پہلا روزہ



دماغ پر زور دینے کے باوجود مجھے یاد نہیں آرہا کہ میں نے پہلا روزہ کب رکھا تھا۔ اتنا یاد ہے کہ کبھی رکھتا تھا اور کبھی نہیں۔۔
سحری و افطاری اپنے گھریلو پس منظر کو یاد کروں تو یہی یاد آتا ہے۔ بس کچھ نا کچھ کھانے کو مل ہی جاتا تھا۔۔
یعنی خاص اہتمام نہیں ہوتا تھا۔ روکھی سوکھی جو مل گئی کھا لی۔۔
روح افزاء وغیرہ کا ذائقہ یاد ہے، کھجوریں بھی کھاتے تھے۔ بلکہ کافی کھانے کو مل جاتی تھیں ۔۔
پکوڑوں سموسوں کی عیاشی یاد نہیں آرہی ۔۔گھر پر تو نہیں شاید مسجد وغیرہ میں کھائے ہوں۔۔...
اتنا ضرور یاد ہے کہ جاپان آنے سے ایک سال پہلے 15 سال کی عمر میں پورے روزے رکھے تھے اور اعتکاف بھی بیٹھا تھا۔۔
ہمت کرکے اُس رمضان میں قرآن پانچ بار "ختم" کیا تھا۔
دوران اعتکاف پہلی بار "مولوی صاحب" کو قریب سے دیکھنا نصیب ہوا تھا تو جو "تاثر " قائم ہوا تھا۔
اس سے چھٹکارا ابھی تک مل رہا۔۔ مولوی صاحب بھی کیونکہ اعتکاف بیٹھے تھے، ان کے گھر سے بھی کھانا آتا تھا اور ہمارے گھر سے بھی، میرے جو لنگوٹیئے دوست ہوتے تھے۔
وہ بھی باری باری کھانا لاتے تھے۔
آجکل کیطرح مساجد میں "کچن" نہیں ہوتا تھا۔ افطاری کی ایک دو کھجوریں پانی کا گلاس یا ایک دو پکوڑے کھاتے ہی مغرب پڑھ کر تمام نمازی گھروں کو بھگٹٹ بھاگتے تھے۔۔
جیسے دیر سے گھر پہونچے تو "دادادادی " سب کچھ ہڑپ کر جائیں گے۔
نمازیوں کے جانے کے بعد ہم اعتکاف بیٹھے ہوئے تین افراد عشاء سے پہلے کھانا کھاتے تھے۔ سحری بھی اکٹھے ہی ہوتی تھی۔
ایک میں تھا۔ ایک میرے دوست کے والد صاحب تھے، اور تیسرے مولوی صاحب۔۔
کھانا کیونکہ اکھٹا کھانا ہوتا تھا۔۔ میں اور میرے دوست کے والد صاحب پہلے دن ہی ہکے بکے ہو گئے تھے کہ غریب غرباء تو ہم بھی تھے لیکن مولوی صاحب کے ہاتھوں کی آنیاں جانیاں نے حیران و پریشان کردیا تھا۔۔ مولوی صاحب نے اپنے گھر سے آئے ہوئے کھانے کو ہاتھ نہیں لگانا ہوتا تھا۔۔
انتہائی حیرت انگیز رفتار سے ہم دونوں کے کھانے پر ہاتھ صاف کردیتے تھے۔۔ ہاتھ اور منہ کچڑ پچڑ ، پچڑ پچڑ کچڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر یوں ہوا کہ عید والے دن گھر جانے سے پہلے ہمارے دوست کے والد صاحب جن کا تعلق سوات سے تھا۔۔
عشاء کی نماز کے بعد مجھے ایک طرف لیکر گئے اور کہا کہ مولوی صاحب کے پاس جانا ہے ۔
اور انتہائی ادب سے اعتکاف میں اکھٹا وقت گذارنے شکریہ ادا کرنا ہے۔۔اور دیکھو بچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بات آپ نے ضرور مولوی صاحب سے سیکھی ہے۔۔
میری سوالیہ نظروں کیطرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا۔۔
اب ہمیشہ ساری زندگی کھانا مہذب طریقے سے کھاؤ گے اور اپنے "وقار" کا خیال رکھا کرو گے۔۔



بس جناب ہماری بچپن کی یادوں میں "روزوں" کی یادیں یہی کچھ ہیں۔۔اس کے بعد کے سارے رمضان اور عیدیں جاپان میں ہی گذری ہیں سوائے "حج" کے۔۔
آپ نے بچپن میں "پہلا روزہ" کب رکھا اور ماہِ رمضان میں کیا سیکھا؟


پہلا روزہ پہلا روزہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:00 PM Rating: 5

9 تبصرے:

نورین تبسم کہا...

ہمارے معاشرے پر گہرا طنز ۔۔۔۔
برسوں گذر گئے اب بھی سب ویسا ہی ہے۔ بھرے پیٹ کی بھوک کا ناسور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔

عادل کہا...

ہمارے گھر میں چھوٹے بچوں کیلئے چڑی روزہ ہوتا تھا۔ روزہ تو رکھا پر جب بھوک لگی تو کچھ کھا لیا۔میرے زہن میں روزوں کا تعلق ہمیشہ سردیوں سے رہاہے، اسلئے، گرمیوں کے روزوں کا تصورمیرے لیئے تھوڑا مشکل ہے۔ ادھر نانجنگ کا موسم روزوں کیلئے بہترین ہے پر قسمت ، یہاں کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔

عمیر کہا...

مذہب کی غلط اور اپنی مرضی کی تشریح نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ ۔ اکثر حضرات یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ انگلیاں چاٹنا سنت نبوی ﷺ ہے ، لیکن وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب کھانا تناول فرمایا کرتے تھے تو اتنی نفاست سے سالن میں نوالہ لگاتے کہ آپﷺ کی انگشتانِ مبارک بمشکل سالن سے تر ہوا کرتی تھیں اور جو تر ہوتی تھیں آپ ﷺان کو اپنی زبان ِ مبارک سے صاف فرما لیا کرتے تھے۔
ہمارے ہاں تو بعض حضرات پورا پورا ہاتھ چاٹ رہے ہوتے ہیں اور اس طرح چاٹتے ہیں کہ دیکھ کر گھن آجائے ۔
اللہ ہماری اخلاقیات درست فرمائے ۔ آمین

شعیب صفدر گھمن کہا...

آپ نے روزے کے حال میں مولوی کو لپٹ دیا جناب.
شکریہ شیئر کرنے کا

مصطفیٰ ملک کہا...

یاسر بھائی ، آپ نے تو کمال کر دیا ، اتنا بڑا سبق سیکھ لیا ایک ہی اعتکاف میں ،

محمد اسلم فہیم کہا...

خوبصورت یادیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچپن کی روح افزاء اور مسجد کے پکوڑے ہم نے بھی خوب کھائے
آپ نے مولوی صاحب سے سیکھا اور میں نے آپ کے بلاگ سےکہ
"اب ہمیشہ ساری زندگی کھانا مہذب طریقے سے کھاؤ ں گا اور اپنے “وقار” کا خیال رکھوں گا۔

کوثر بیگ کہا...

آپ کی پوسٹز کی طرح اس میں بھی وہی انداز گفتگو وہی نصیحت وہی فصیحت مگر آپ کی یہ عمر سے بڑھی باتیں بڑی دل پر اثر پذیر ہوتی ہیں بچپن کی باتوں کی کچھ کمی لگی ۔اللہ آپ کو ڈھیر ساری ذخوشیاں راحتیں اور کشادگی رزاق عطا کرے ۔
پہلا روزہ پانچ سال میں چھ سال میں تین روزے رکھئے جاتے اور کہتے کہ صفر لگا کر تیس کرلو پھر ساتھ سال سے مکلمل روزے ہورہے ہیں الحمدللہ بس ایک رمضان کے بارہ روزے قضا ہوئے تھے بیس رمضان کو بیٹے کی ولادت کی وجہہ سے
سب کو رمضان بھوک پیاس پر صبر کا درس دیتا ہے مگر میرے بچپن میں والد صاحب کی کثیر اولاد اور کم آمدنی کی وجہہ سے یہ درس بچپن ہی میں بنا رمضان کے ہم کو ملا
ہاں یہ مہینہ قرآن کے نزول کا ہے اس لئے قرآن زیادہ کیوں نہیں پڑھ سکتی ان دنیا کے کاموں میں پھنس کر خیال آتے رہتا ہے۔۔۔

اردو بلاگنگ سلسلہ میرا پہلا روزہ | منظرنامہ کہا...

[…] تحریر: پہلا روزہ […]

نورین تبسم کہا...

http://noureennoor.blogspot.com/2015/07/Ramazan-Urdu-Blogs.html

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.