جھولے لال قلندر

بچپن میں یوں ہوتا تھا کہ سردیاں بڑی ٹائیٹ قسم کی ہوتی ہیں ہمارے علاقے کی۔۔ گیس جسے سوئی والی کہتے ہیں ، اس کا نام جب سنا تھا تو بڑی غور و فکر کے باوجود سمجھ نا آئی کہ یہ گیس سوئیاں والی کیوں ہے۔
"املوک" کیوں کہ ہمارے علاقے کی سوغات ہیں ، مفت میں عموماً مل جاتے تھے، اس لئے ہمیں گیس سے شناسائی تو تھی۔ لیکن سوئی کا معلوم نہیں تھا۔۔
کچھ سمجھ نا آنے کی وجہ سے یہی سوچ کر خود کو تسلی سی شاباش دے دیتے تھے ۔کہ آخر "سوئی" کی سمجھ آ ہی گئی نا۔۔
یعنی "املوک" کھانے والے کی اخراج شدہ گیس نتھنوں کو چھوئے تو جو سوئیاں ناک سے شروع ہو کر دماغ میں چھبتی تھیں ۔ بس وہ والی گیس کو ہی سوئی گیس کہتے ہیں۔
اب اگلا معمہ ابھی تک نہیں سلجھ سکا ،کہ اس سوئی گیس کو آگ لگا کر "روٹیاں" کیسے پکائی جاتی ہیں اور پانی گرم کرکے نہایا کیسے جاتا ہے!!
یو ٹیوب پر چند وڈیو ضرور دیکھی ہیں ، کہ کچھ شیر دل جوان ایک بوتل یا ڈبے میں یہ "سوئی گیس" جمع کرکے تیلی دکھاتے ہیں ۔
تو "بڑک" سے "سوئی گیس" شعلہ بن جاتی ہے۔ لیکن "روٹیاں" پکانا اور "پانی " گرم کرنے کا معمہ ابھی تک نہیں سلجھ سکا کہ آخر سوئی گیس یہ کارنامے کیسے انجام دیتی ہے؟
ہمیں روٹیوں کے پکانے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ روٹی ویسے بھی قلت میں ہی میسر ہوتی تھی۔ اور ہم بھنے ہوئے مکئی کے دانے پھانک لیتے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مکئی کے بھنے ہوئے دانے تو انرجی فوڈ ہوتا ہے۔
ہمیں تو "گرم پانی" سے دلچسپی تھی ،کہ سردیوں میں گرم پانی ملے اور گرم پانی سے نہائیاں نہائیاں کر لیا کریں۔
ہوتا یہ تھا کہ "جوؤں" سے بچنے کیلئے سردیوں میں "ٹنڈ" ہی رکھنا پڑتی تھی اور ہم اپنے سنہری ملائم بالوں کو کنگھی کرنے کی حسرت دل میں لئے ہوئے گرمیوں کا استقبال کرتے تھے۔
سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے نہانا کسی "جہنم کے عذاب" سے کم نہیں ہوتا تھا۔ اب بھی سوچتے ہیں تو حیران ہی رہتے ہیں کہ ہمارے ابا معصوم کیسے یخ بستہ پانی سے نہا لیتے تھے۔
ہمارے علاقے کے لوگوں کو تو پیدا ہوتے وقت "دائی" نہلا دیتی تھی اور جب "انتقال" فرماتے تھے تو "نائی" نہلا دیتا تھا۔۔ اللہ اللہ تے خیر صلا۔
سردیوں میں "جوؤں" سے بچنے کیلئے "ٹنڈ " رکھتے تھے ، جیسے ہی تھوڑے تھوڑے بال سر پر گھونسلہ بناتے تھے اور ہم ذرا اپنے سنہری تے نرم ملائم بالوں سے انجوائے کر ہی رہے ہوتے تھے تو "گرمیاں" نازل ہو جاتی تھیں۔
گرمی شروع ہوتے ہی پھر ٹنڈ شریف!!
گرمی تیز ہوتے ہی بچوں کے والدین بچوں کی ٹنڈ کروانا شروع کر دیتے تھے۔ بچوں کے والدین بچوں کو یہی کہتے تھے ان کے ابا حضور اور ابا حضور کے ابا حضور بھی ان کی ٹنڈ کرواتے ہوتے تھے۔
اس لئے ٹنڈ کروا تے برداشت کر۔
جیسے آجکل کے بچے لمبے لمبے ہیپی شیپی ٹائپ کے ھیئر شٹائل کا فیشن میشن کرتے ہیں ، ہم بھی سارا سال "ٹنڈ" فیشن انجوائے کیا کرتے تھے۔
اور "باربر" حضرات جنہیں عرفِ عام میں "نائی" کہا جاتا ہے۔ وہ بھی بچوں کے والدین اور ان کے والدین اور ان کے بھی والدین کو نسل در نسل ایک ہی "ایڈور ٹائیز" سے الو بناتے آئے تھے ان کا کہنا ہوتا تھا کہ
دس سال کی عمر تک بچوں کی بار بار ٹنڈ کروانے سے بچوں کے بال مضبوط اور گردن موٹی ہوتی ہے۔۔
اور ہمیں "سوئی والی گیس" کیطرح مضبوط بالوں اور موٹی گردن کی "شدید اہمیت " کی بھی سمجھ نہیں آئی ۔
ہوا یوں کہ ہم جب بھی وطن کو گئے تو ہمارے ہم جولی سر پر ثقافتی ٹوپی گرمیوں میں بھی پہنے ہوئے پائے گے۔
تو ہم نے انہیں کئی بار کہا کہ ٹوپی اتارو!
لیکن ناں جی ناں۔۔۔ جب انہوں نے ٹوپی نہ اتاری تو ہم نے موقعہ دیکھتے ہی ٹوپی اچک لی۔۔۔۔اففففففف۔۔۔۔۔۔۔۔چمکدا ر ملائم چٹاکانگ ٹائپ کی "ٹنڈ" جب نمودار ہوئی تو ہم ہکے بکے رہ گئے اور ہم جولی بک بک کرکے ہلکان ہو گئے۔
ہمیں بہت ترس آیا بیچارے بچپن میں نرم ملائم مضبوط بالوں کیلئے "ٹنڈے" رہے اور بڑے ہو کر قدرت کی زیادتی سے "قدرتی ٹنڈے" ہو گئے۔
ہم نے ٹھنڈی آہ بھر کر للچائی ہوئی حسرت بھری نگاہ سے ان کے موٹے سے گھسن کا خیال کرکے چپت رسید کئے بغیر انہیں ٹوپی واپس کی لیکن ایک تصدیق ضروری کی تھی اور ہمیں شدید حیرت کا جھٹکا بھی لگا تھا کہ
اللہ میاں نے انہیں ٹنڈ کے ساتھ ناخن بھی عطا کئے ہوئے تھے۔
ہاں گردن موٹی والے بہت دیکھے لیکن معلوم نہیں بچپن میں ان کی ٹنڈ ہوتی تھی یا ابا جی کے کماے ہوئے "رزقِ حرام" کی وجہ سے ان کی گردن موٹی ،اکڑی ہوئی اور سریا گھسی ہوئی ہے ۔ بحرحال یہ بھی معمہ شریف ہی ہے۔
ہم بس اب سال میں ایک دو بار ٹنڈ کر لیتے ہیں ،
کہ "یاد ماضی" کی یاددہانی سے ہمیں اپنی اوقات یاد رہتی ہے۔ اور ہماری گردن بھی موٹی ہو کر اکڑنے سے بچی رہتی ہے۔ ہماری گردن تو لچک دار ایسی کہ ذرا ہوا تیز چلے تو وزیر اعلی پختونخواہ کی طرح جھولنا شروع ہو جاتی ہے۔۔
گرمیوں میں ٹنڈ کروانے کے ایک فائد ے کے ہم قائل ہیں کہ ٹھنڈے پانی سے نہاتے وقت جیسے ہی ٹھنڈا پانی ٹنڈ پر پڑتا ہے تو
چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔
آپ "املوک " کھا کر سوئی والی گیس کو بھی پہچان سکتے ہیں اور گرمیوں میں ٹنڈ کروا کر ٹھنڈا پانی بہا کر چودہ طبق روشن بھی کر سکتے ہیں۔
یہ ہماری ضمانت ہے اور تجربہ ناکام ہونے کی صورت میں پیسے واپس کئے جائیں گے۔ بس آپ جھولے لال قلندر کو مت تلاش کریں  :D
جھولے لال قلندر جھولے لال قلندر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:11 AM Rating: 5

3 تبصرے:

Nasreen Ghori کہا...

"ہمارے علاقے کے لوگوں کو تو پیدا ہوتے وقت “دائی” نہلا دیتی تھی اور جب “انتقال” فرماتے تھے تو “نائی” نہلا دیتا تھا۔۔ اللہ اللہ تے خیر صلا۔"
واہ

عمیر کہا...

شدید قسم کے Nostalgia کا حملہ محسوس ہوتا ہے ۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی وہ تو ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.