ایویں ایویں

آج بڑی مصبیت کا دن گذرا!!
صبح صبح چھ بجے فون آیا کہ "دوڑ" لگانے چلنا ہے۔
آج ایک مراتھن کا ٹورنامنٹ تھا۔ میں گھٹنے کی کیئر کی وجہ سے آج کل ہلکی رفتار سے پر کلو میٹر سات سے آٹھ منٹ کی رفتار سے دوڑ لگا رہا ہوں کسی ٹورنامنٹ وغیرہ میں حصہ نہیں لے رہا کہ نا چاھتے ہوئے بھی لالے دا ٹرک سپیڈ پکڑ جاتا ہے۔...
چھٹیوں کا ہفتہ چل رہاتھا ویسے بھی اس ہفتے روزانہ ہی کچھ زیادہ دوڑکی لگا لی تھی ، موٹی وے شن چڑھی وئی ہوتو تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی ۔ایک بار ریلیکس ہونے کے بعد تھکاوٹ زور سے حملہ آور ہوتی ہے۔
کیونکہ کا آج ٹورنامنٹ تھا سارے دوست ادھر گئے ہوئے تھے میں نے بھی سوچا اب تین چار دن ریسٹ مارتے ہیں ۔
صرف تاڑو کے ساتھ سیر سپاٹا اور ہلکی پھلکی ویٹ ٹریننگ کرتے ہیں۔
لیکن فون آگیا جو دوسری دو سہلیاں ہیں ہماری ، وہ بھی آج ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر رہی تھیں ،لیکن چھٹیوں کا آخری دن ہونے کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں دوڑ لگانا چاہتی تھیں۔۔
یہاں پہاڑی علاقے میں ریچھ بھی نکل آتے ہیں اور انسانوں پر حملہ آور بھی ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ریچھ کے خطرے کی وجہ سے وہ ہمیں ساتھ لے جانا چاہتی تھیں۔
بقول ان کے ریچھ نکل آیا تو وقتی طور پر ریچھ کی پیٹ پوجا کیلئے ہمیں آگے کر دیں گئیں اور اتنی دیر میں وہ دونوں محفوط مقام تک پہونچ جائیں گئیں۔
میرا کیا ہو گا؟ کے سوال کے جواب میں انہوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ
تو جانڑ تے بھالو جانے تے سانوں کی!!
بندہ اتار ے دوڑ دوڑ کر پسینے سے بدبودار ہو جانے والا جوتا اور
سنگھائے انہیں!
لیکن ہم تشدد پر یقین نہیں رکھتے سوائے "حسبِ ضرورت" کے۔
آج جس "پہاڑی کورس" میں دوڑنا تھا۔
وہ تقریباً چار گھنٹے کا تھا۔
سٹارٹ لیا اور دوڑنا شروع کر دیا۔
ٹانگیں تو اللہ میاں نے دوڑنے کیلئے ہی بنائی ہیں اس لئے ٹانگوں نے حسب خواہش دوڑنے کی معاونت کرنا شروع کر دی۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔زنانیاں!
اللہ ان سے بچائے۔۔۔ان کی "زبانیں" ڈنگروں کیلئے چارہ کاٹنے کیلئے بنائی گی ہیں۔۔ ٹوکا ہوتی ہیں ٹوکا ۔۔۔ٹکر ٹکر ٹکر ۔۔پڑ پڑ پڑ۔
تقریباً ساڑھے چارسو میٹر سطح سمندر سے بلند چوٹی پر پہونچتے پہونچتے کان تو کان انہوں نے دماغ کا بھی دہی بنا ڈالا۔۔
"لیڈی ٹاک" زندگی کے دکھ سکھ جو کے "عشق محبت" کے گرد ہی گھومتے رہتے ہیں۔۔مسلسل یہی سننے کو ملتا رہا۔۔
میں خاموش اور وہ دونوں ٹکر ٹکر ٹکر پڑ پڑ پڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب چوٹی پر پہونچے تو ہمارے دائیں طرف نیچے ایک چھوٹی سی جھیل نظر آرہی تھی۔۔جس جگہ ہم کھڑے تھے اگر وہاں سے کسی کو اٹھا کر نیچے پھینک دیا جائے تو جھیل تک لوٹ پوٹ ہوتا رہے گا اور اس کے بعد جھیل میں ڈبکیاں کھاتا رہے گا۔۔
مجھے یہ دونوں "آنے کی" ہی کہتی ہیں یعنی بھائی جان۔
میں نے ان دونوں کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کیا ۔
اور کہا وہ نیچے جھیل نظر رہی ہے نا؟
جی۔۔۔۔۔۔۔
بھوتنی کی بچیو!!
تمہاری بک بک اب بند نا ہوئی نا۔۔وہاں اٹھا کر پھینک دوں گا۔۔
مجھے بھی کیا زنانی سمجھا ہوا ہے؟
"زنانہ گفتگو " ہی کرنی تھی اور وہ بھی مسلسل تو مجھے کائے کو ساتھ لایا تھا۔۔
دونوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ خاموش ہو گئیں۔۔
معذرت کری۔۔۔میں سمجھا ڈر گئی ہیں۔۔اطمینان کا سانس لیا کہ جان چھوٹی۔۔
واپسی پر دونوں خاموش تو نہیں رہیں ،۔۔ لیکن بکواسیات کا موضوع بند کر دیا۔۔
جب نیچے پارکنگ تک واپس آئے تو
دونوں نے یک زبان ہو کر کہا۔۔
اوپر آپ نے سوال کیا تھا نا کہ آپ کو کیوں ساتھ لایا تھا؟
ہاں؟
ریچھ کی خوراک کیلئے ریچھ ہی نہیں نکلا تو ہم کیا کریں۔۔۔   :D
بھوتنی کی بچیاں
ایویں ایویں ایویں ایویں Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:25 PM Rating: 5

4 تبصرے:

عمیر کہا...

"بندہ اتار ے دوڑ دوڑ کر پسینے سے بدبودار ہو جانے والا جوتا اور
سنگھائے انہیں!"
حضرت جی، تشدد تو کہیں پیچھے رہ جاتا ہے ۔ آپ تو مستورات کی جان لینے کے در پہ ہیں۔۔۔ اتنا غصہ۔۔۔؟؟
:-)

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

:D

عادل کہا...

خواتین کو ویسے ہی رب نے تھوڑا فالتو دماغ دیاہے ، مرد کابھیجا فرائی کرنے کیلئے!
یاسر بھائی آپ سےمزید یہ پوچھنا تھا کے (Meiji Milk Chocolate)حلال ہے کے نہیں؟ کسی نے تحفہ دیا ہے پر ڈبے پر لکھائی سب جاپانی میں ہے۔
آپ کے تعارف والے صفہے پر مجھے کوئی رابطے کاتریقہ نہیں ملا اس لیئےیہاں پوچھ رہا ہوں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سکرین شاٹ یہاں بھیج دیں یا فیس بک پر بھیج دیں۔۔دیکھ کر ہی بتا سکتا ہوں۔
فیس بک
ٰیاسر خوامخواہ جاپانی
میل
ٍtoto4103@yahoo.com

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.