فطرت

مکھی گندگی یا گندی جگہ پر ہی کیوں ہوتی ہے؟
مچھر گندگی اور گندی جگہ کے علاوہ گھاس پھوس پھول کے پودوں کھیت کی فصلوں کے پاس بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔
لیکن ایک مچھر کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ ہمیشہ کان کے پاس آکر کچھ نا سمجھ آنے والی زبان میں "صوتی رفتار" سے تیز تیز سر گوشیاں کرتا ہے۔
بوں بوں بوں بوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اڑاؤ تو کچھ دیر بعد پھر  میری سن اوئےۓۓۓۓۓئےئے  ۔۔۔۔۔۔۔۔  کہتے ہوئے  آ موجود ہوتا ہے۔۔
جب اس بھوتنی کے بچے مچھر سے جان چھوٹتی ہے تو کتنا سکون ملتا ہے۔۔۔۔ہیں نا؟!!  :D
مکھی گندی ہوتی ہے یا ہمیں جو کراہت آتی ہے اس کی وجہ سے گندی ہوتی ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معلوم نہیں ۔۔لیکن اتنا معلوم ہے کہ مکھی "ڈنگ" نہیں مارتی۔۔
مچھر "ڈنگ" بھی مارتا ہے اور خون بھی چوستا ہے ،اس لئے بھوتنی کا "موذی" ہوتا ہے۔
"گندگی" پر بسیرا کرنے کے باوجود دونوں کی "فطرت" الگ الگ ہے۔۔۔
مکھی میں ایک پیلے رنگ کی زہریلی مکھی ہوتی ہے۔۔ معلوم نہیں اردو میں اسے کیا کہتے ہیں مجھے اس کا ایک ہی نام معلوم ہے۔
"تربوڑی"  اس سے بڑی جو زہریلی نر مکھی ہوتی ہے اسے "بھونڈ"  کہتے ہیں۔
اس حساب سے تو "بھونڈ" کی مادہ "بھونڈی" ہوئی نا؟؟؟۔
یہ جو پیلے رنگ کے "تربوڑی" ہوتی ہے۔ یہ جب "ڈنگ" مارتی ہے تو سوجن ہو جاتی ہے۔۔اچانک کہیں سے اڑتی ہوئی آئی اور "ڈزن" ڈنگ مار گئی۔۔
مجھے ایک بار "بھونڈ" نے بھی "ڈنگ" مارا تھا۔ اس "بھونڈ" کے ڈنگ سے اللہ بچائے۔۔بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اور یہ تکلیف کئی دن بخار کے ساتھ چلتی ہے۔ سنا ہے کہ بندے مر بھی جاتی ہیں۔۔لیکن جتنی پھرتی سے مجھے "بھونڈ"نے ڈنگ مارا تھا اسی تیزی سے میں نے اسے مسل دیا تھا۔
اب معلوم نہیں "موذی" مسلا گیا  کہا جاسکتا ہے۔ یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"موذی" نے " موذی" کو ڈنگ مارا اور "موذی " مسلا گیا ۔۔۔ہیں جی  :D
"تربوڑی" کے ڈنگ وصولنے کے بعد منہ عجیب مزاح خیز طرح سے سوج جاتا ہے۔ اور دیکھنے والا "افسوس" کا اظہار کرنے کے بجائے ہنستے مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔۔
لڑی آنا فیئر۔۔یعنی ڈنگ لگ گیا نا۔۔
ایک بار مجھے ماتھے اور کان پر "تربوڑی" نے ڈنگ مارا تھا تو اپنی شکل  آئینے میں دیکھ کر ہنستا تھا۔۔
کسی "خلائی  مخلوق" کا منظر نظر آتا تھا۔۔
ان ڈنگ مارنے کی تکلیف دینے والے "مچھر" ، "بھونڈ" اور "بھونڈی" کی افادیت تو ہمیں سمجھ نہیں آتی شاید ان کی فطرت ہی "ڈنگ" مارنا ہے۔۔۔۔ لیکن "خالق" نے انہیں "تخلیق" کیا ہے تو کچھ نا کچھ کوئی نا کوئی "افادیت" تو ضرور ہو گی نا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ایک "مکھی " اور بھی تو ہوتی ہے۔۔
"شہد کی مکھی" پھولوں اور پھلوں اور مختلف جڑی بوٹیوں سے "رس " نچوڑ کر لاتی ہے ، اور اپنے چھتے میں  شہد کی مکھیاں سلوک اتفاق سے سارا "کنبہ" مل کر "شہد"بناتا ہے۔۔
"اندازہ" ہے ،کہ اللہ میاں نے شہد کی مکھی کی محنت مشقت اور "سلوک اتفاق" دیکھتے ہوئے ۔۔
اسے "معتبر" بنا دیا ہے۔ وقار بلند کردیا ہے۔عزت سے نوازا ہے۔۔اور مسلمانوں کو "شاید" نہیں معلوم ،، لیکن "انسانوں" کو بتا دیا ہے۔۔ کہ اس مکھی کے "تھوک" میں "شفاعت" ہے، "توانائی" ہے۔۔"قوت" ہے۔۔
فل مراتھن دوڑتے ہوئے میں ایک ڈبی میں خالص شہد بھر کر رکھ لیتا ہوں۔۔ جب تھکاوٹ کا احساس شدید ہو جاتا ہے تو مکھی کا "تھوکا" ہوا نکال کر "چاٹ" لیتا ہوں۔۔
یقین مانئے یک دم "توانائی اور قوت" حاصل ہو جاتی ہے۔۔
آپ کو معلوم ہے؟!!
شہد کی مکھی بھی ڈنگ مارتی ہے۔۔اور شہد کی مکھیوں کا پورا "کنبہ" جب مل کر "حملہ آور ہو جائے تو "بندہ " جان سے بھی چلا جاتا ہے۔۔
لیکن "شہد کی مکھی" کی فطرت ڈنگ مارنا نہیں ہے۔ شہد کی مکھی کا کام تو محنت مشقت کرنا سلوک اتفاق سے میٹھا میٹھا پیار بھرا شفاعت دینے والا "رس ' جمع کرنا ہوتا ہے۔۔
بس کبھی کبھی زیادہ  تنگ کئے جانے پر اس کی "حدود" پر حملہ کئے جائے جانے پر "ڈنگ "مار دیتی ہے۔۔
یہی حال انسانوں کا ہے۔۔
بعض کی فطرت ہی ایسی ہوتی ہے ، کہ "ڈنگ" مارنے کے موقعے کا انتظار رکھتے ہیں یا "ڈنگ" مارنے کے علاوہ کچھ جانتے ہی نہیں۔۔۔
اور بعض کی فطرت تو "شہد کی مکھی" کی طرح ہی ہے۔۔کبھی کبھی فرسٹریشن ڈپریشن کے ہاتھوں مجبور ہو کر یا "تنگ" کئے جائے جانے پر "تنگ" آکر "ڈنگ" مار دیتے ہیں۔۔
لیکن ان کی فطرت "ڈنگ" مارنا نہیں ہوتی۔۔
فطرت فطرت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:53 PM Rating: 5

5 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

حضور جسے آپ نے بھونڈ لکھا ہے اسے کتابی اُردو اور فارسی میں زنبُور کہتے ہیں ۔ زنبُور اُسے بھی کہتے ہیں جسے انگریزی میں پلائرز کہتے ہیں ۔ تنبوڑی کو میں نے کسی اُردو بولنے والے کو تتیّہ کہتے سۃنا تھا
اب آتے ہیں آپ کی تحریر کے نتیجہ کی طرف ۔ انسان کی فطرت واقعی ڈنک مارنا نہیں ہے ۔ لیکن انسان نے بہت سی غلط عادات اپنا رکھی ہیں ۔ میں نے سکئی دہائیاں اس پر تحقیق کی لیکن اس کا سبب سمجھ میں نہ آیا ۔ اس سلسلے کا پہلا مقالہ میں نے 1975ء میں لکھا تھا جس کا ذکر میں نے 6 جولائی کو کیا تھا
http://www.theajmals.con/blog/2015/07/06
مسئلہ سوچ کا ہے جو اچھی ہو تو سب کچھ اچھا نظر آتا ہے ۔ ضلاصہ اسی تحریر میں دیکھیئے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

معافی چاہتا ہوں یو آر ایل میں ایم کی بجائے این لکھا گیا ہے ۔ درست لکھنے کی کوشش کرتا
http://www.theajmals.com/blog/2015/06/06

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

معلومات کا بہت بہت شکریہ محترم

عادل کہا...

سوجا ہوا منہ لیکر میں بھی کئی دن اپنے پرانے ہوسٹل میں گھومتا پھرتا رہا ہوں۔ اور کچھ ہوا نہ ہوا، سکول سے کچھ دن جان چھوٹ گئی تھی۔
ایک دفعہ گھوگھی کاشکار کرتے ہوئےپیلی اور کالی پتیوں والی بھونڈکے گرے ہوئے چھتے میں پیر رکھا تھا، اماں جان نے پچاس سے زیادہ ڈنگ گنے تھے کمر پر۔کوئی دم کیا ہوا نمک لگایا تھا اسلئے سوجن نہ ہوئی۔ اب مجھے نہیں پتا کہ یہ نمک کا کمال تھا یا دم کا۔

Nasreen Ghori کہا...

کس نے ڈنک مارا تھا بائی دی وے ;)

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.