جنگل اگاؤ ، جنگلی مکاؤ

جنگ عظیم دوئم کے بعد تباہ حال جاپان کی جب تعمیر نو شروع ہوئی تو رہائشی مکانات کی تعمیر کیلئے لکڑ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ، جاپان کے جنگلات کا کثرت سے استعمال کیا گیا۔
جاپانی اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ، سیاستدان ، سیاسی اہلکار کرپشن کرنے کے باوجود اپنے ملک اور معاشرے کا مفاد پہلے دیکھتے ہیں۔
اگر دس سے تیس فیصد کرپشن کرتے ہیں تو ستر فیصد اپنے ملک کیلئے لازمی استعمال کرتے ہیں۔
"شاید" انہیں احساس ہے کہ ملک اور "عوام" خوشحال رہے گی تو انہیں بھی "معاشرے" میں رہنے کیلئے "باعزت" مقام ملےگا۔
ورنہ "اغیار" کے دیس میں جانے کے باوجود ہر "جاپانی" کی "پہچان"جاپانی ہی رہے گی۔
سو سال پہلے "معاشی ہجرت" کرنے والے جاپانیوں کے تین چار نسلیں برازیل ،پیرو اور دیگر جنوبی امریکہ میں اپنی "پہچان"جاپانی ہی رکھتی ہیں۔
ایسے ہی جیسے ہم "پاکستانی" پاکستان میں تو پنجابی ، پٹھان ، سندھی ، بلوچی ، مہا جر ، اور "دیگر" ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی "مسلکی پہچان" رکھنے کے باوجود "اغیار کے وطن" میں پاکستانی ہی "پہچان" رکھتے ہیں۔
مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم ممالک ہماری "پہچان" پاکستانی ہی ہوتی ہے۔باقی تمام "فضولیات" ہما رے لئے "پاکستان" میں ہی رہ جاتی ہیں۔
:D بس اسی لئے میں "خوامخواہ جاپانی" ہوں
جنگ عظیم دوئم کی تباہی اس کے بعد اور تعمیر نو کیلئے جنگلات کا صفایا کیا گیا تو حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ پلاننگ سے نئے درخت لگائے ۔
چیڑ ، دیار ، بیار کے درختوں کے ساتھ ساتھ دیگر درخت بھی لگائے گئے۔ عام پاکستانی تو بیچارہ دنیا کے حالات سے "ناواقف" ہی ہوتا ہے۔
حکمرانوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ عوام "باشعور" ہو یا "جانور" ہی رہے ، پاکستانی سیاستدان اور حکمران کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنا "اقتدار" اور "بادشاہت" قائم رہے۔ "جگاڑ" لگا رہے ۔۔
عوام بھاڑ میں جائے۔
عموماً پاکستانی عوام اور کئی بار "میڈیائی دانشوروں" کو بھی پڑھا دیکھا سنا کہ جاپان کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ جاپان ایک "ہریالی اور سبزہ" نہ رکھنے والا ملک ہے۔ جہاں شاید پھول بھی نہیں "اُگتے"۔۔
جاپان ایک انتہائی سر سبز قدرتی حُسن سے مالا مال ملک ہے۔ جاپان میں ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں پر جنگل نہ ہوں۔ باغات نہ ہوں۔ پھول نہ ہوں۔
ایک بہت بڑی غلط فہمی کو بھی دور کر لیا جائے کہ "ہیروشیما " ، "ناگا ساکی" بھی پاکستانی سر سبز ترین علاقوں سے زیادہ سر سبز اور "جنت نظیر" علاقے ہیں۔
جاپان کے "ترقی یافتہ " ہونے کے بعد "غیر ممالک" سے سستی تعمیراتی لکڑ ملنا شروع ہو گئی جاپان میں کیونکہ جنگلات کی کانٹ چھانٹ "مہنگی" پڑتی تھی اس لئے تعمیراتی اداروں ، کمپنیوں نے بھی "باہر" سے لکڑی خریدنا شروع کردی جس کی وجہ سے جاپانی جنگلات "پھیلتے ہی چلے گئے۔
حکومت کی ہر طرح کی "امداد" ہونے کے باوجود جاپانی لکڑ کا استعمال کم ہی ہے۔ جو استعمال میں آرہا ہے ، و ہ کاسٹ میں مہنگا پڑتا ہے۔ بحرحال حکومتی امداد سے جنگلات کی "دیکھ بھال" کی جاتی ہے۔
جنگلاتی لکڑ کے استعمال کا قلیل ہونا ، یہاں پر "پولن " کے پھیلاؤ کا باعث بنا ہوا ہے۔ جاپانیوں کو آپ شاید "ٹی وی " پر ماسک لگائے ہوئے ضرور دیکھتے ہوں گے۔
یہ "ماسک" جو کہ اب پاکستان میں بھی مل رہا ہے۔
اسی جاپان کی مقبولیت کی وجہ سے "دنیا " میں پھیلا ہے۔

جب یہاں جنگلات میں درخت لگائے گئے تو اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ جاپانی جو کہ ہر "موسم " سے لطف اندوز ہوتے ہین۔اس کا بھی خیال رہے
جاپان کے قدیمی درخت جن کے پتوں کا رنگ موسم خزاں میں اودے اودے پیلے نارنجی لال رنگوں میں تبدیل ہو جاتا ہے انہیں بھی لگایا گیا۔
جاپان کے پہاڑوں پر موسمِ خزاں انتہائی خوبصورتی سے آتا ہے اور جاپانیوں کے لطیف احساسات کو تسکین پہونچاتا ہے۔
موسمِ خزاں میں بھی ان کے پہاڑوں پر رونق لگ جاتی ہے اور جاپانی عوام لطف اندوز ہونے کیلئے۔پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں۔
موسموں کے حسن سے لطف انداز ہونے کیلئے بھی ملک و قوم سے مخلص حکمرانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو کہ عوام کی "تربیت" کر سکیں۔
اور عوام کا باشعور ہونا بھی لازمی ہوتا ہے کہ اپنے آپ اور ملک و قوم سے بھی مخلص ہوں۔
انفرادی مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیعی دینا اپنے آپ کے ساتھ ساتھ ہر دوسرے کے ساتھ خلوص رکھنا بھی ایک منظم اور قدرت کے حسن کا لطف اٹھا کر اس کا مشکور ہونے کیلئے "لازمی" ہوتا ہے۔
1

2

3
جنگل اگاؤ ، جنگلی مکاؤ جنگل اگاؤ ، جنگلی مکاؤ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:53 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.