اوطاق

اوطاق
***
گھروں میں دیوار کے ساتھ اوطاق بنے ہوتے ہیں "قدِ آدم"کے حساب سے بنے ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں اوطاق "بیٹھک " ، "ڈیرے" ، "حجرے" کو بھی کہتے ہیں۔اور شاید جیل کی کوٹھری کو بھی "اوطاق " کہتے ہیں ۔ مجھے جو یاد ہے، سن کر ٹھیک یاد رکھا یا غلط ،معلوم نہیں۔
میں "اوطاق" اسے ہی سمجھتا ہوں جنہیں ہم الماریاں بھی کہتے ہیں۔
ان میں کتابیں بھی رکھی جاتی ہیں، کپڑے بھی رکھے جاتے ہیں، جوتے بھی رکھے جاتے ہیں۔...
ہمیں معلوم ہوتا ہے۔ کہ "کیا " اور "کہاں" پر اور"کیا" پڑا ہوا ہے۔"کیوں" کا ہم نہیں سوچتے۔۔۔ ہم "اوطاق" کو کھولتے ہیں،
ہم اوطاق میں دیکھتے ہیں، اوطاق کے سامنے کھڑے ہو کر سوچتے بھی ہیں کہ کیا "اٹھانا " کیا "نکالنا" کیا " پڑھنا " کیا "پہننا" چاھئے۔
پسندیدہ یا دل کو جچ جانے والی "اپنی" شے اٹھا کر استعمال میں لے آتے ہیں۔ جوتوں اور کپڑوں کو جسم کی زینت بنا لیتے ہیں۔
اور کتاب کو اپنے دماغ کی زینت بنانے کی "کوشش" کرتے ہیں۔
"مقدس مذہبی" کتاب کو تو ہم ہمیشہ اونچی جگہ اور اسطرح رکھتے ہیں کہ اس کی بیحرمتی بھی نہ ہو اور ہماری دسترس میں بھی ہو کہ ہم اسے دل کی "اداسی" دور کرنے کیلئے "اُس" کی "سن" کر کچھ ریلیکس کچھ پر سکون ہو جائیں۔
اسی طرح ہم "انسانوں" سے ملتے ہیں مجلس کرتے ہیں، معاملات کرتے ہیں، گفتگو کرتے ہیں۔ جس سے ہمیں "انسانوں" کو "پڑھنے" کا "سمجھنے" کا موقعہ ملتا ہے۔
ان انسانوں کیلئے بھی ہمارے "اندر" اوطاق بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے "اندر" کے "اوطاق" میں جب جھانکتے ہیں تو
اوپر نیچے دائیں بائیں "ہمارے" ہی پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ کسی سے "لالچ" رکھتے ہیں، کسی سے "خوف" کسی سے "نفرت" کسی سے "محبت و انسیت" اور کوئی ہمارے لئے" انتہائی قابلِ عزت" اور کوئی ہمارے لئے "مقدس " ہوتا ہے۔
اور کسی کو تو ہم اوطاق کے "خانے " میں رکھ کر سرسری سی نظر ڈالتے ہیں، اور کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔۔
بھوتنی کے اس انسان کے اندر بھی عجیب "گورکھ دھندا" چلتا رہتا ہے۔ خود تو کسی کو "فیض " دیئے بغیر ہر کسی کے "اوطاق" کے "مقدس" خانے میں سجائے جانے کی خواہش رکھتا ہے۔
اور دوسروں کو "اوطاق" کے جوتوں والے "خانے " میں جگہ دیتا ہے۔۔
ایسا ہی ہے نا؟
ہاں !!
میں تو ایسا ہی کرتا ہوں!۔
میری اوطاق میں لوگ مختلف خانوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ بعض سے مجھے اس طرح فیض حاصل ہوتا ہے، کہ ان میں مجھے اپنی "خواہش" کے مطابق جیسا میں انہیں دیکھنا چاہتا ہوں ان میں ایک "خوشگوار" مثبت تبدیلی آتی ہے۔۔
اس تبدیلی سے مجھے ایک "سکون" سا حاصل ہوتا ہے۔۔
بعض بیچارے ایسے ہوتے ہیں، کہ انہیں میں نے "اوطاق " میں تو رکھا ہوا ہے۔۔ لیکن "کوشش" یہی ہوتی ہے ۔
کہ ان پر "نظر" نہ پڑے۔۔
ہاں !!
میری ایک شدید خواہش ہمیشہ رہتی ہے۔۔
میں لوگوں کی "اوطاق" میں تو رہوں لیکن "کسی " کی مجھ پر نظر نہ پڑے ۔۔ مجھے "تنہائی" اور اپنے پسند کی "روز مرہ" کی زندگی عزیز ہے۔۔
بس اتنی سی تو بات ہے۔۔
اوطاق اوطاق Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:28 PM Rating: 5

2 تبصرے:

عادل کہا...

یاسر بھائی پرائیویسی ہر ایک کوا عزیز ہے۔ پر معاملہ بدل جاتا ہے جب آپ کا ۱وطاق محلے کے چوک یابازار کے سامنے ہو۔ تب ٹریفک کی دھول بھی ڈھیر پڑتی ہے اور آوازیں بھی کئی کسی جاتی ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کلاسیکل جناب بہت خوب

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.