثقافت بھی وجود رکھتی ہو گی۔۔اسی طرح جاپانی بھی پینے پلانے اور ہلے گلے کی ثقافت بھی رکھتے ہیں۔
میرے جیسے خشک مزاج لوگوں کیلئے بھی ہلے گلے کا بندوبست ہوتا ہے۔ جیسے آج صبح صبح "مراتھن ریس" کا ایونٹ تیار تھا اور ہم منہ اندھیرے دُڑکی لگا کر آگئے۔  :D
جیسے ہماری " عیدین" پر "میٹھا" اور "بوٹی تکے" کا بندوبست ہوتا ہے۔ جاپانی بھی سال کے آخری دن "توشی کوشی سوبا" کھاتے ہیں ۔ یعنی المعروف نوڈلز یعنی سویاں۔
اس کے علاوہ نئے سال کے پکوانوں میں "او سے چی ریوری" ہوتی ہے جو مختلف اجناس سے تیار کی جاتی ہے۔
ایک مشہور پکوان ہر جاپانی شوق سے نئے سال پر کھاتا ہے ۔ جسے "موچی" کہا جاتا ہے۔
یہ موچی جوتے مرمت کرنے والا نہیں ہوتا۔ لیکن 13 نمبر جوتے کی طرح لچکدار ضرور ہوتا ہے۔ یہ پکوان چاول کو کوٹ کوٹ کر تیار کیا جاتا ہے۔ جسے انگلش میں "رائیس کیک" کہتے ہیں۔
نئے سال پر تقریباً تمام جاپانی اپنے آباؤ اجداد ماں باپ یعنی "مردوں" کی قبروں پر بھی ضرور حاضری دیتے ہیں۔یہ بھی نئے سال کا ایک اہم فریضہ سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مذہبی معاملے میں بھی تقریباً تمام لوگ "ٹیمپل" وغیرہ پر بھی جاتے ہیں۔
اور "بتوں" سے نئے سال کیلئے خوشیوں اور خوشحالی کی "منت ترلے" پیسے ادا کرکے کرتے ہیں ۔
ارے ہاں۔۔۔۔۔۔مسلمانو!
وہ کیا ہے۔ جو ہمارا نصف ایمان ہے ۔ جیسے ہماری ایک عدد "نصف بہتر" بھی ہوتی ہے۔ لیکن "عمر" کے ساتھ ساتھ بد تر لگنا شروع ہو جاتی ہے   :D
یعنی کہ یعنی ہمارا رویہ "نصف ایمان" سے بھی اور "نصف بہتر" سے بھی آجکل پاکستان میں ملنے والے دودھ اور پانی کے علاوہ "مذہبی و سیاسی" راہنماؤں" جیسا ہی ہوتا ہے۔
جاپانی سال کے آخر میں "اوو سوجی" لازمی کرتے ہیں۔ "اووسوجی" بڑی صفائی کا معنی ہے۔
صفائی تو سارا سال ہوتی رہتی ہے۔ لیکن سال کے آخر میں اس کا خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ کھڑکیاں دروازے صاف کرنا ، غیر ضروری اشیاء کو پھینکنا وغیرہ اس میں شامل ہوتا ہے۔
ہمارے گھر میں بھی یہی ہوتا ہے۔ ہر سال "بڑی صفائی" کی جاتی ہے اور ہم سے کروائی جاتی ہے۔
نئے سال کے پہلے دن اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ کہ فی الحال میرا شمار غیر ضرور اشیاء میں نہیں ہوا۔ اور مجھے نہیں پھینکا گیا۔
اس سال بھی بہت ساری غیر ضروری اشیاء کو پھینکا سوائے بیگم صاحبہ کے  :D
پرانے کپڑے جوتے تصاویر وغیرہ وغیرہ۔
اور دن کے کھانے پر ایک عدد لڑائی بھی بیگم صاحبہ سے ہوئی کہ آپ بے شک نیا سال منائیں ۔
لیکن اللہ دا واسطہ ای۔۔۔۔
مجھے یہ الٹے سیدھے کٹھے میٹھے جاپانی پکوان مت کھلاؤ۔۔کوئی بھونا ہوا گوشت نہیں تو دال ہی پکا دے۔۔۔۔
وہ ہی ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسور کی دال اب رات کے کھانے میں ملے گی۔
نئے سال کی مبارک باد کیا دوں۔۔۔۔۔
پاکستانیوں کا سارا سال مبارکاں سلامتاں ہی دیتے لیتے گذر جاتا ہے۔۔
ابھی اٹلی گیا تھا تو علی حسان نے بتایا تھا کہ
ایک ایرانی اور ایک پاکستانی بھی ان کے ساتھ ادھر ایسٹونیا کی یونیورسٹی میں پائے جاتے ہیں۔
ایک دن علی اور ایرانی بیٹھے ہوئے تھے کہ دوسرے پاکستانی صاحب آئے اور صرف اور صرف ایرانی کیطرف منہ کرکے انتہائی عقیدت سے بولے۔۔۔ مقدس ہستی بی بی کا جنم دن مبارک ہو۔۔
ایرانی جو کہ کٹر شیعہ تھے۔۔وہ حیرت سے بولے ۔۔یہ کیسی مبارک باد ہے؟ تاریخ پیدائیش کہاں سے معلوم ہوئی ؟
بس جناب ہم پاکستانیوں کی مبارکاں سلامتاں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں۔۔۔
ہماری طرف سے"میری کرسمس" کی مبارک ہی قبول فرمائے۔۔۔  :D
جاپانیوں کا نیا سال جاپانیوں کا نیا سال Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:04 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.