پاکیِ دل

اپنی نظروں کی حفاظت کرو۔۔
یہ حفاطت صرف خواتین کو ٹکر ٹکر دیکھنے تک کی ہی ہے؟
دل کی پاکی کیا ہے؟
عرق گلاب سے دل کو "نہایاں نہایاں" کروا کر دل کی پاکی حاصل کرنا مشکل ہے کہ اس کیلئے "وڈے آپریشن" سے سینہ چاک کرنا پڑے گا۔
ہم کمپیوٹر کو اسٹارٹ کرتے ہیں تو ہمارا ذہن کیا کرنے کا بنا ہوا ہوتا ہے؟
کوئی تدریسی نصاب دیکھنے پڑھنے کی خواہش رکھتا ہےیا
کوئی فحش مواد اور کسی کا دل کرے تو دینی مواد دیکھتا ہے۔
ہر طرح کی معلومات "گوگل دیوتا" کا چرخہ ہمیں دینے کو تیار ہوتا ہے۔
دل کی "پاکی" ہم سے وہ ہی "سرچ" کروائے گی جو اس کیلئے قابلِ قبول ہوگا۔
نظریں وہ کچھ ہی دیکھنے کیطرف راغب ہوں گئیں جس کی "خواہش" دل کرے گا۔
دل ہی ناپاک ہوگا تو نظروں کی حفاظت کا حصار توڑ دے گا۔
اور دماغ کو بدبودار ہی کرے گا نا؟
دل اچھا ہے تو آنکھوں کو وہ کچھ ہی دیکھنے کی ترغیب دے گا جس سے دماغ معطر اور روشن ہو۔اور پاکیزہ دل ہی نظروں کی حفاظت پر "چوکیدارہ" رکھے گا۔
بس دل ہی ناپاک ہے تو "بد گمانی " کا گناہ تو سوتے جاگتے کرواتا رہے گا۔
انسانی آنکھیں دل دماغ بھی کمپیوٹر کی طرح ہی ہیں کہ
انسان اس سے کیا دیکھنا چاہتا ہے۔
"اندروں" گندا غلیظ ہے تو ہر طرف غلاظت ہی "سرچ" کرتا رہے گا اور
دیکھ کر انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ تھو تھو توبہ توبہ کرنے کی منافقت بھی کرتا رہے گا۔
میں "نماز " پڑھنے لگا ہوں!!
کوئی بھی "بڑے مسلمان " ہونے کا خبط رکھنے والا اچھل پڑے گا کہ
اوئے تم نما ز پڑھتے ہو؟
شرم کرو شرم
صلواۃ پڑھو۔۔یا اسلام چھوڑ دو!!!
بندہ ہکا بکا ہوجائے گا۔۔
یا اللہ ماجرا کیا ہے؟
میرے جیسا عام مسلمان تو "روٹین ورک" کر رہا ہوتا ہے۔
اور علم والا اپنے دل کی "حالت" کے مطابق "چیک" کر رہا ہوتا ہے۔
نماز لفظ پارسی کا ہے، اور پارسی آگ کی پرستش کرنے والے عمل کو نماز کہتے تھے۔
عجمیوں کیلئے جب "صلواۃ" کا ترجمہ کیا گیا تو لفظ "نماز" اختیار کر لیا گا۔
جی "بڑے مسلمان" صاحب اب مجھے کیا کرنا چاھئے؟
تو آئیندہ سے صلواۃ پڑھنا کہا کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایں !! وہ کیوں؟
نماز لفظ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے اس لئے صلواۃ لفظ استعمال کیا کرو۔۔
ٹھیک ہے بڑے مسلمان صاحب تصیح کا بہت بہت شکریہ۔۔
میرے جیسے کو ڈانگ پڑ گئی ۔۔
خود ساختہ مولوی صاحب "وڈے مسلمان" ہیں تو ظاہر سی بات ہے ہمارا ان سے کیا مقابلہ ہوسکتا ہے۔
منمناتی آواز میں عرض کر دیں کہ بڑے مسلمان صاحب دراصل نماز پڑھتا ہوں تو
میرے ذہن میں نماز کا تصور کچھ اس طرح ہوتا ہے۔۔
جو میں نے اپنی جستجو سے سمجھا ہے۔
جسطرح ہم کسی سے فون پر رابطہ "قائم " کرتے ہیں نا
اسے اپنا حال احوال بتاتے ہیں۔
بس میں اسی طرح نماز کے ذریعے "مالک" سے "رابطہ قائم" کرتا ہوں
اور دن میں پانچ بار "رابطہ قائم" کرتا ہوں۔
کم ازکم سترہ بار اپنی رپورٹ پیش کرتا ہوں
اور اپنی "بندگی" کی کوتاہیاں خامیاں بتا کر معافی کا طلبگار ہوتا ہوں۔
اب بڑے مسلمان صاحب پھر بھی فتوہ لگا دیں کہ
اوئے "جاہل" بیوقوف میری نہیں مان رہا
اور فون شون کرتا پھر رہا ہے۔۔
کافر مشرک بدعتی گمراہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم کہاں جائیں؟۔۔
ہم تو تیری بندگی کرتے ہیں اور
یہ بڑا مسلمان
ہم سے اپنی منوانے کی ضد ہٹ دھرمی پر ڈٹا ہوا ہے۔۔
دسو جی اب کیا کریں؟
اسے ہم اس لعنتی دین دشمن بڑے مسلمان کے "دل کی ناپاکی" نا سمجھیں تو کیا سمجھیں؟
پاکیِ دل پاکیِ دل Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 7:50 PM Rating: 5

1 تبصرہ:

عادل کہا...

یاسر بھائی تخلیات سے بیتی زندگی کو جوڑکر آپ کی تحریر ایک عجیب سا رُخ اختیار کرتی ہے۔ولایت میں مقیم مسلمان ہمیشہ کبھی نہ کبھی دین کے معاملے میں تزبب کا شکار ہوتے ہیں۔کافی خطرناک چیز ہے۔دین کے معملات میں زیادہ الجھنے سے میں نے کئی لوگوں کو اسلام سے بدزن ہوتے یا خارج ہوتے دیکھا ہے۔اﷲ آپ کے ایمان کو پختہ کرے اور ان حوال سے خیریت سے نکالے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.