جذبات کا غلط استعمال اور لا قانونیت

میں ایک بات بتاؤں۔
نوے کی دھائی تھی، ٹوکیو کے مضافات میں ایک علاقہ ہے۔ "کانا گاوا" اس کا ایک شہر ہے "کاما کورا" اس میں ایک بدھوں کا ٹیمپل ہے اور اس ٹیمپل کے باہرایک بہت بڑا "بدھا شریف" کا مجسمہ ہے۔

اس بدھا کے مجسمے کے منہ پر کسی "مرد مجاہد" نے رنگ کی پچکاری مار دی تھی۔ جتنا بڑا یہ مجسما ہے اس کے منہ پر رنگ کی پچکاری مارنا مشکل ہی نہیں ناممکن لگتا ہے۔ نوے کی دھائی میں جاپان میں پاکستانی ، ایرانی، بنگالی کافی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ہندوستانی اکا دکا ہی ہوتے تھے۔
بنگالی بیچارے شریف ہوتے ہیں، موقعہ ملے تو سب سے پہلے پاکستانیوں کے منہ پر "پچکاری" ماریں گے ورنہ کان دبا کر اپنےکام سے کام رکھتے ہیں "ایرانی" جن سے ہمارا واسطہ یہاں پڑا ہے یا جیسے ایرانیوں کا مشاہدہ ہمیں یہاں ہوا ہے ، اس کے مطابق "کلُ حلالہ تُن" ۔ ھذا جاپان تُن ، شراب وئی تُن ، خنزیر وئی تُن، جو کچھ ہتھے لگے تُنی تُن۔ یعنی کہ مذہب وطن میں زندہ جاوید ہے اور جاپان "دارالحرب" ہے۔ اس لئے یہاں سب کچھ حلال ہے۔ جناب یہ کسی قسم کا تعصب نہیں زیادہ تر ایرانیوں سے پوچھنے کے بعد یہی جواب موصول ہوا تھا۔ اور اب بھی اکا دکا ایرانی سے یہی جواب موصول ہوتا ہے۔ یعنی جو کچھ ہتھے لگے تُنی تُن۔

رہ جاتے ہیں پاکستانی تو جتنے ایرانی ، بنگالی ،اور دیگر ممالک کے "مسلمان یہاں آئے تھے ۔ان میں سب سے زیادہ پاکستانی مسلمانوں نے دینی کام سرانجام دیئے ہیں۔ یعنی جاپان کے کونے کونے میں مساجد یا مصلے تعمیر کر دیئے ہیں۔
تو بات کر رہا تھا، بدھا جی کے مجسمے کی ۔
پولیس نے ظاہر ہے تفتیش کرنی تھی اور ہم اس وقت کچھ پیسہ بنانے کے چکر میں پولیس اور عدالت کے ساتھ ترجمے اور ترجمانی کا کام کرتے تھے، اچھا وقت تھا، "دیسی " بے حساب ہوتے تھے "کچھ نہ کچھ" کرتے رہتے تھے جس سے ہمارا روزگار خوب چل رہا تھا، ورنہ غیر قانونی رہائشی یعنی اوور اسٹے ہونے کی وجہ سے بھی کوئی نا کوئی پکڑا جاتا تھا اور ہماری "دیہاڑی" لگ ہی جاتی تھی تو ہمیں پولیس کے ساتھ ترجمانی کا کام سر انجام دینے سے معلوم ہوا تھا کہ کسی محمود غزنوی نے "کاما کورا" کے بت کو "رنگین" کرنے کے ساتھ ساتھ نیچے میسیج لکھ دیا تھا۔
"ہم ہیں بت شکن،
دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے

بحرحال مجاہد صاحب تو خیر سے پکڑے نہ گئے، میرے خیال میں پرانے وقتوں سے جاپان میں اور خاص کر "کانا گاوا" میں رہنے والے پاکستانی بھی اس وقت پولیس کی والہانہ محبت کا شکا ر ضرور ہوئے ہوں گے۔
یا کم از کم انہیں یاد تو ضرور ہو گا؟

جاپانی قوم "انتہائی بے غیرت" ہے ،کہ ان کے "بدھا جی" کی بے حرمتی ہوئی لیکن کوئی جلوس وغیرہ نہیں نکالا اور کثیر تعداد میں "مسلمان" ہاتھ لگنے کے باوجود کسی کو بھٹی میں جھونک کر زندہ نہ جلایا!!
افسوس کہ ہم اگر دو "غلیظ گندے بھنگیوں" پر عوامی تشدد مار پیٹ کے بعد انہیں زندہ جلا دینے پر تھوڑا سا افسوس ہی کر دیں تو دین سے دوری کا طعنہ جاپانی ایجنٹ بھی بنا دیئے جا سکتے ہیں، سیکولر لبرل بھی بنا دیئے جا سکتے ہیں۔  لیکن حق سمجھ کر اپنی زبان اپنا قلم "ہلانے " سے ڈرتے ہیں۔

تو عرض ہے مسلمانو۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کی جتنی بے حرمتی میں ہر بار پاکستان جا کر ہوتی دیکھتا ہوں دنیا میں کسی کالے کافر کے ملک میں نہیں دیکھی۔

جاؤ!!
اسلام آباد کی کسی بھی مارکیٹ جس میں مسجد ہو اس کے باہر کا کوئی درخت دیکھو اس کی کسی شاخ کسی تنے پر بوسیدہ قرآنی اوراق ٹین کے ڈبے میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں اور ہوا چلنے پر دوبارہ مسلمانان پاکستان کے قدموں میں "رُل" رہے ہوتے ہیں۔

جاؤ!!
پکوڑے ،سموسے ، نان ، پراٹھے کھانے کے بعد جو "اخبارات" مروڑ کر پھینک دیتے ہو ان کو ہی اٹھا کر دیکھ لو!!
پڑھنا آتا ہے تو ضرور آیات مبارکہ احادیث مبارکہ نظر آئیں گئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک صحابہ کرام کے نام بھی پڑھ ہی لو گے!!
مجھے "غلیظ بھنگیوں گندے مزدوروں غلطی سے انسانی شکل میں پیدا ہوجانے والوں" سے کوئی ہمدردی نہیں!! کہ ان کے مارے جلائے جانے پر "اسلام" سے باغی ہو جاؤں۔
لیکن اپنے آپ کو مسلمان کہنے والوں کی منافقت جہالت پر کڑتا ضرور ہوں۔ڈرامے بازیوں سے ، اخلاقیات کی پامالی سے مجھے رنج ہوتا ہے۔
مجھے دوسروں کے دوغلے پن ، منافقت سے زیادہ اپنا دوغلہ پن منافقت زیادہ نظر آتی ہے۔
تو بھی نمازی میں بھی نمازی
دل تیرا مسلمان نہ میرامسلمان
جذبات کا غلط استعمال اور لا قانونیت جذبات کا غلط استعمال اور لا قانونیت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:49 PM Rating: 5

13 تبصرے:

Waqar Azam کہا...

صحیح کہا پیرصیب۔۔۔ :(

Ali Malik کہا...

ایرانیوں کے بارے میں تو میں بھی گواہی دے سکتا ہوں ،، کلُ حلالہ تُن” ۔ ھذا جاپان
تُن ، شراب وئی تُن ، خنزیر وئی تُن، جو کچھ ہتھے لگے تُنی تُن۔ ،،،،میرا
ایک برٹش colleague ہے ،اس نے ایرانی لڑکی شادی کی ہوئی،،، اور وہ مجھے
ایران کے قصے سناتا ہے، وہ خود ایران بہت عرصۂ رہا اور فارسی بھی اچھی
بولتا ہے،،،،، اور میری ایک دوست بھی تھی ایران کی ادھر ہانگ کانگ میں،،،،
غلط مطلب نہ لینا انھی دیو ،،،

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ھاھاھااھ۔۔۔۔۔۔۔مولوی غصہ کر گیا یار۔

Ali Malik کہا...

اگر بزرگ اجازت دے تو کیا میں اس کو اپنے ایک پیج پر لگا سکتا ہوں ،،،

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اجازت ہے یار بلاگ کا لنک دینا مت بھولئے گا،، ورنہ مولوی نے خود کش حملہ کر دینا ہے :D

Ali Malik کہا...

میں نے لگا کر اجازت لی ،،، ہاں لنک ڈال دیتا ،،،

Ali Malik کہا...

Bunyad Parast molna sahib app kia kehtay hia ..

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

علی ملک بھائی بنیاد پرست بھائی شاید عمر میں چھوٹے ہیں لیکن ہمارے بڑے ہیں اس لئے انہیں زحمت نہ دیں۔۔شکریہ

Ali Malik کہا...

Bunyad bhai kay waqat ki buses bhi bandh ho gei, pata nahi app ko abhi tak kayion chotay nazar atay hia

میں بھی پاکستان ہوں کہا...

یاسر بھائ وہ پنجابی میں کہتے ہیں نا کہ،، لڑ گیا ای،، بس سمجھو اس تحریر سے واقعی ہی لڑ گے ہو، سچائ کا ڈنگ مار دیا ہے۔ ہم لوگوں کو دین کی بے حرمتی اور مزاق بنانے کو دشمن نہیں چاہئں ہم خود ہی کافی ہیں، پھر بھی اللہ پاک معاف کر رہا ہے۔ جزاک اللہ ایک بہت اہم بات کو سب تک پہنچا نے پہ۔

نسرین غوری کہا...

Hmmm ...

Anwer Memon کہا...

دوسرے ممالک کا تو پتہ نہیں، لیکن جاپان میں ایرانیوں کا مذہب بیزار طبقہ ہی آیا ہے۔ انہوں نے اکثر کام بھی دو نمبر ہی نہیں کئے۔
جاپان میں میری جن چند ’’ڈھنگ کے‘‘ ایرانیوں سے ملاقات ہوئی ہے، وہ یا تو کسی ایئر لائن وغیرہ کا عملہ تھا، یا پھر سفارتی عملہ۔

Asad Hameed کہا...

(Y :-()

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.