معصوم ہرن

انسان "درندے" کو مارنے جنگل کا رخ کرتا ہے تو اسے شکار کہتے ہیں۔ درندے اور دیگر جانوروں کے شکاری کو انسان ہی بہادر اور دلیری کی سند دیتا ہے ۔ شکاری کی مردانگی کی تعریف کرتا ہے۔
ایڈونچر کے قصیدوں کی کتب لکھی جاتی ہیں۔ مطالعہ کا شوق رکھنے والے اپنے گرم بستروں میں گھس کر "الفاظ" کے سحر میں گم لطف اندوز ہوتے ہیں۔
شکاری درندوں اور معصوم جانوروں کی "کھالوں" اور "سروں" سے ڈرائینگ روم سجاتا ہے۔ اور مہمانوں کو اپنی مہم جوئی کے قصے فخر سے سنا کر داد وصول کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔
درندہ جب انسان کو چیر پھاڑ دیتا ہے تو اسے "درندگی" بے رحمی جیسے "بد" الفاظ سے نوازا جاتا ہے۔ اور اس کے لئے رحم کے جذبات کوئی محسوس نہیں کرتا۔
شکاری درندے کے پنجوں اور جبڑوں کا شکار ہو بھی جائے تو شکاری کیلئے ہر کسی کے سینے میں رحم کا جذبہ امڈ آتا ہے۔
انسان ، انسانوں کے شکار پر سرحدوں کو پامال کرتے ہوئے ملک و شہر تہس نہس کرتا ہے تو تاریخ میں "فاتح" عالم کے طور پر رقم ہو جاتا ہے۔
حریت ، غیرت ، دلیری ، بہادری، سر کٹانا، جیسی رومانوں صفات حملہ آور اور مدافعت کرنے والے دونوں کے حصے میں آتی ہیں۔
لیکن ان صفات کا "حسن" بیرونی حملہ آور سے مقابلہ کرنے والوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔
ایسے ہی جیسے مرد اور عورت انسان میں سب ہی ہوتے ہیں لیکن وجاہت کا دیوتا  اور حسن کی دیوی کا لقب "مخصوص " کو حاصل ہو تا ہے۔۔۔۔۔ہیں جی
ہمارا تعلق انسانوں کے اس "قبیلے" سے ہے جو "جنگل " کا "معصوم ہرن" ہوتا ہے۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم "جنگل" کے "معصوم ہرن" کی طرح ہیں۔
جنگل کے "درندوں" اور "شکاری " دونوں کے پنجوں جبڑوں سے چیر پھاڑ دیئے جاتے ہیں۔
لیکن۔
شاخ در شاخ "آنیاں جانیاں" دکھانے والے بندروں کے پکائے ہوئے "کانسپریسی پکوڑوں" سے حواس باختہ نسل در نسل "درندوں " او ر "شکاریوں" کے پیٹ کا ایندھن اور ڈرائینگ رومز کی رونق بنائے جاتے ہیں۔
معصوم ہرن معصوم ہرن Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:39 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.