پیاری دنیا

ہم حدیث مبارکہ ،آیات کریمہ سنتے سناتے ہیں۔
عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویدار ہیں۔
اللہ کی وحدانیت ثابت کرتے ہیں۔
اللہ کی شان کو پیڑوں بوٹوں پتوں جانور پر اس کا نام لکھا دیکھ کر سبحان اللہ کہتے نہیں تھکتے ۔۔ اور تو اور آسمان پر چھائے بادلوں کی اشکال میں بھی  اللہ رسول کا نام تلاش کر لیتے ہیں۔۔
یہ جنگل پہاڑ زمین آسمان اللہ نے کتنے پیارے کتنے خوبصورت بنائے ہیں۔ اور ان میں ہم اللہ رسول کا نام دیکھ ہی لیتے ہیں۔
اٹھتے بیٹھتے اللہ اللہ کرتے ہیں۔
پھر کیا وجہ ہے ؟
ہم ملحدوں ، کافروں سے بدتر حالت میں ہیں۔
یہ حالت معاشی ہو یا معاشرتی سماجی ہو یا اخلاقی  ہر حالت میں ملحدوں کافروں سے بدتر ہیں۔
جن کا "بیت الخلاء" کا نظام بھی ٹھیک کام نہیں کررہا ۔
وہ "سیکولر نظام" کی برائیوں کو مفصل بیان کر سکتے ہیں۔
اپنی حالت کو کسی نظم و نسق کسی قانون قاعدے اصول کا پابند کرنے کو مصیبت سمجھتے ہیں۔
قریبی پہاڑ ہے۔ ہفتے میں ایک دو بار دوڑ لگانے جاتا ہوں۔
برفباری کا سیزن ختم ہوا۔
آج بھی ہم جو تین انتہائی قریبی دوست ہیں صبح صبح اس پہاڑ پر دوڑ لگا نے کیلئے پہونچ گئے۔
انسان کسی معاشرے میں بھی بستے ہوں تو ان میں اچھے یا برے پائے جاتے ہیں لیکن اس انسانی معاشرے کے "اچھے" اپنے حصے کی اچھائی کے فرض کو ضرور نباتے ہیں۔
اس پہاڑ کی سڑک کے آس پاس کھائیاں ہیں۔ جاپانی بھی جو لاپرواہ یا بیہودہ ہوتے ہیں ۔
وہ بھی کچرا کوڑا کرکٹ گھومنے پھرنے جاتے ہیں تو لاپراہی سے ادھر ادھر پھینک دیتے ہیں۔
ہم دوڑ لگا رہے تھے کہ دیکھا "بڈھا کلب" کے کافی تعداد میں ریٹائر بزرگ ستر سال کے آس پاس کی عمر کے لوگ برساتی اور دستانے پہنے پلاسٹک کے تھیلوں میں کچرا کوڑا کرکٹ جمع کر رہے تھے۔
ہم انہیں صبح کا سلام کرتے ہوئے گذر گئے۔ پہلے ہم تینوں ہنسی مذاق اور اپنی بک بک کر رہے تھے کہ ان بزرگوں کے پاس سے گذرنے کے بعد تینوں پر خاموشی نے قبضہ کر لیا۔۔
جب ہم چوٹی پر پہونچے تو ہم تین میں سے ایک لڑکی می ھارو نے خاموشی توڑی اور کہنے لگیں۔
ہم گرمیوں ،سردیوں میں اس پہاڑ پر دوڑ لگاتے ہیں ، اور اپنی ذہنی نفسیاتی اعصابی تھکاؤٹ دور کرکے ھشاش بشاش ہو کر واپس جاتے ہیں۔
اور یہ جگہ ہماری پسندیدہ ہے۔
لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہمیں بھی اس پہاڑ کی صفائی کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاھئے۔
"یاما او کھیرے نی شیتے کھانشا نو کی موچی او میسے ماشو یو"
پہاڑ کی صفائی کرکے "قدرت" کیلئے اپنے تشکر کے جذبات کا اظہار کیوں نہ کریں۔
مجبوری تھی کہ اس کا ایسا کہنے کا مطلب یہی تھا کہ اس نے اب ہماری نہیں سننی اور اپنی ہی کرنی ہے۔
ہم نے دوڑ لگانی چھوڑی اور بزرگوں کے ساتھ کچرا اٹھانے پر لگ گئے۔
تین گھنٹوں میں تین ٹرک کچرا جمع ہوا اور بزرگوں نے بھی ہمارا شکریہ ادا کیا اور خوبصورت مسکراتے چہروں سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کہ
بھئی آپ لوگوں کا ہمارے ساتھ شامل ہو کر صفائی کرنے کی ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔۔بہت بہت شکریہ
ہم تینوں واپسی کے راستے میں آہستہ آہستہ دوڑ رہے تھے ۔لیکن ہر بار کیطرح ہمارے قہقہوں میں کھوکھلا پن یا بناوٹ نہیں تھی ۔
آخر ہمارے آج کا اختتام تاکابایاشی کے ان الفاظ مین ہوا کہ
یارا ہم واقعی بیسٹ فرینڈ ہیں۔
ہم تینوں خاموش بھی ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کے خیالات کو محسوس کرتے ہیں۔
اچھے اور پیارے ہم خیال محبت کرنے والے دوست واقعی نعمتِ خداوندی ہوتے ہیں اور اس کیلئے ہم قوم ہم زبان ہم ملک ہونا لازمی نہیں ہوتا۔
بس انسان ہونا ہی کافی ہوتا ہے۔۔
ہاں
دنیا خالق نے واقعی ہی بہت خوبصورت اور پیاری بنائی ہے۔۔اب ہم انسانوں پر ہے کہ ہم اپنے آس پاس کا کوڑاکرکٹ کچرا خود صاف کریں یا کسی کا فرض ،ذمہ داری کہہ کر گندگی میں ہی رہنا بسنا شرع کر دیں۔
پیاری دنیا پیاری دنیا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:27 AM Rating: 5

3 تبصرے:

نورین تبسم کہا...

۔۔۔۔" اچھے اور پیارے ہم خیال محبت کرنے والے دوست واقعی نعمتِ خداوندی ہوتے ہیں اور اس کیلئے ہم قوم ہم زبان ہم ملک ہونا لازمی نہیں ہوتا۔بس انسان ہونا ہی کافی ہوتا ہے"۔
دکھ وہی ہے جو ڈیڑھ صدی پہلے غالب کو لاحق تھا اور المیہ یہی ہے کہ ہم آج بھی اسی معاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔۔
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

عاطف سلمان کہا...

اصل میں سارہ قصور ہمارے مسجد کے ملا حضرات کا ہے جنھوں نے ہمارے ذہنوں میں پیاری دنیا کے بجائے پیاری آخرت کی اہمیت کا خیال ڈال دیا ہے۔
اور ہمارا وہی حال ہے " نا خدا ملا نا ہی وصال صنم "
اب جاپانی بچارے کیا کریں نا انکو جنت کی خواہش ںا ہی دوزخ کا ڈر ۔ لے دے کے ایک دنیا ہی بچی ہے انکے پاس جسکو وہ پالش کر کے چمکاتے رہتے ہیں ۔ ان بچاروں کا بھی کوئی قصور نہیں انکو کسی نے بتایا ہی نہیں کہ یہ دنیا فانی ہے

عمیر کہا...

عاطف بھائی، نجانے آپ کا واسطہ کونسے ملا جی پڑا ہے جو صرف آخرت کی اہمیت اجاگر کرتا ہے ۔
مخلصانہ مشورہ ہے کسی حقیقی ملا جی کی صحبت تلاش کریں ، وہ آپ کو دنیا بھی بتائے گا اور آخرت بھی۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.