بد سکون روحیں

دماغ پُرسکوں اور دل مطمعین ہوتو برے اور سخت الفاظ سن کر بھی غصہ نہیں آتا۔ الفاظ کی زبان یا قلم سے ادائیگی سے کسی کو غصہ دلا کر دانت کچکچانے  اور انگلیاں چبانے پر بھی مجبور کیا جا سکتا ہے۔
لیکن شرط یہ ہے کہ ایک "فاصلہ " رکھا جائے تاکہ "تشدد" سے بچنے کیلئے بھاگنے کا موقعہ مل سکے۔ اس کیلئے "ٹانگوں" کو مضبوط رکھنے کے ساتھ ساتھ "دل پھیپھڑے" بھی حسبِ ضرورت فعال رکھنے کی ضرورت لازمی ہے۔
ورنہ چمڑی سخت اور ھڈیاں مضبوط ہونا بعد میں "ہلدی کی ٹھکور" کیلئے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
عموماً ایسا ہوتا ہے کہ "کہا" کچھ جا رہا ہوتا ہے اور "سمجھا" کچھ جا رہا ہوتا ہے۔اور صرف اتنی "چھوٹی" سی بات پر "بات کا بتنگڑ" اور "بتنگڑ کا جھکڑ" بن جاتا ہے اور اس کے بعد دے دھنا دھن۔۔گالی گلوچ دھینگا مشتی سے لیکر نسل در نسل چلنے والی دشمنیاں جنم لے لیتی ہیں۔
"سننے والا" ، "کہنے والے" کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھ لے تو "خوامخواہ" کا فساد پیدا نہیں ہوتا۔
"کہنے والا" بھی انسان ہی ہوتا ہے ایسے ہی جیسے "سننے والا" تمام بشری خامیوں ،کوتاہیوں سے بھر پور ہوتا ہے۔
ہاں اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"کہنے والا" میڈ ان جاپان " کا روبوٹ ہے تو آپ توڑ پھوڑ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں لیکن اس کے لئے بھی شرط یہی لاگو ہوتی ہے کہ یہ روبوٹ آپ کا خریدا ہوا ہو ورنہ سیدھا سادہ کسی کی "پراپرٹی" کو نقصان پہونچانے کا قابلِ گرفت پولیس کیس ہے۔
کیونکہ ہم نے پاکستانی معاشرے میں جنم لیا ہے، ماں باپ بہن بھائی اپنے سارے پیارے رشتے پاکستان میں "رکھ" کر "پال" رہے ہیں تو ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم پاکستانی معاشرے سے کٹ نہیں سکتے ۔ اور معاشرے میں مذہب اور سیاست لازمی شے ہوتی ہے۔
اور یہ مجبوری ہمیں عموماً مذہب اور سیاست پر یا دیگر معاشرتی برائیوں پر "زبان درازی" پر مجبور کر دیتی ہے۔
مسئلہ اس وقت ہمارے لئے "گھمبیر " ہو جاتا ہے ۔ جب ہم کہتے ہیں "نماز" پڑھو!!
سننے والا کہتا ہے، نماز میرا ذاتی مسئلہ ہے تو کیوں نماز پڑھنے کا کہہ رہا ہے؟
یہ تو سیکولر ، لبرل حضرات کا رویہ ہوتا ہے۔
جو کہ قابلِ فہم ہی ہوتا ہے۔
"مذہبی" حضرات کا "حلیہ مبارک" دیکھ کر ان کا نماز نہ پڑھنے کے رویئے کو دیکھ کر انہیں ذرا عربی لہجے میں کہہ دیا جائے کہ
صلو'ۃ پڑ ھا کریں تو
انہوں نے واقعی میں "صلوات" پڑھنی شروع کر دینی ہوتی ہے۔ بندہ حیران و پریشان ہو جاتا ہے کہ یا اللہ یہ ماجرا کیا ہے؟!!
یہی حال تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنان کا ہے۔
کچھ قوم کا درد دل رکھنے والے لوگ صرف اس خیال سے کہہ دیتے ہیں کہ "اچھائی" کی دعوت اور "برائی" کا احساس دلا دیا جائےتو
ہوتا ان کے ساتھ بھی یہی ہے کہ
صلو'ۃ اور صلوات کا فرق نہ سمجھنے والے یا دونوں کے معانی کو سمجھتے ہوئے بھی "شروع" ہو جاتے ہیں ۔لیکن ان کا مقصد کسی طرح بھی "سلامتی" والا نہیں ہوتا۔
یعنی "صلوات" کا معنی ان کے نزدیک ایک ہی ہوتا ہے۔
صلوات۔ (صلو'ۃ) عربی کا لفظ ہے  "نماز اور درود" وغیرہ کے معانی ہیں۔
اردو میں یہ لفظ کسی چیز یا فعل سے دست بردار ہونے ، باز آنے ، بیزار ہونے کے معانی بھی استعمال ہوتا ہے۔
اور اسی طرح یہ لفظ بُرا کہنے اور گالی دینے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
تو جناب لفظ "صلوات" ہمارے "مذہبی اور سیاسی " جیالے صرف اردو کے معانی میں ہی سمجھتے ہیں۔
اور ان سے معاشرے میں بہتری کیلئے امید رکھنا ایسا ہی جیسے "کانٹوں" سے دست بدستہ عرض کیا جائے کہ برائے مہربانی "رستہ" صاف کردیں۔
*
حالِ دل تم سے کہیں گے تو سنو گے ، توبہ
اور منہ پھیر کے صلوات سناء گے ہمیں  (سوز)
*
دل بتوں کو دے کے ، دیں کا دھیان بھی جاتا رہا
دین کو صلوات ہے ، ایمان بھی جاتا رہا   (ظفر)

 
بد سکون روحیں بد سکون روحیں Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:08 AM Rating: 5

5 تبصرے:

Saad Khalid کہا...

صبح صبح دماغ کی دہی کر دی آپ نے!

Ammarah Khan کہا...

2 ki jaga 4 cup chae pina par gye:o

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

واقعی بھئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے بھی ابھی "دوبارہ" پڑھا تو تین کالی کافیاں نوشنی پڑ گئیں :D

عمیر کہا...

کوشش کر رہا ہوں کہ لکھاری کا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد سمجھ آجائے، مگر عاجز کی عقلِ ناقص شاید اس قابل نہیں۔ :-(

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

معذرت جناب
واقعی ، کچھ لکھا ہوا منتشر ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.