مختصر کہانی

مختصر کہانی
*************
خوامخواہ جاپانی نے ایک دن سوچا!۔
تاڑو انسانوں کے ساتھ رہ رہ کر کچھ بندے کا پتر بنتا جا رہا ہے۔تو ایک دن "کتوں" کیلئے "کتوں" کے وقت گذارنے کیلئے پائے جانے والے "کت خانے" (ڈاگ لینڈ)میں "کتے کتیوں" کے ساتھ تاڑو کو چھوڑدیا۔
خوامخواہ جاپانی نے اچھا ہی سوچا تھا کہ
"کتا ہے کتے کا بچہ بنے"
تاڑو جب "کت خانے"سے واپس آیا تواپنے ڈربے میں گم سم بیٹھ گیا۔خوامخواہ جاپانی کیلئے یہ ایک خلافِ توقع بات تھی۔کہ شوخ و چنچل تاڑو خوامخواہ جاپانی کو دیکھ کر گم سم بیٹھا رہے !!!
خوامخواہ جاپانی کو خوف تو تھا ہی کہ تاڑو کتوں کے درمیان رہ کر پورا "کتا" ہی نا بن جائے بلکہ کتوں کے ساتھ ہی نا چلا جائے۔اور واپس ہی نا آئے۔
لیکن یہ کیا؟!!
تاڑو تو ایک سنجیدہ انسان بن کر واپس آگیا!! اور کسی مفکر کیطرح گم سم بیٹھ گیا!!
خوامخواہ جاپانی نے ممکنہ وجوہات پر غور کرنا شروع کر دیا ۔اسے اندیشہ لاحق ہو گیا ۔
کہ کتوں نے تاڑو کو خوار کرکے بھگا دیا ہو؟
اگر ایسا ہوا تھا تو اس کی ذمہ داری خوامخواہ جاپانی پر آتی تھی۔خوامخواہ جاپانی نے ہی تاڑو کو اپنی برادری سے میل جول کی ترغیب دی تھی اور بڑے خوشنما باغ دکھلائے تھے۔جو کہ سب کے سب چکنا چور ہو گئے تھے۔اورتاڑو اپنے شوخی سے محروم ہو گیا تھا!!
خوامخواہ جاپانی نے سوچا ۔
وقت ہر زخم پر مرہم بن جاتا ہے، ایسا ہی کچھ تاڑو کے ساتھ بھی ہو گا۔لیکن خوامخواہ جاپانی کا اندازہ غلط نکلا۔ایک رات اور دن کا وقفہ گذر جانے کے بعد بھی تاڑو کی کیفیت میں کوئی تبدیلی واقعہ نہیں ہوئی تھی!
خوامخواہ جاپانی کا کے ٹو کے پہاڑ جتنا صبر کا پیمانہ جب لبریز ہو کر ٹھاٹھیں مارتے "دریائے کنہار" کیطرح بہہ نکلا تو وہ خود بنفس نفیس تاڑو کے پاس چل کر تشریف لے گئے۔
اس نے دیکھا کہ تاڑو بکری کیطرح جگالی کرتے ہوئے کچھ منہ ہی منہ میں بدبدا رہا ہے۔خوامخواہ جاپانی نے تاڑو کی پیٹھ تھپتھپائی اور سوالیہ نظروں سے تاڑو کیطرف دیکھنے لگا۔اس نے محسوس کیا کہ تاڑو کو یہ خلل اندازی ناگوار گذر رہی ہے۔!
یہ بھی عجیب کیفیت تھی ۔اور اس سے پہلے اس سے بر عکس معاملہ ہوتا تھا۔قریب آتے ہی تاڑو نے اچھل کود شروع کر دینی ہوتی تھی اور پیار کی جپھیاں ڈالتا تھا!!۔
خوامخواہ جاپانی نے تاڑو سے پوچھا ۔
خیریت تو ہے؟ کیا چل رہا ہے؟
تاڑو نے جواب دیا ۔ کچھ نہیں بس یونہی کچھ "سوچ" رہا تھا۔
خوامخواہ کو بڑی حیرت ہوئی!! یہ کیا گم سم "سوچ" رہا ہے؟ کتے کا "بچہ"!!
کیا سوچ رہے ہو؟
میں "شاعری" سوچ رہا ہوں!!
ایں!!
وہ کیوں بھئی؟
دراصل میں نے "کت خانے" میں "کتیا دیکھی تھی اور اس سے عشق کر بیٹھا تھا۔
تو پھر کیا ہوا؟
میں نے اسے ڈنر کی دعوت دی اور اس نے ٹھکرا دی۔۔
اوہ۔۔۔۔۔۔۔پھر کیا ہوا؟
پھر میں نے شاعری شروع کردی!
اچھا کوئی غزل شزل بھی لکھی؟
تاڑو موقعہ ملنے کا ہی منتظر تھا ۔بھونک کر گلا صاف کیا اور ترنم سے گویا ہوا۔
کتوں کی بستی میں، اگر وہ نہیں ملتے
خواہشوں کی ٹہنی پر پھول بھی نہیں کھلتے۔
پتھروں کی وادی میں خوفناک سناٹا
کتوں کے من مندر میں خاروگل نہیں ملتے
سنگ دل کتیا کا جبڑا بے نقاب ہونے پر
دل دہل تو جاتے ہیں لب مگر نہیں کھلتے۔
خوامخواہ جاپانی اور شاعری کا دور پار کا کبھی رشتہ ناطہ نہیں بنا اس لئے تاڑو کی شاعری پر واہ واہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔نسلی تعصب نے خوامخواہ جاپانی پر غلبہ پانے کی کوشش تو ضرور کی کہ کتا اور انسان سے اچھی شاعری!!!
لیکن تاڑو کی دل آزاری کا سوچ کر خاموش ہو گئے اور خوب تعریف و توصیف اور واہ واہ کی۔
اور کہا تاڑو صاحب کچھ مزید ارشاد فرمائیں!!
کوئی مقطع شقطع ہی لگا دیں آخر میں!!
تاڑو کی آنکھوں میں چمک آئی اور گویا ہوا۔یہ لیں جناب آپ کی شپیشل فرمائیش پر عرض ہے۔
ہجرتوں کی راہوں پر ، تاڑو چلنے سے
ٹھوکریں تو ملتی ہیں ہمسفر نہیں ملتے۔
خوامخواہ جاپانی کو تاڑو کی اعلی شاعری پر بہت حیرت ہوئی اور
بے ساختہ کہہ اٹھے۔۔
یار تاڑو اگر میں تمہاری جگہ ہوتانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاڑو نے اپنے ڈربے میں نظریں دوڑائیں اور چاچا جاپانی کی طرف دیکھ کر بولا۔
دیکھو خوامخواہ جاپانی جی آپ ہلکے پھلکے ہونے کے باوجود اس ڈربے میں جگہ نہیں بنا سکیں گے۔
او نی بیغرتا میرا کہنے کا مطبل یہ نہیں تھا!!
اچھا اچھا۔۔۔ اگر آپ کو عشق ہوتا اور شاعری کرتے تو یہ کہنا مقصود تھا؟
ہاں ہاں۔۔
تو آپ کیا کرتے؟
میں اچھلتا کودتا جاتا اور اس "کتیا" کو یہ شاعری سناتا
اور وہ کتیا تمیں ضرور پسند کرے گی۔ ایک عاشق کا دل رکھنے والا شاعر کتا تیرے سوا کوئی نا ہوگا تاڑو!!!
تاڑو نے یہ سنا اور شوخی والی کفیت اس پر واپس آگئی۔اور تاڑو شاعری سنانے اپنی معشوق کتیا کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
جاتے ہوئے تاڑو کو خوامخواہ جاپانی نے بھی شعر سنا ہی دیا۔
دو دلوں کا ملنا بھی ، اتفاق ہے شاید
مختصر کہانی کے ، بال وپر نہیں ہوتے ۔
****
نوٹ؛-
اس مختصر کہانی کا پلاٹ "قلندر نما بندر" از سلیم خان سے لیا گیا ہے۔۔
مختصر کہانی مختصر کہانی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:20 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.