مثالی کردار

"رول ماڈل" یا "مثالی شخصیت" ہر خاندان قبیلے کی "تاریخ" میں چند افراد ایسے گذرتے ہیں جن کے متعلق بڑے بوڑھے اپنے بچوں کو بتا رہے ہوتے ہیں،انداز بیان میں فخر ہوتا ہے۔ تاکہ بچے فخر کر سکیں کہ ان کے بڑے اعلی کردار اور اعلی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ بڑے بوڑھے کچھ غلو یا اضافی مسالہ جات سے "تاریخی شخصیت" کو بڑھا چڑھا کر بیان کر دیتے ہیں۔
اور یہ "تاریخٰ" زبان در زبان تفاخر کے مراحل طے کرتی ہی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر ملک اور قوم میں بھی یہی ہوتا ہے۔ بڑے بوڑھوں کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا کہ آئیندہ نسلوں کے کردار پر اچھے اثرات منتقل ہوں اور بچے اعلی کردار اور اعلی "خوبیاں" اپنائیں۔اچھا گھرانہ ،خاندان میں اچھا مقام رکھتا ہے، اچھے گھرانے کی وجہ سے خاندان معاشرے میں اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔لوگ اس گھرانے ،خاندان پر اعتماد اور اعتبار کرتے ہیں۔ کسی بھی معاملے، مسئلے میں اس گھرانے خاندان سے رجوع کرتے ہیں۔یہ "رجوع" معاشی بھی ہو سکتا ہے اور "مشاورتی" بھی ہو سکتا ہے۔
ہمارے پاس سوچنے سمجھنے کیلئے ،امریکہ کی مثال موجود ہے، امریکی معاشرہ مخلوط "اقوام" کا اجتماع ہے۔اور اس معاشرے کی تاریخ اقوام عالم میں بالکل نئی ہے۔دو سوسال کی "تاریخ" رکھنے والا امریکہ انتہائی تیزی سے مختلف دشوار معاشرتی ، سماجی ، معاشی منازل طے کرتا ہوا۔ اس وقت دنیا کی "امامت" پر قابض ہے۔ہر طرح کے جدید علوم امریکہ میں ہی "پیدا" ہو رہے ہیں اور دوسری "ترقی یافتہ اقوام" امریکی جدید علوم کو قبول کرکے ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں۔اور سکہ رائج الوقت تو ہے ہی امریکی!۔
امریکہ "مذہب" سے دور ہے اور ہر کسی کو کوئی بھی "مذہب" اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن ایسا مذہب جو امریکی "آزاد" معاشرے کیلئے "خطرناک" تصور کیا جاتا ہے اس پر کڑی "نظر" رکھی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی "رونیاں" ہمارے سامنے ہیں۔
مذہب سے "آزاد" ہونے کی وجہ سے امریکی معاشرہ مذہبی "ہیرو" کا تصور نہیں رکھتا۔ نئی نسلوں کی "اخلاقی" تربیت کیلئے انسانی معاشرے کو "رول ماڈل" یا "مثالی شخصیت" کی ضرورت ہوتی ہے۔جو ہیر و انہیں مل گئے انہیں عزت دی جو نہ مل سکے ۔
اس کا حل امریکی معاشرے نے یہ نکالا کہ "کارٹونز" کے ذریعے "تصوراتی ہیرو" تخلیق کر لئے ہر "صلاحیت ، قابلیت ، اہلیت"رکھنے والے کو بھی " اہمیت" دی ۔اور ان کی صلاحیتوں سے ملک کیلئے فائدہ اٹھایا۔
"سپر مین" ، "سپائیڈر مین" جیسے ہیرو تخلیق کئے اور ان امریکی ہیروز کو دنیا میں "پذریائی" ملی۔ اس وقت دنیا کا بچہ بچہ ان ہیروز کو جانتا ہے۔"سپر مین" ، "سپائیڈر مین" بننے کی خواہش رکھتا ہے۔امریکہ سے نفرت کرنے والے بھی ان کے تخلیق کئے ہوئے "خیالی ہیروز" سے متاثر ہو کر یہی بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ہر بچے کا "ہیرو" یا "ہروئین" ماں باپ ہوتے ہیں۔
کیا کسی کے منہ سے اپنے ماں باپ کی خامیاں کسی نے سنیں؟
بہت کم ہی اپنے والدین سے جو شکوے شکایات ہوتی ہیں انہیں زد عام کرتے ہیں۔
اکثریت ماں باپ کی "قصیدے" ہی بیان کر رہی ہوتی ہے۔شریف برادران کو سارا پاکستان گالیاں دے لیکن وہ اپنی اولادوں کے "ہیرو" ہی ہیں اور خاندان کی تاریخ میں زندہ ہی رہیں گے۔
ایسے ہی عمران خان گھر، خاندان سے نکل کر ملک وقوم کے ہیرو ہو گئے ، خاندان کی تاریخ میں "ہیرو" ہی رہیں گے۔ بے شک نون لیگئے انہیں گالیاں دیتے رہیں۔
زرداری صاحب کا بھی یہی حال ہے اور الطاف بھائی بھی اپنے خاندان کی تاریخ میں ایک ہیرو کیطرح ہی زندہ رہیں گے۔
دا مسٹر ٹین پرسنٹ ، مسٹر بوری والا :D
اولاد ، اگلی نسل کیلئے "والدین" یا دیگر خاندان قبیلے ملک کے "بڑے" رول ماڈل یا ہیرو ہی ہوتے ہیں۔
اعلی کردار ، بہترین اخلاقیات، کا "رول ماڈل" یا "مثالی کردار" بننے والے والدین اور "بڑے " ہی گھر، خاندان ، قبیلے ، اور پھر ملک و قوم کے ہیرو ہو تے ہیں، اور تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔
کچھ دیر کیلئے دل کو تھام کر غور کیجئے ۔۔
ٹیپو سلطان ۔۔۔۔۔۔ کی شجاعت بہادری کے قصیدے سنا کر ہر مسلک کی مساجد کے منبروں سے ایمان کو جوش دلایا جاتا ہے۔۔  ٹیپو سلطان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ شیعہ مسلک کے تھے۔۔
لیکن تاریخ میں ہمارے ہیرو کے طور پر امر ہو جانے کی وجہ ان کی اعلی اخلاقی صفت ، بہادری اور شجاعت کا "مثالی کردار " ہونا ہی ہے۔
اور محمد علی جناح کا بھی یہی حال ہے۔۔
ہمارے سوچنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ
کیا ہم اپنی "اگلی نسلوں" کیلئے "رول ماڈل ، مثالی کردار" بننے کی کوشش کر رہے ہیں؟
کیا ہم اپنے گھر ، خاندان ، قبیلے ، ملک و قوم سے مخلص ہیں؟
مثالی کردار مثالی کردار Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:38 AM Rating: 5

2 تبصرے:

عادل کہا...

مخلصی کا جواز تربیت کی نو پر ہے۔انسان کو رب نے کمزور بنا یا ہے۔ زیادہ تر لوگ آسان زندگی کی ٹوہ میں ہیں۔ ہمارے گھر بار آجکل ہندی ڈرامے یا ہا لیووڈفلموں کی لپیٹ میں ہیں، مثالی شخصیت پھر اور کہاں سے آئے گی۔ ویسے بھی پاکستانی معاشرے میں کونسی گھٹیا سے گھٹیا چیز کا وجود نہیں ہے۔دین کا پچھلے دس پندرہ سالوں میں اس ملک میں جو ہشر ہوا ہے وہ آپ سے بعید نہیں ہے۔رہی سہی کثر پشاور جیسے مزید واقعات اگلے کچھ سالوں میں نکال دیں گے۔ پھر ڈھونڈئیے گاخالد بن ولیدؓیا ابو عبیدہ بن جراحؓ جیسوں کے پیروکار۔

عمیر کہا...

مثالی کردار تو دور کی بات ، یہاں پاکستان میں اکثر والدین اپنی اولاد کو بنیادی تربیت تک نہیں دیتے ، اسی لیے لاری اڈوں اور ریلوے سٹیشنز پر اکثر ایسے مناظر نظر آجاتے ہیں جہاں۔۔۔
ایک چھوٹا بچہ اپنے والدین کی سرپرستی میں کھلے آسمان کے نیچے حوائج ضروریہ سے فراغت حاصل کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔
یا ، اکثر لاہور کے پرانے شہر میں چلتے ہوئے کوڑے کا ایک لفافہ آفت ناگہانی کی طرح آپ کے سر پر آکر پھٹ جاتا ہے
یا ، اکثر پیدل چلنے والے حضرات کو بسوں میں سوار حضرات کے لعاب دہن استفادہ کا موقع مل جاتا ہے اور وہ شکریے کے طور پر بر لبِ سڑک فن دشنام طرازی کے اسرار و رموز کھولنا شروع کر دیتے ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.