سفرِیورپ اور میری "ابنِ بطوطیاں" پہلی قسط

فارغ تو ہوں ہی پاکستان یاترا کرنا تو مجبوری ہے۔
کہ اماں ابا وہاں رہتے ہیں ، ورنہ مجھے تو ساری زندگانی کا دکھ ہی کھائے جا رہا ہے کہ
پیدا کیوں نہ ہوا ادھر "اپنے" یورپیوں وغیرہ میں ۔
مجبوری ہے "خوامخواہ جاپانی" کے بھیس میں گذارہ کر رہا ہوں ۔
اب اگر اچھا ہوں تو "بڑوں" کی محنت ہے۔۔
میرا کیا قصور ؟ ۔۔۔۔مجبوری ہے جی۔
بس اسی فرصت کی وجہ سے اپنے راجہ جی اٹلی والی سرکاراں کی پونے تین ہزار بار کی سیاحتی دعوت قبول کر ہی لی ۔
اور پہلے اتنی بار ہی بار بار ٹال چکا تھا۔
علی حسان بھی اپنی پی ایچ ڈی کو کنارے لگا چکے تھے یعنی مکمل کر چکے ہیں ،اب بس دستار بندی باقی ہے۔ انہوں نے بھی راجہ جی کی مہمان نوازی کوئی تین سو پینتیسویں باری لازمی انجوائے کرنی تھی وہ بھی اٹلی پہونچ گئے۔ساڈے نال نال۔
نوکری بھی اب پاکستان میں ملنے سے تو رہی ادھر ہی کہیں بیچارہ جگاڑ لگائے گا۔
ابا جی کی کمائی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ابا جی کے ملک پاکستان کو کوئی "علمی " فائدہ تو نہیں ہو گا ۔
"مالی" فائدہ ہی ہوگا اور ان کی اگلی نسل بھی "یورپ" میں سٹیل ہو کرسال میں ایک آدھ بار پاکستان کا چکر اور "زر مبادلہ" بھیجتی رہے گئی۔
قصور یا "دھکا" کس کا؟
ظاہر ہے ہر آنے اور جانے والے حرام خور حکمران کا ہی ہے۔ اور ماں باپ کا بھی ہے۔
عوام کی تربیت کرنا حکومت کے فرائض میں آتا ہے اور بچوں کی تربیت کرنا ماں باپ کا فرض بنتا ہے۔
وہ یوں ہے ، ماں باپ بچوں کی تربیت یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ ماحول خراب ہے، برے لوگوں کی صحبت سے دور رہنا۔
یعنی پہلا سبق ہی شک و شبے اور دوسروں کو حقیر جاننے کا ہوتا۔
ایسے ماں باپ کو صبح دوپہر شام پونے پندرہ پندرہ کوڑے مارنے چاہیں کہ الو کے پٹھوں کو کچھ عقل آئے اور ایسی اولاد معاشرے کو دیں کہ "کہنیاں" اٹھا کر نہ چلے۔
یعنی کہ کسی دوسرے کو تنگ نہ کرنے والی تکلیف نہ دینے کا احساس رکھنے والی اولاد معاشرے میں آئے تاکہ معاشرہ ڈنگروں کا ریوڑ نہیں انسان دوست  محلہ ،گاؤں ، علاقہ ، شہر ، ملک بن جائے۔
حکمران۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے لئے ایک ہی لفظ۔۔۔۔نسلی ہی نہیں ڈی این اے اور جینز کے ****رامی ہیں ۔
کام کا نتیجہ نظر آئے گا تو ان کی بھی تعریف کردیں گے۔ "شریف" فوجی ہوں یا غیر فوجی ان کی تعریف فی الحال لفظ ****رامی ہی ہے۔
عمرانی ہوئے تو ان کا "ع" اور "م" نکال دیں گے ۔
اتنی سی تو بات ہے۔۔ہیں جی
"یورپ " کے شہر فرینکفروٹ کے بعد دیگر اٹلی اور سلوانیہ کے شہروں میں مجھے ملنے والا پہلا تاثر یہی تھا کہ
"انسان دوست" معاشرہ ہے۔ راہ چلتے لوگ ایک دوسرے کو کہنیاں نہیں مار رہے۔ اگر کسی جگہ بھی قطار بنی ہوئی ہے ۔ تو
آپ کو پہلے باری تو ضرور دے دیں گے لیکن آپ کو "انگل" دے کر "پہلے میں" والا کام نہیں کریں گے۔
نہ ہی قطار میں کھڑے ہوئے پیچھے سے آپ کو دھکے مار رہے ہوں گے۔
ٹریفک کا بھی یہی حال "پی پوں پاں" یعنی ھارن کی آواز میں نے  آٹھ دس دنوں میں ایک بار بھی نہیں سنی۔
اور مزے کی بات تو یہ ہے ، کہ "یورپ" میں دن بدن "ٹریفک سگنل" ختم کئے جارہے ہیں۔ کہ حکومت کو اعتماد ہے کہ اب ہماری عوام ڈنگر نہیں انسان بن چکی ہے۔
پھر بھی کوئی ڈنگروں جیسی خصلت دکھا ہی جائے تو دوچار جرمانوں سے اس کی اصلاح ہو جاتی ہے ورنہ ڈرائیونگ لائسنس کینسل کر دیا جاتا ہے اور نئے  سرے بنوانے کا حق دے دیا جاتا ہے۔
اور نیا لائیسنس بنوانے کیلئے پسینے اور پیسے نکلوائے جاتے ہیں پھر اس کے بعد بندہ تاحیات "ڈنگر" بننے کا نہیں سوچتا۔
تعلیم تقریباً مفت ہی ہے۔ یونیورسٹی لیول تک بھی ہر قسم کی سہولت میسر ہوتی ہے۔
پاکستانی یورپ میں اپنی قابلیت ، اہلیت ، صلاحیت کے مطابق کرتب دکھا رہے ہیں۔جو کاروباری ہیں ان میں عام دکانداری سے لیکر کوئی بڑا کاروبار کرنے والے بھی ہیں۔
اور بعض اپنے مخصوص شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ جیسے کہ ہمارے باغ و بہارو گلستان و چمنستاں راجہ جی اپنی ڈاکٹری فیلڈ میں اپنے روزگار سے منسلک ہیں۔
عام مزدور تین سو یورو سے لیکر پندرہ سو دو ہزار یورو کما رہا ہے۔ عام مزدور کے متعلق میرا یہی خیال ہے کہ یہاں جو اتنا خوار ہونا ہے اپنے وطن میں ہی ذلیل ہو جانا بہتر نہیں؟
بحرحال وہ کیا ہے کہ وطن میں وہ کام نہیں کیا جا سکتا جو "ہر کام" یورپ میں کیا جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ جو عزت وطن میں "بچے کی یورپ" میں ہونے کی وجہ  سے "گھر" والوں کو ملتی ہے وہ وطن میں ذلیل و خوار ہونے سے کیا ملنے کی؟
ہمارا بیٹا "یورپ" میں ہوتا ہے۔۔
واہ جی واہ ۔۔۔۔۔۔باشاہو۔۔کیا بات ہے۔۔۔
بس جناب ہمارا مشورہ یہی ہے، کہ جو ذلیل و خوار آپ نے "باہر" جا کر ہونا ہے۔ اتنی ہی ذلت و خواری وطن میں حاصل کر لیں یقین مانئے زندگی آسان ہو جائے گی۔
بس یورپ میں اگر کچھ قابلِ تعریف شے ہے تو "شراب و سڑے ہوئے شباب" تک رسائی انتہائی آسان ہے۔۔
اگر اس کی کشش محسوس کر رہے ہیں تو ضرور یورپ جائے کہ آپ کی جگہ واقعی یورپ میں ہی ہے۔
ویسے ایک بات مزید عرض کرتا چلوں۔۔۔۔۔
بے غیرتی ، بے حیائی ، فحاشی ۔۔۔۔مدر پدر آزادی ،اور دیگر افعالِ قبیع کی یورپ میں انتہائی کمی ہے ۔
یہ ایکسپورٹ کی جاسکتی ہیں ، وطن عزیز میں تو یہ انتہائی ارزاں ہی کیا پاؤں میں رُل رہی ہوتی ہیں۔ چُکو تے ارسالو یورپ کو۔۔
یورپ ایک با حیا ، غیرت مند اور باپردہ ممالک کا گروہ ہے۔ !!!۔
جاری ہے۔

 
سفرِیورپ اور میری "ابنِ بطوطیاں" پہلی قسط سفرِیورپ اور میری "ابنِ بطوطیاں" پہلی قسط Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:29 PM Rating: 5

6 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جناب میں تو ایک ہی فقرے پر قربان ہو گیا ہوں یعنی ” عوام کی تربیت کرنا حکومت کے فرائض میں آتا ہے اور بچوں کی تربیت کرنا ماں باپ کا فرض بنتا ہے۔“ اس کا مطلب بھی نکل آیا خود بخود ۔ حکمران بھی تو کسی کے بچے ہوتے ہیں ۔ اگر اُن کے ماں باپ اُن کی اچھی تربیت کرتے تو وہ خواہ مخوا ہی عوام کی اچھی تربیت کرنے پر مجبور ہوتے ۔
جاپان سے لے کر کیلیفورنیا تک اور سویڈن سے لے کر سری لنکا اور کیپ ٹاؤن تک صرف ایک خواہ مخوا جاپانی ہی نظر آتا ہے جو یاسر ہی ہے اور میری بات کو سمجھتا ہے ۔
آپ کی یا د بہت دنوں سے ستا رہی تھی مگر کچھ ایسا حساب بن گیا ” اور بھی کام ہیں زمانے میں یاسر کی یاد کے سوا“ ۔ بوڑھا یعنی کمزور بھی ہوں اسلئے تھکاوٹ بھی جلد ہو جاتی ہے ۔ ویسے آپ کو بھُلانا بھی بہت ہی مشکل ہے ۔ آپ نے ہمارے ہاتھ میں اپنی یاد کا تعویز جو تھما دیا ہوا ہے ۔ آپ نے پاکستان کا پھر چکر نہیں لگایا ۔ جہاں رہیں خوش رہیں اور والدین کی خدمت کرتے رہیں ۔ والدین کی دعاؤں میں جو اثر ہے وہ حکیم لقمان کے نسخوں میں بھی نہ تھا ۔ اِن شاء اللہ آپ کے بچے بھی آ

افتخار اجمل بھوپال کہا...

اِن شاء اللہ آپ کے بچے بھی آپ کی خدمت کریں گے
لیپ ٹاپ کی مہربانی سے ابھی فقرہ پورا نہیں ہوا تھا کہ شائع ہو گیا تھا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

محترم یاد رکھنے کی محبت کا شکریہ

مقبول حسین اسیر کہا...

جسے آپ سڑا ہوا شباب کہتے ہیں اسی کے لیے تو ادھر گاہک مارے مارے پھرتے ہیں ویسے آپ کا دل اس گلے سڑے معاشرے سے اوبھ چکا ہوگا ادھر سب کی رال بہہ رہی ہے

Nasreen Ghori کہا...

یہ آپ نے اپنا سفر نامہ شروع کیا ہے یا علی حسان کو بھگو بھگو کے مارا ہے۔ :P

iftikhar Raja کہا...

چلو شکر ہےمجھے تو معافی مل گئی، ورنہ میں تو خوفزدہ تھا کہ میری سستیوں پر کلاس لی جاوے گی۔
علی حسان کو جتنامرضی رگڑا لگاؤ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.