ایک موتی

ایک موتی
****
میری بیٹی پیدا ہو گی!
اچانک طمانیت بھری خوشی سے بھر پور آواز میں "می نامی" نے مجھے بتایا۔ تو میں نے مذاق میں کہا کہ ابھی تو دو ہفتے پہلے آپ کی شادی ہوئی ہے۔
بیٹی کچھ جلدی نہیں تیار ہو گئیں؟
ہاں۔۔۔۔۔ہم نے اسی لئے شادی کی ہےنا۔ کہ بچہ ہو گیا تھا۔ عام سے خوشگوار لہجے میں می نامی نے جواب دیا۔۔
میرے ذہن میں نہیں تھا کہ جاپان میں یہ کوئی خاص یا شرمناک بات نہیں ہے۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔بہت بہت مبارک ہو بھئی۔
چلیں اس خوشی میں ہماری طرف سے سوشی کی دعوت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئیں لنچ کرنے چلتے ہیں۔
لنچ کرتے ہوئے انتہائی معصومیت سے مسکراتے ہوئے اس نے ایک چھوٹا سا مخملی سنہرا بکس نکالا اور مجھے کہا کہ یہ دیکھئے۔
میں نے بکس اس کے ہاتھ سے لیا اور اسے کھول کر دیکھا تو
اندر سے بھی بکس بہت خوبصورت تھا ۔
اور اس میں گول گول چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے تھے۔
اور ایک خانے میں سفید چمکدار موتی رکھا ہوا تھا۔
یہ کیا ہے بھئی؟
یہ بکس میں نے خود بنایا ہے۔
اس میں موتی جمع کرو گے؟
جی۔۔۔
ایک ہی ؟
نہیں پورے بیس جمع کروں گا۔
اچھا ۔
وہ کیوں؟
بیٹی کیلئے۔
جب پیدا ہو گی تو اسے دو گے؟
نہیں!!
بیٹی کیلئے موتی جمع کرو گے اور بیٹی کو دو گے بھی نہیں !!
میں کچھ سمجھا نہیں!!
دوں گا!
جب بیس جمع ہو جائیں گے تو۔۔
کیا مطلب ؟ کیا یہ کوئی خاص موتی ہیں؟
نہیں عام سے موتی ہیں۔
ایک ہی کیوں؟
بیس اکٹھے کیوں نہیں لے لئے؟
پیسے نہیں ہیں کیا؟
نہیں ایسی کوئی بات نہیں!
دیکھ بھئی ۔۔پہلیاں نہ بجھا اور بات مکمل کر۔
دراصل بیٹی کے صفر سال کا موتی ہے۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔
یار کیکڑے کا سوپ بعد میں شڑوک لینا ۔۔بات مکمل کرو۔
میں ہر سال بیٹی کی سالگرہ پر ایک موتی خرید کر اس بکس میں رکھ لیا کروں گا۔۔
مجھے سسپنس کی وجہ سے الجھن ہوئی تو اس کے چہرے کی معصوم سی مسکراہٹ دیکھ کر خاموش ہو گیا۔
ہونہہ ۔۔۔۔۔۔اچھا پھر
پھر جب بیٹی بیس سال کی بالغ ہو جائے گی تو اپنے ہاتھ سے ہار بنا کر اسے دوں گا!۔
(جاپان میں جب بچے بیس سال کے ہوتے ہیں تو قانونی طور پر بالغ ہو جاتے ہیں اور ان پر معاشرے کی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔ اور گاؤں شہر صوبے حکومتی سطح پر ان بچوں کیلئے "جشن بالغاں" کے فنکشنز کا بندوبست کیا جاتا ہے)
کچھ سمجھ نہیں آئی بھئی۔۔
ابھی سے ہی بیس خرید کر رکھ لو اور ان کا ہار بنا کر رکھ لو ایسے بھی تو کیا جا سکتا ہے؟!
نہیں یاسر صاحب۔۔ اس میں رومان نہیں ہے نا۔۔جب بیٹی کو معلوم ہو گا کہ میں نے بیس اور ہر سال ایک ایک موتی جمع کیا ہے تو سوچئے وہ کتنی خوش ہو گی۔۔
ہاں ۔۔۔جاپانیوں کے محسوسات چہرے سے نہیں عمل و فعل سے عیاں ہوتے ہیں ۔۔۔جو کہ میرے جیسوں کو کم ہی سمجھ آتے ہیں۔۔
اچھا۔۔۔۔ایک بات بتائیں۔۔آپ ایسا کیوں کرنا چاھتے ہیں؟؟؟(میرے دل میں کچھ تھوڑا سا میٹھا سا ریسپکٹ کرنے پر مجبور ہو جانے والا درد سا اٹھا)
دیکھئے یاسر صاحب۔
بیٹی بڑی ہو گی نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس کی محبت تقسیم ہوتی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا مرد پھر اپنا شوہر پھر اپنے بچے۔۔۔۔۔۔معلوم نہیں میرے لئے اس کے پاس محبت بچے گی بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔۔بس میں اپنی "پیدا " ہونے والے بیٹی کیلئے کچھ "خاص" کر دینا چاہتا ہوں ، تاکہ جب بھی اسے دیکھے تو میں اسے یاد آجایا کروں۔۔اور اسے دیکھ کر میرے لئے اپنی محبت کا تھوڑا سا ننھا سا حصہ نکال دیا کرے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔میں ابھی تک کچھ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا ہوں۔۔
شاید ایسے والدین سے ہی احسان والا معاملہ کرنے کا کہا گیا ہے ۔ اور مزید سوچ کر درد کی میٹھی ٹیس محسوس کی کہ جب خالق نے "واحدانیت " کا ذکر کیا تو ساتھ میں والدین سے احسان والا معاملہ کرنے کا ذکر بھی کیا۔۔۔
ہاں۔۔۔
والدین ،اولاد کا انتخاب نہیں کر سکتے اور اولاد ، والدین کا انتخاب کرنے سے قاصر ہے۔۔
ایک موتی ایک موتی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:51 PM Rating: 5

5 تبصرے:

محمد ریاض شاہد کہا...

یعنی سارا معاملہ کچھ لو اور کچھ دو کا ھے ۔ اس لحاظ سے تو ہمارے کے لوگ بہتر ہوئے کہ بیٹیوں کی پرورش اس لیئے کرتے ہیں کہ اللہ کا حکم ھے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وہ تو ہے جی۔۔۔۔۔۔۔۔

عادل کہا...

محبت عجیب سی چیز ہے۔شاید جاپانی معاشرےکی تیزی کی وجہ سےبہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں۔باپ صرف اپنی محبت کو ایک (everlasting) شکل دینا چاہتا ہے۔انتہائی مشکل ہے پر تب ہی تو سرور ملتا ہے۔

نسرین غوری کہا...

ہممم خوبصورت سوچ
یہ بات ایک بیٹی ہی سمجھ سکتی ہے , بیٹیوں کا باپ سے جو تعلق ہوتا ہے وہ آپ لڑکا لوگوں کو سمجھ نہیں آسکتا جب تک کہ آپ کی خود ایک عدد گڑیا نہ ہو ...
تو سابق تبصرہ نگاران . انتظار کریں , اس جاپانی کے موتیوں والے ڈبے کی کہانی سمجھنے کے لیے :)

عمیر کہا...

والدین کا اپنی اولاد کے لیے محبت کا یہ جذبہ ایک آفاقی سچ ہے ،۔۔۔۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ کیا جاپانی معاشرے نے مغرب کی اور اقدار اپناتے ہوئے ان کے شکستہ گھریلو نظام کو بھی اپنا لیا ہے۔۔۔؟؟؟ جہاں والدین کی قدر و قیمت نہ ہونے کے برابر ہے۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.