مسٹنڈا

زمانہ طالب علمی میں نصابی کتب کے ساتھ ٹیوشن یا موٹے موٹے خلاصے پڑھنے سے کچھ نہ کچھ "قابلیت" میں اضافہ ہو ہی جاتا ہے۔
بچپن میں چند لڑکوں کا کوئی "گروہ " کٹ لگا دے تو بڑا رونا آتا ہے ، کسی بڑے سے شکایت کریں تو ہو سکتا ہے وہ بڑا مزاج کا اچھا ہو تو پیار سے سب کو سمجھا کر لڑائی جھگڑے کو رفع دفعہ کردے۔
اگر "بڑا" مزاج کا "عقلمند" ہوا تو ایک عدد جھانپڑ رسید کرکے سمجھائے گا کہ...
روئے گا تو بار بار مار کھائے گا۔
"رو" کر ہی بار بار مار کھانی ہے۔ تو روئے بغیر بار بار مار کھا لے نا۔
نصابی کتب کے خلاصے کیطرح زندگی کا بھی ایک عدد موٹا خلاصہ آپ کو پڑھائے گا کہ
جا اور جو سب سے تگڑا اور "گروہ" کا سرغنہ ہے۔ اس پر چڑھائی کردے۔مار پڑنے کا ڈر تو ہے ہی لیکن "رو" کر مار کھانے کے بجائے۔ روئے بغیر مار کھانے کی ہمت کرنی پڑے گی ورنہ رونا بھی ہے اور مار بھی کھانی ہے۔
اس کے بعد زندگی کے نصابی و تدریسی خلاصے کا "حاصل" یہ معلوم پڑے گا کہ
روئے بغیر زندگی جیسے تگڑے مسٹنڈے پر چڑھائی کر دیں۔
"کُٹ" تو لگے گی۔ لیکن مار دھاڑ چیر پھاڑ کرنے کی "قابلیت" میں اضافہ ہو گا۔ ایسے ہی تو بڑے بزرگوں نے ارشاد نہیں کیا ہوا کہ
دشمنی رکھنی ہے تو تگڑے سے رکھو کمزور سے کیا دشمنی رکھنی۔
بس زندگی کو "جینے" کیلئے "قابلیت" میں اضافہ کرنا چاھئے،ورنہ یہ تگڑا مسٹنڈا مار مار کر رولائے گا اور رولا کر بار بار مارے گا۔
رو رو کر مار کھانے کے بجائے روئے بغیر ہی مار کھا لی جائے تو مسکرانے کی "قابلیت" تو آ ہی جائے گی۔
مسٹنڈا مسٹنڈا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 7:04 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.