پہلی بار پاکستانیوں سے شناسائی

جاپانی بلاگ سے  ماخوذ۔
*
اس دن میں گاؤں سے ٹوکیو پہلی بار گئی تھی۔ ھائی سکول تک اپنے صوبے سے باہر جانے کا موقعہ نہیں ملا تھا۔
ھائی سکول کے بعد ملازمت اختیار کر لی تھی۔۔کچھ پیسے جمع ہوئے تو ٹوکیو کیلئے چار دن کی سیاحت کا پروگرام بنایا۔
ٹوکیو کی سیاحت کے دوران کئی بار انڈین کری ریسٹورنٹ پر نظر پڑی ، ہمارے صوبے میں آجکل انڈین ریسٹورنٹ کافی تعداد میں ہو جانے کی وجہ سے "کری" اور نان اب میرے خیال میں جاپانیوں کیلئے بھی کوئی اجنبی خوراک نہیں رہی ۔۔
لیکن انڈین کے متعلق میرے ذہن میں جو تصور تھا وہ بچپن سے ایک ہی طرح کا ہے۔۔
سر پر بڑی سی پگڑی باندھے ہوئے داڑھی والا قریب جاؤ تو جس سے مصالحہ جات کی بو آئے وہ انڈین ہوتا ہے۔
ٹوکیو جس دن آئی اسی شام کا کھانا کھانے انڈین ریسٹورنٹ چلی گئی۔۔ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔
اس دن جاپان کے شراب خانوں میں تو "مہمان" کم ہوتے ہی ہیں ، لیکن انڈین ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے ناہونے سے عجیب سا "خوفناک" ماحول بنا ہوا تھا۔۔
کیونکہ مجھے "ھارر مووی" بہت پسند ہیں۔
اس لئے مجھے ماحول کچھ زیادہ ہی خوفناک محسوس ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اندرونِ باورچی خانہ سے کوئی سرکٹا نکل کے آنے ہی والا ہے۔
لیکن باورچی خانے کی طرف نظر گئی تو تین انڈین منہ کھولے میری طرف دیکھ رہے تھے جیسے انہوں نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔
پھر جیسے انہیں کچھ یاد آیا تو انہوں نے یک زبان ہو کر "خوش آمدید" کہہ کر جاپانی زبان جاننے کی اطلاع دی ۔
جاپانی میں خوش آمدید سن کر مجھے تسلی ہوئی اور یہ سوچ کر اطمینان کا سانس بھرا کہ سرکٹا آیا بھی تو ڈرانے سے پہلے جاپانی میں ہی کچھ کہے گا۔دل کا دورہ پڑنے سے پہلے جاپانی ہی سننے کو ملے گی۔
کوئی میز تک راہنمائی کرنے والا نہیں آیا تو وہیں کھڑکی کے پاس والی میز پر بیٹھ گئی ۔
اتنے میں ایک پختہ رنگ کا سفید کوٹ پہنے ہوئے انڈین میرے پاس آیا اور منیو میرے سامنے رکھ دیا۔
کوئی غیر ملکی تیز خوشبو میری ناک سے ٹکرائی۔۔
ہمممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انڈیا کی خوشبو ہے شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ۔۔۔چکن کری دے دیں۔۔
انڈین۔۔۔ ساتھ میں چاول دوں؟
میں ۔۔۔نان نہیں ہیں؟
انڈین۔۔ٹھیک ہے نان دیتا ہوں۔
کچھ دیر بعد ایک بڑی تھالی میں کٹوریوں میں سجا میرا کھانا آگیا۔۔
زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔انڈیا ہے بھئی انڈیا ہے۔
میرا ذہن ٹی وی پر انڈین گانوں میں ناچنے والے بہت سارے انڈین کیطرف چلا گیا۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کھانے دیکھنے اور کھانے کی وجہ سے انڈین ناچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کھاتے ہوئے اپنے خیالوں میں مگن تھی کہ
اچانک میرے پاس سے آواز آئی۔۔پہلی باریہاں آئی ہو؟
سر اٹھا کر دیکھا تو وہ سفید کوٹ والا انڈین میرے پاس کھڑا مجھے سوالیہ انداز میں دیکھ رہا تھا۔
ہاں۔۔بلکہ زندگی میں پہلی بار ٹوکیو آئی ہوں اور انڈین کری کھا رہی ہوں۔
اچھا۔۔۔۔۔۔وہ سفید کوٹ والا کرسی گسیٹ کر میرے سامنے بیٹھ گیا۔
مجھے کچھ حیرت ہوئی اور عجیب سا لگا۔۔
جاپانی ریسٹورنٹ میں ایسا ہوتا کبھی نہ دیکھا اور نہ ہی سنا تھا۔۔۔۔
کافی دیر سوال و جواب جیسی گفتگو ہوتی رہی جیسے کوئی انٹر ویو ہو رہا ہو۔۔
میں نے کھانا ختم کرکے ٹشو سے ہاتھ صاف کرنا شروع کئے تو۔۔۔۔
کھانا کیسا تھا؟
بہت مزیدار تھا۔۔
ٹھیک۔۔
چائے پیو گی؟
چائے؟
او۔۔۔انڈین چائے ۔۔جی
معلوم نہیں یہ ڈنر سیٹ کے پیسوں میں شامل ہے یا مجھے زیادہ ادائیگی کرنی ہوگی۔۔یہی سوچ رہی تھی کہ
سنائی دیا ۔۔
میں تمہارے لئے مسالہ چائے لاتا ہوں۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔(معلوم نہیں کتنے پیسے مانگے گا)
مسالہ چائے میرے سامنے رکھ کر۔۔
وہ شخص میرے سامنے ہی سر جھکا کربیٹھ گیا۔۔
اس کے چہرے پر عجیب سی دکھ بھری اداسی چھائی ہوئی تھی۔۔
میں سوچ رہی تھی اسے کیا ہو گیا ہے؟
اتنے میں اس شخص نے قلم نکالا سامنے پڑے ٹشو کو اٹھایا اور
کچھ لکھ کر میرے سامنے ڈال دیا۔۔!!
میں نے ٹشو اٹھایا کر دیکھا تو
I LOVE YOU
لکھا ہوا تھا !!!!
میرے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے اور
وہ انڈین بھی سر جھکا کر میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔
کچھ دیر بعد میں نے ہی زبان کھولی ۔۔
کیا انڈیا میں ایسے ہی محبت ہوتی ہے؟
میں انڈین نہیں پاکستانی ہوں!!
کوئی فرق نہیں پڑتا انڈین بھی پاکستانی بھی ایک ہی ہوتے ہیں۔۔
کیا پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے؟
نہیں ، بس مجھے تم سے ہی ایسا ہو گیا ہے!!
لیکن میں تو کھانا کھانے آئی تھی۔
میری حیرت کی انتہاء نہیں رہی جب میں نے اس شخص کا چہرہ دیکھا تو
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے!!!!!!
مجھے تم سے محبت ہے۔۔میں تمہارے بغیر مر جاؤں گا۔۔کے الفاظ میرے کانوں سے ٹکرائے اور میں حواس باختہ ہو گئی۔۔
کسی طرح دماغ نے کام کیا اور میں نے اسے اپنا فون نمبر دینے کے بجائے میل ایڈریس دیا اور کہا کہ بعد میں رابطہ کروں گئی۔
جانے لگی اور کاؤنٹر پر پیسے دینے گئی تو اس نے کہا ۔۔
یہ تمہارا ریسٹورنٹ ہے ، پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہے !!!
اوہ۔۔۔۔۔میں نے سوچا پہلے دن ٹوکیو آتے ہی میں ریسٹورنٹ کی مالک ہو گئی اور کچھ نا سہی پیسے ادا کئے بغیر کھانا تو مل گیا۔۔۔شاید ۔۔۔۔ٹوکیو ڈریم ۔۔۔اسے ہی کہتے ہیں ۔۔۔جیسے امریکن ڈریم ہوتا ہے ۔۔
اس کے بعد مجھے ابھی تک ای میلز آتی ہیں۔۔
جس میں زیادہ تر دعائیہ کلمات ہوتے ہیں۔
تم جہاں بھی رہو ۔۔خدا تمہیں خوش رکھے۔۔
میری زندگی بھی تمہیں لگ جائے۔۔
جب بھی ٹوکیو آنا ہو۔۔۔تو بھولنا مت ،میں بازو کھولے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔
میری نیندوں کی رانی کہاں ہیں تو۔۔
میری رانی ۔۔آجا آجا۔۔۔ راجہ راجہ آجا آجا
بس مجھے معلوم ہو گیا کہ پاکستانی اور انڈین میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔
پاکستانی محبت کرتے ہیں کھانا مفت کھلاتے ہیں بلکہ ریسٹورنٹ ہی دے دیتے ہیں ۔۔اور پھر ساری زندگی دعائیں بھی دیتے ہیں اور بازو پھیلا کر آنسو بہاتی آنکھوں سے راہ تکتے رہتے ہیں۔۔
پیارے پاکستانیو!!
ایسے ہی رہنا ، اور ایسے ہی محبت کرنے والے رہنا۔۔
۔۔۔۔۔۔تبدیلی کو چھوڑوووووووووووووووو
تبدیلی نہیں آرہی۔۔  :D
پہلی بار پاکستانیوں سے شناسائی پہلی بار پاکستانیوں سے شناسائی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:45 AM Rating: 5

2 تبصرے:

عائشہ کہا...

کمال لکھا جناب نے شکریہ

عمیر کہا...

پہلی ملاقات میں ہی اپنا ریستوران کسی الہڑ دوشیزہ کے نام کر دینا .... یہ یقیناً پاکستانیوں کا ہی ظرف ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کتنے پیار کرنے والے لوگ ہیں ۔ ;-)

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.