باہر کی کمائی



"باہر" کی کمائی سے وقتی طور پر معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں "ضروریات" پوری ہو سکتی ہیں۔ اولاد کی ہرورش ہو سکتی ہے۔بہن بھائیوں کی پرورش ہو سکتی ہے۔ "اصل مسائل" ،"باہر" کی کمائی حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کر دیتی ہے۔
گھر کی عورتوں میں قناعت ختم ہو جاتی ہے، کھانے پینے پہننے کے علاوہ "مصائب" پیدا کرنے کی "خوبیاں" بھی غیر محسوس طریقے سے داخل ہو جاتی ہیں۔
نئی نسل تعلیم یافتہ تو ہو جاتی ہے، لیکن یہ نئی نسل نکموں کی فوج ظفر موج بن جاتی ہے۔
کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے انہی کیلئے ک...ہا جاتا ہے۔پیسے کی ریل پیل سے آجانے والی نمود ونمائیش تباہ کن اثرات دکھاتی ہے۔
آج تک ایسے گھرانے نہیں دیکھے ، جس میں گھر کا نظام عورت کے ہاتھ میں ہو باپ "باہر" ہوتا ہو، اور اولاد قابل ذمہ دار ہو یہ گھرانہ باپ کی جدائی سے جان چھڑانے کیلئے باپ کی منت سماجت کرکے باپ کو واپس وطن بلائے اور باپ معاشی فراغت سے سکون کی زندگی گذار سکے۔
"باہر" کی کمائی جس گھر میں آتی ہے ، اس گھر میں اتفاق سلوک کتے کی موت ۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ سوری ۔۔۔تاڑو یار معافی "پاکستانی " کی موت مر جاتا ہے۔



"باہر" کی کمائی کے تباہ کُن اثرات معاشرے میں بھی پھیل جاتے ہیں، عزیز و اقارب کے دلوں میں رشک حسد بغض و عناد لالچ جیسی برائیوں کی پیداوار کا باعث بھی بنتی ہے۔
ظاہر سے بات ہے کل کے بھوکے ننگے آج لش لش کرتے پھر رہے ہوں تو کون خوش ہو گا؟
پیر سائیں بھی نذرانے کی طلب کرے ہے میرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاند
معاشرے میں افراتفری آپا دھاپی ہوس پیسے کی پوجا اس باہر کی کمائی کی نمود نمائیش کی ہی پیدا کردہ ہوتی ہے۔
پاکستان کے نناوے فیصد گھریلو مسائل عورتوں کے پیدا کردہ ہوتے ہیں اور نناوے فیصد ہی اس "باہر" کی کمائی کے پیدا کر دہ ہوتے ہیں۔
معاشرے کا سٹیٹس یا اپنا "باہر" ہونا پاکستان میں جاکر کسی کو یہ بتانے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ۔یارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بڑی اونچی شے ہوں۔
وہ بتانا یہ ہوتا ہے ،،،کہ میں جاپان ہوتا ہوں!! امریکہ ہوتا ہوں!! انگلینڈ ہوتا ہوں!!۔
یا دیگر کسی بھی مغربی معاشرے والے ملک یا یورپ میں ہونے کا بتانا ہوتا ہے۔
چاھے ایسے ممالک میں میرے طرح "ٹٹیاں" دھونے کا "بزنس" ہی کیوں نہ کرنے والا ہو۔۔
وقتی طور پر اپنا تو سر "فخر " سے بلند ہو ہی جاتا ہے ۔۔۔۔ہیں جی
عرب ممالک میں بے شک اچھی جاب یا بزنس کرنے والا بھی آخر ہوتا تو "عرب" میں ہی ہے نا۔۔ٹھیک ہے یار تھوڑا بہت پیسہ ہی تو ہوگا :D 
جسطرح کھرلی کے ڈنگر کا ہر وقت دھیان صرف کھرلی کیطرف ہی ہوتا ہے "باہر" کی کمائی والے گھرانے کے "ڈنگروں" کا دھیان بھی زیادہ تر "چنگیر" تک ہی ہوتا ہے۔
جسطرح "کھرلی" میں "باہر" سے چارہ ڈالا جاتا ہے اسی طرح "چنگیر" میں بھی باہر سے "روٹی" ڈالی جاتی ہے۔
بس کھانے والے کا فرق ہی ہوتا ہے۔
دو ٹانگوں والا "ڈنگر" یا چار "ٹانگوں" والا ڈنگر۔۔ہیں جی۔
* چنگیر * پھوڑ سے بنے اس برتن کو کہتے ہیں جس میں "روٹیاں" رکھی جاتی ہیں۔
نوٹ ؛- "باہر" سے کما کر بھیجنے والے معزز حضرات سے یہ تحریر لکھنے پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں اور "کھرلی " کیطرف دھیان لگائے بیٹھے جو ہیں ان کی خیر ہے انہیں تو سمجھ ہی نہیں آئی ہوگی کہ ہم نے کیا "ارشاد" فرمایا :D


باہر کی کمائی باہر کی کمائی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:32 AM Rating: 5

1 تبصرہ:

عمیر کہا...

درست فرمایا۔۔لیکن
ایسی خواتین بھی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں جو گھر کے سربراہ کی غیر موجودگی میں اولاد کی تعلیم و تربیت میں ایک باپ کی سی سختی بھی اختیار رکھیں۔ اور ایسا کرتے ہوئے انہیں عام ماؤں کی نسبت بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.