جینے کی لذت

شیشے کی بوتل میں "ھٹی" سے دو روپے کا مٹی کا تیل خرید کر لانے والےکو معلوم ہوتا ہے۔ یہ مٹی کا تیل گھر پہونچے گا تو رات کو لالٹین سے اجالہ ہو گا۔
دیہات میں سکوت کی دبیز چادر اوڑھے ہوئے خاموش رات کو دور ،دور کہیں گیڈر کی لمبی آؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ ،
سن کر کتاب سے سر اٹھا کر "رات" کو جس نے محسو س کیا اس کا سحر طاری کردینے والی "کفیت" بندہ مرتے دم تک نہیں بھولتا۔
غریب بچے جو "گیند" نہیں خرید سکتے، وہ بچے مومی لفافے جمع کرکے ان مومی لفافوں کو پگھلا کر "گیند" بنا لیتے ہیں ،کبھی بنائی؟
پگھلتا ہوا موم ہاتھ یا انگلی پر گرتا ہے تو درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں لیکن گیند کی تیاری کی مشغولیت ان ٹیسوں میں اک امید کی مٹھاس پیدا کر دیتی ہیں، اور درد ، درد محسوس نہیں ہوتا۔
ان درد کی ٹیسوں کو بجھانے والی مٹھاس جس نے یاد رکھی اس سحر کی کفیت کو مرتے دم تک نہیں بھولتا۔
اندھیری رات کو "لالٹین" کا تیل ختم ہو جائے تو "موم بتی" کی دھیمی دھیمی ناچتی مدھم روشنی میں تدریسی کتاب پڑھیں تو مشکل ہو تی ہے۔
"موم بتی" کو ہاتھ میں احتیاط سے پکڑ کر "سبق" کو غور سے پڑھنے کی کوشش کی جائے تو
"موم بتی" کا پگھلتا موم ہاتھ یا کلائی پر گرتا ہے تو میٹھی میٹھی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔ منہ سے "سی" نکل جاتا ہے۔
موم بتی کتاب اور ان درد کی میٹھی ٹیسوں کے سحر کی "کفیت" مرتے دم تک نہیں بھولتی۔
رات نیند کے آغوش میں جانے سے پہلے
"کتاب" سے زندگی جینے کا "سبق" ایک ایک آیت ایک ایک ترجمے کی سطر پڑھتے ہوئے ۔
اور
کسی سطر کسی آیت پر ہر سُو ، اطراف پر خاموشی چھا جائے۔
عجیب کفیت طاری ہو جائے۔
اور تکیئے کے غلاف کی نمی کی ٹھنڈک پر سکون نیند کی وادیوں میں گھسیٹ لے جائے،اس "کفیت" کا سحر شاذونادر ہی "حاصل" ہوتا ہے۔
ہاں
جو ایک بار چکھ لے وہ بار بار اس کا متلاشی ہی رہتا ہے۔
جینے کی لذت جینے کی لذت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:38 PM Rating: 5

1 تبصرہ:

عمیر محمود کہا...

اف۔ کیا خوبصورت تحریر ہے۔ پڑھتے ہوئے -سی- نکل گیا۔ بہت ہی اعلیٰ۔ بہت ہی خوب۔ تعریف کےلیے لفظ ہی نہیں مل رہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.