لوگ تو کہیں ہی گئے۔



شخصیات، اشیاء ، نظریات ، خیالات کے بارے میں تھوڑے زیادہ یا محتاط انداز میں "لوگ" اپنا ہم خیال سمجھ کر "ہم " سے گفتگو کرتے ہیں۔
ہم جب لوگوں سے ان کی "باتیں" سننے کیلئے خاموشی سے کان ان کی باتیں سننے کیلئے کھول دیتے ہیں۔اور کھلنے کیلئے زور دیتی زبان کو بند رکھتے ہیں تو
لوگوں کی اکثریت مطمعین ہو جاتی ہے۔
اور لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں "سمجھتے" ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔
لوگ صرف ہمیں جانتے ہیں ۔...
کیونکہ لوگوں کے سامنے ہماری کوئی "حرکت" ،کوئی "عادت" ہو تی ہے ۔جس سے وہ "قیاس" کر لیتے ہیں۔لوگوں کے سامنے ہمارا "ظاہر" ہوتا ہے۔ہماری سوچ خیالات نہیں ہوتے۔ہم کیا محسوس کرتے ہیں کیا سوچتے ہیں۔
لوگ یہ نہیں جانتے۔ہماری اب تک کی زندگی کیسے گذری ہمیں زندگی نے تجربات ، مشاہدات سے کیا سبق دیا۔ہماری "روح" ہماری "سوچ" پر کیسے کیسے سانحے گذرنے کے بعد اس وقت کی ہماری "زندگی" وجود رکھتی ہے۔
یہ لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا۔اور اسے جاننا لوگوں کیلئے کوئی اہمیت بھی نہیں رکھتی۔
لوگ قیاس کرتے ہیں ، "گمان" کرتے ہیں، یہ "گمان" ہر دو طرح کا ہو سکتا ہے۔ "خوشگمانی" بھی اور "بد گمانی" بھی۔
"ہمارے" متعلق لوگ اپنے قیاس و گمان سے "ہمارا" ایک "کردار" ہماری "زندگی" کا ایک تصور قائم کر کے "اپنی " سوچوں کی "خالی جگہ" پُر کر لیتے ہیں۔
جس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور ہماری زندگی اور کردار لوگوں کے ذہنوں میں ان کی سوچ کی "خالی جگہ" کو پُر کرکے زندہ رہتا ہے۔



جب تک "ہم" خواہش نہ رکھیں اس وقت تک کوئی ہمیں نہیں جان سکتا، جب تک ہم اپنے محسوسات اپنے خیالات لوگوں کو بتائیں گے نہیں لوگ ہمارے "اصل" کو "چھو" بھی نہیں سکتے۔
اپنے "ظاہر" کو ہم "خوش اخلاقی ،مہذبانہ انداز" کے لبادے میں لپیٹ سکتے ہیں۔
اور اپنے "باطن" کی ساری توانائیوں کو اس پر مرکوز کر سکتے ہیں کہ کسی کو تکلیف نہیں دینی کسی کا حق نہیں مارنا شرپسندی سے بچنے کی کوشش کرنی ہے۔
اس سے ہم ہلکے پھلکے ہو کر اپنے من پسند انداز میں اپنی "زندگی " گذار سکتے ہیں۔
اپنے محسوسات اپنے خیالات لوگوں کے سامنے لانے کے باوجود بھی لوگ ہمارے متعلق "قیاس" ضرور کریں گے ۔
اور ہماری غیر موجودگی میں ہمیں اپنی "گفتگو" میں شامل ضرور رکھیں گے۔
یعنی ہم کسی صورت میں لوگوں کے "اذہان" کی قیاس آرائی ، بدگمانی ، خوش گمانی سے بچ نہیں سکتے ۔
لیکن ہم لوگوں کا تین حصوں میں بٹوارہ ضرور کر سکتے ہیں۔
کہ "لوگ" تین اقسام کے ہوتے ہیں۔
ایک ---- اعلی اور بہترین لوگوں کی قسم
ہمارے "نظریات" ہمارے "خیالات" کو "موضوعِ گفتگو" بنائے گی۔
دو------ اس سے نچلی قسم
ہمارے پاس پائی جانے والی "اشیاء" کو" موضوعِ گفتگو" بنائے گی
تین----ذہنی طور پر پست اور اکثریت کی قسم
آپ کی شخصیت ، ذات اور آپ کی نجی زندگی کو "موضوعِ گفتگو" بنائے گی۔
تیسری قسم سے ہم اس کی ذہنی سطح کے مطابق رویہ اپنا ئیں گے تو ان سے "معاملات" خوش اسلوبی سے چل سکتے ہیں۔
پہلی اور دوسری قسم کے لوگ ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو دیتے ہیں۔
کوشش رہنی چاھئے کہ پہلی اور دوسری قسم کے لوگوں سے ہی اپنا حلقہ احباب بنا رہے۔
پہلی قسم کے لوگوں سے ہم اپنے نظریات ، خیالات کی اصلاح یا ان پر نظر ثانی کرنا سیکھتے ہیں۔
دوسری قسم کے لوگوں سے ہمیں اپنے پاس پائی جانے والی "اشیاء" کی اہمیت نظر آتی ہے اور ہم ان اشیاء کا ہمارے لئے مفید یا نقصان دہ ہونا سیکھتے ہیں۔
اور تیسری قسم کے لوگوں کو ہم صرف اور صرف نظر انداز ہی کر سکتے ہیں۔


لوگ تو کہیں ہی گئے۔ لوگ تو کہیں ہی گئے۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.