سفرِیورپ اور میری “ابنِ بطوطیاں” دوسری قسط

نکلے تو اٹلی کیلئے تھے، لیکن ائیر لائن کیوںکہ جرمنی کی لفٹ ھانسا تھی ، اس لئے جرمنی کے شہر فرینکفروٹ سے ہمیں "ای یو" میں انٹری مارنی تھی۔
فلائٹ لیٹ ہو جانے کی وجہ سے فرینکفروٹ سے وینس کی فلائٹ کینسل ہو چکی تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پائلٹوں وغیرہ نے ہڑتال کی ہوئی ہے۔
اس لئے سات تاریخ کو کوئی بھی فلائیٹ میسر نہیں ہے۔مزید معلومات کیلئے لفٹ ھانسا کے کاؤنٹر پر جانا تھا۔
"پاکی" ہونے کی وجہ سے کھٹکا تھا کہ جاپانی پاسپورٹ دیکھ کر شاید امیگریشن پر ایک طرف کھڑا ہونے کا کہا جائے۔
لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا تو خود ہی چھیڑ خانی کیلئے پوچھ لیا کچھ سوال جواب نہیں کرنے؟
امیگریشن آفیسر ہنس کر بولا کیا پوچھوں؟
خود ہی بولا جاپانی تو لگتا نہیں ہے۔۔بحرحال جاپانی ہی ہوگا اور کندھے اچکا دیئے۔۔
مجھے کچھ تسلی نہ ہوئی تو پوچھ لیا ۔۔یار یہ تو بتا ائیر پورٹ پر وائی فائی مفت میں مل جائے گی؟
بولا ۔۔آہو مل جائے گی۔ موجاں کر۔۔
میں نے کہا چل وائی فائی تو مل گئی ہوجائے پھر ایک عدد ھائی فائی؟
میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور آفیسر نے بھی ہاتھ کھڑا کرکے زور سے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور دونوں نے زور کا قہقہہ لگا دیا۔۔
وہاں موجود دیگر افراد نے ہمیں گھورا اور ہم دونوں کچھ کھسیانے ہو گئے ۔ میں بائے کہتے ہوئے آگے کھسک گیا۔۔
جرمن کے متعلق میرا پہلا تاثر یہی تھا ، کہ کافی فرینڈلی اور انسان دوست ہوتے ہیں۔
ساتھ میں میرے ذہن میں خیال آیا کہ جرمن اور پنجابی میں کیا فرق ہو سکتا ہے؟  :D
لفٹ ھانسا کے کاؤنٹر والے نے مشورہ دیا کہ یہاں سے ٹرین سے بھی جایا جا سکتا ہے اور آپ کو فائیو سٹار ہوٹل کے علاوہ بیس یورو ڈنر کیلئے بھی اداکئے جاسکتے ہیں۔
جاپان سے 13 گھنٹے کی فلائیٹ کے بعد کس جوان کے بچے میں ہمت بچتی ہے کہ وینس تک ٹرین پر جائے۔۔
ہم نے بیس یورو جیب میں ڈالے اور ہوٹل کے کمرے کیطرف چل پڑے۔رات کا ڈنر ابلے ہوئے آلو گوبھی کھائے ساتھ میں کچے ٹماٹر کھا کر ڈکار مار لی اور لمبی تان کے سو گئے۔
رات کے چار بجے آنکھ کھل گئی پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ نیچے جا کر دیکھا تو میرے جیسوں کیلئے کھانے پینے کی اشیاء پڑی ہوئی تھیں۔۔ہر شے میں کیونکہ خنزیر ہوتا ہے۔۔
اس لئے ہم نے سیب اور دودھ ہی لیا۔۔صبح چھ بجے کے بعد ناشتہ کھلا تو پوچھ پوچھ کر مزید دہی اور فروٹ وغیرہ نوش لیا۔
ساڑھے سات بجے چیک آؤٹ کرکے مین سٹی کو دیکھنے کا قصد کیا ۔۔ہوٹل کی شٹل بس سے ایک بار ائیر پورٹ گئے اور اس کے بعد ٹرین سے فرینکفروٹ "مین سٹی" پہونچ گئے۔
منحوس صرف پاکستان میں ہی نہیں پائے جاتے ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔۔صبح کے وقت ہر طرف ویرانی ہی ویرانی۔۔نہ بندہ تے نہ کھوتے دی ذات۔۔
اب کیا کروں!!
ساڑھے آٹھ کا وقت تھا۔۔ایک کیفے شاپ کھلا تھا۔۔آنٹی ایک کاؤنٹر پر موجود تھیں۔ انہی سے کہا کہ ایک عدد کافی اور وائی فائی کا پاسورڈ دے دیں۔۔
آنٹی منحوس نے کافی تو ایک یورو میں دے دی ، لیکن وائی فائی نہیں ہے کہہ کر منہ چڑھا دیا۔
ایک کافی سے آدھا گھنٹہ گذارا لیکن طبیعت بے چین ہوئی تو سٹیشن سے ہی شہر کا نقشہ پکڑ کر چل سو چل ہر طرف رات کا گند ہی گند پڑا تھا ،
شرابی اور ہوم لیس ادھر ادھر لڑھکے پڑے تھے۔۔
گارا گارا گارا کی موسیقی جو کہ میرے بیگ کے ٹائیروں کے باجے بجنے سے نکل رہی تھی سنتے ہوئے کم ازکم کوئی دس پندرہ کلو میٹر چلا ہوں گا کہ واپس سٹیشن پہونچ گیا۔۔
سٹی سینگ بس والی آنٹی آوازیں ماری رہی تھی کہ پنڈی اے پنڈی پنڈی باروں بار اے۔۔
یعنی پیسے لیکر شہر کی سیر بس سے کروا دے گی۔۔
بس میں آدھا پونا گھنٹاگھوم پھر کر سٹیشن واپس آئے اور ائیر پورٹ کیطرف نکل گئے۔۔
یہاں پر تیونسی ، کرد ، مراکشی ، ترکی کثرت سے نظر آئے ٹائیلٹ کی صفائی ستھرائی یہی لوگ کرتے نظر آئے۔۔
ان کی عربی نسل کی زنانیاں اپنی پوری فحاشی کے ساتھ نظر آرہی تھیں ۔۔باقی تارکین وطن عرب شکل و صورت کے مرد حضرات بھی آتی جاتی خواتین پر آوزے کستے نظر آئے۔۔
زیادہ تر پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور ہی نظر آئے۔
بحرحال فرینکفروٹ سٹی میں ہمیں کچھ دیکھنے کی شے نظر نہیں آئی گند ہی گند کا تاثر لئے ہوئے ائیر پورٹ پہونچ کر سبزیوں کے سینڈ وچ سے لنچ کیا ۔
فرینکفروٹ سے وینس کی فلائیٹ پکڑی ، موسم اچھا تھا۔عموماً ہوائی جہاز پر میں ونڈو والی سیٹ نہیں لیتا۔
اس دن کچھ سوچا نہیں تھا۔ اور مجھے ونڈو والی سیٹ ملی تھی۔اس کا فائدہ ہی ہوا۔۔
پہاڑ وغیرہ کم بلند اور  راستے میں نہ ہونے کی وجہ سے جہاز زیادہ بلندی پر پرواز نہیں کر رہا تھا۔
جہاز بادلوں کے نیچے نیچے محو پرواز رہا۔ جب سورج غروب ہونے لگا تو انتہائی حسین منظر دیکھنے کو ملا۔۔
آنکھوں کو تسکین دینے والی لالی جو سورج کے غروب ہونے سے پیدا ہو رہی تھی۔بادلوں کو نیچے سے چھو رہی تھی۔
جس سے قدرت کے حسین مناظر نظر آرہے تھے۔
وینس ائیر پورٹ پر پہونچا تو باہر کوئی نظر نہیں آیا۔وینس ائیر پورٹ پر وائی فائی کام نہیں کرتا۔۔
ابھی موبائل کے ساتھ چھیڑ خانی کر ہی رہا تھا ۔ ہمارے لنگوٹئے راجہ جی کسی سے فون پر باتیں کرتے ہوئے آگئے۔
پیچھے پیچھے ہلکی ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجائے علی حسان بھی دھیمے دھیمے چلتے نظر آئے۔۔
سفر کی ساری تھکاوٹ دور ہوگئی۔گلے شلے مل ملا کر راجہ جی کی سواری پر سوار ہوئے اور لاہور والی نہر کے ساتھ ساتھ "پادوا" کیطرف چل پڑے۔۔وینس میں "پادوا" راجہ جی کا رہائیشی شہر ہے۔
راستے میں راجہ جی نے ایک جگہ کیفے بار میں ہمیں اٹلی کی کافی پلائی اور یہاں پر ہم نے قدیم پن چکی کا بھی معائینہ کیا ۔۔
اس سے بھی قدیم پن چکی ہمارے پاکستان کے گاؤں میں ابھی بھی  پورے زور و شور سے کام کر رہی ہے۔
جسے ہم لوگ "جندر" کہتے ہیں۔اس پر اناج پیس کر آٹا بنایا جاتا ہے۔راجہ جی نے ہمارے لئے رہائیش کا بندوبست کیا ہواتھا۔
رات وہاں گذاری دوسرے دن راجہ جی کی  دختر نیک اختر بیمار تھیں تو راجہ جی نے ان کو اسپتال لیکر جانا تھا۔
میں اور علی حسان پیدل ہی "پادوا" کی سیاحت پر نکل گئے۔اس دن ہم بیس اکیس کلومیٹر چلے ہوں گے۔
پیر انٹونیو کے داتا دربار کیطرف گئے اور وہاں پر "تبرک" چھوڑنے کی حاجت ہوئی تو پیر صاحب کو فیض یاب کردیا۔
لیکن تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے کہ انتہائی صاف ستھر ے بیت الخلاء تھے۔ اس کے علاوہ بھی پیر صاحب کا دربار بہت ہی صاف ستھرا تھا۔ جس میں پیر صاحب کے بال ،ھڈیاں ، ناخن ، دانت ، وغیرہ محفوظ کئے ہوئے ہیں۔
ساری دنیا سے عقیدت مند یہاں منتیں ماننے آتے ہیں۔ایک ہم ہی بد نصیب کہ لاحول پڑھی اور کسی قسم کی متبرک شے کی زیارت کرنے سے اجتناب فرمایا۔
باہر ہی سے طرز تعمیر کی تعریف کی اور دربار کے باہر بندھے ہوئے کتے سے گپ شپ لگائی۔۔
اطالوی مجھے اس لئے بھی اچھے لگے کہ ان کے کتے دیکھ کر میرے دل میں شفقت پدری بیدار ہو جاتی تھی۔۔
تاڑو بہت یاد آیا تھا۔۔
زیادہ تر گندے لوگوں نے کتے پالے ہوئے ہیں۔۔کتے بھی کوئی پالنے کی شے ہے۔۔نہ کھا سکو اور نہ دودھ نچوڑ سکو۔۔
کتا اسے لئے ناپاک اور حرام ہے کہ ہم اسے حلال کرکے اس کے تکے نہیں بنا سکتے۔۔
جو جانور کھایا نہ جا سکے وہ حرام ہوتا ہے۔
وینس میں ہر گلی ، محلے ،چوراہے میں ایک عدد "عبادت گاہ" پائی جاتی ہے۔ اور چوراہے پر ایک عدد "درگاہ" پائی جاتی ہے۔۔
ہر گھنٹے بعد "عبادت گاہوں" سے گھنٹیوں سے "بانگیں" دی جاتی ہیں۔یعنی کہ کافی مذہبی ماحول ہے۔۔
ان عبادت گاہوں سے اگر صلیب ، اور مجسمے اتار دیئے جائیں تو بنی بنائی مساجد ہیں۔۔
طرز تعمیر بالکل مساجد کی طرح ہی ہے۔۔ بڑے بڑے  مینار اور محراب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میناروں پر چڑھ کر "بانگیں" بھی دی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر کیا خیال ہے؟ میرا خیال تو نیک ہی ہے۔۔لیکن ھائے قسمت کہ اپنے گھوڑے ہی کاٹھیوں کے بغیر ہیں۔
بحرحال دوسرا دن بھی اسی طرح گھومتے گذر گیا۔۔
تیسرے دن میں اور علی حسان وینس شہر گھومنے چلے گئے، جو کہ پانیوں کا شہر مشہور ہے۔ محلات کے اندر نہریں گذر رہی ہیں اور کشتیوں سے سارا شہر گھوما جا سکتا ہے۔۔
میں اور علی حسان اس دن بھی پندرہ بیس کلو میٹر پیدل ہی سارا شہر گھومتے رہے۔
شام کو بدھو گھر کو لوٹے  راجہ جی اور ان کے ایک عزیز دوست جو کہ اب ہمارے بھی دوست ہیں ۔ ان کے ساتھ مقامی پیزا ریسٹورنٹ میں اٹلی کا پیزا سیر ہو کر کھایا۔
اسی طرح پلان بن گیا اور ہم اٹلی کے ساتھ والے ملک سلوانیہ گاڑی پر چلے گئے۔۔
بس اس دن میری اور راجہ جی کی خر مستیاں اور گپ شپ سن کر علی حسان نے ہمیں کوئی ہزار بار بڈھے چوول وغیرہ کہا ۔۔
بس بچونگڑا غصہ کر جاتا ہے۔۔
ورنہ میں اور راجہ جی تو ہیں ہی شریف اور معصوم بندے۔۔
آیا وڈا چھل چھبیلا تے سجیلا جوان۔۔
ہماری تو عادت صبح صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی آپوں آپ آنکھ کھل جاتی ہے۔۔اور رات کو نیند جلد آجانے کی وجہ سے تقریباً مد ہوش ہی ہو جاتا ہوں۔۔
علی حسان ہمارے جلد سونے اور جلد جاگنے سے سخت نالاں ہی ر ہے۔۔نالاں ہونا علی حسان کا ذاتی معاملہ ہے ہماری تو شریفانہ عادت ہے جلد سونا اور جلد جاگنا۔۔
اور تین ٹائم ڈٹ کے کھانا۔
ہم کوئی آلسی ، نیستی مارے تو ہیں نہیں کہ دوپہر تک سوتے رہیں۔۔ویسے جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ ہمارے گھر میں چھوٹے بڑے سب کو صبح جلد اٹھنے کی بیماری ہے۔۔
کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو ہوتی رہے  تے سانوں کی۔
جمعے کی نماز "پادوا" کی مقامی مسجد میں پڑھی۔
سادہ سی مسجد تھی۔اور کافی تعداد میں مختلف ممالک کے مسلمان آئے ہوئے تھے۔
شاید بنگالیوں پاکستانیوں کی مساجد بھی "علیحدہ علیحدہ" حسبِ فرقہ پائی جاتی ہوں۔ لیکن ہمیں صرف عربوں کی مسجد ہی جانے کا اتفاق ہوا۔
دلچسپ بات جو مجھے یہاں نظر آئے۔ اس مسجد کے ساتھ ہی عیسائیوں کا "چرچ" تھا۔
مسجد والے "بانگیں" دیتے ہیں اور "چرچ" والے "گھنٹیاں" بجاتے ہیں۔
لیکن ایک دوسرے کو تکلیف نہ دینے کی سخت احتیاط کرتے ہیں۔
احتیاط نہ کریں تو سیدھی سی بات ہے۔ "قانون" متحرک ہو گا۔ اور قانون سے سب ڈرتے ہیں۔اماں ابا کا خوف ویسے کسی میں دکھائی نہیں دیا۔۔
یعنی سارے ہی اپنے اپنے "ایمان" پر ہی صبر شکر کئے ہوئے ہیں۔ دوسرے کے "دین ایمان" کی پریشانی کسی کو بھی نہیں!۔
ہفتے والےدن علی حسان کی ایسٹونیا واپسی تھی ۔"جولیٹ" کی درگاہ راستے میں ہی پڑتی تھی اس لئے پلان بنا کہ جولیٹ کی درگاہ پر حاضری دی جائے اور اس کے بت کو "ہاتھ" گا کر "خوش نصیبی" حاصل کی جائے۔
"رومیو جولیٹ" کے قصے کی حقانیت نہ جانے کیا ہو گی۔
لیکن "ولیم شکسپیئر" نے ان کا "معاشقہ" لکھ کر انہیں امر کردیا ۔اور مائی جولیٹ کو عبرت کا نشان بنا دیا کہ ہور کر عشق اور ماں باپ کی ناک کٹوا۔!!۔
ساری دنیا کے بوڑھے بچے عورتیں مرد یہاں آتے ہیں ۔
اور جولیٹ کے مجسمے کے دائیں "عضو نسوانیت" کو ہاتھ لگا کر "خوشی نصیبی" حاصل کرنے کی "فحاشی" کرتے ہیں۔
ہم تو اتنی فحاشی دیکھ کر ہی "حواس باختہ" ہو گئے تھے ۔
اور اونچی اونچی آواز میں لاحول پڑھنا شروع ہو گئے تھے۔چند دن پہلے ہی فرانس پر دہشت گردی کا حملہ ہو چکا تھا۔
عربی سن کر وہاں موجود تمام لوگ گردن موڑ موڑ کر مجھے دیکھنے لگ گئے تھے۔
میرے ساتھ موجود بلال امتیاز۔ علی حسان ،اور راجہ جی بھی پریشانی ہو کر میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے "زبردستی" خاموش کروانا شروع ہو گئے ۔
اللہ دا ناں ای کیوں کسی مصیبت میں پھنساتاہے۔
بحرحال ہم نے "وینس" کا سفر بہت انجوائے کیا اور راجہ جی سے ہماری محبت مزید بڑھی۔ اچھے دوست دنیا کے کسی کونے میں بھی ملیں ،انہیں وصول کر لینا چاھئے کہ زندگی بہترین اور اچھے دوستوں سے خوبصورت ہو جاتی ہے۔۔
شکریہ راجہ جی علی حسان اور دیگر ملنے والے تمام احباب۔۔
سفرِیورپ اور میری “ابنِ بطوطیاں” دوسری قسط سفرِیورپ اور میری “ابنِ بطوطیاں” دوسری قسط Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:09 AM Rating: 5

3 تبصرے:

Nasreen Ghori کہا...

خوبصورت

iftikhar Raja کہا...

بزرگو بہت تتی میں ہی لکھ گئے ہو اور شکریہ کہ معاف کردیا آپ نے، ورنہ میں تو ڈر کر ہی ادھر پہنچا تھا کہ اب کتے کھائی ہونی کہ ہونی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مسئلہ ہی کیا ہے۔۔تیسری قسط تو کسی وقت بھی لکھی جا سکتی ہے۔۔۔ :D :D :P

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.