کوڑے کا ڈھیر

آپ گھر کی صفائی ستھرائی کرتے ہیں، آپ کے گھر میں صفائی ہے سلیقہ ہے۔گھر سے جو کوڑا کرکٹ نکلتا ہے۔ آپ گھر سے باہر پھینک دیتے ہیں، اگر "بلدیہ" والے اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں تو کوڑا بلدیہ والے اٹھا کر لے جائیں گے۔
اگر کوڑے کا کوئی ڈھیر ہے تو آپ وہاں پھینک دیں گے۔اگر کوڑے کے ڈھیر ، بلدیہ وغیرہ کا آپ کے رہائیشی علاقے میں کوئی تصور نہیں ہے تو
آپ کوڑا کسی خالی پلاٹ یا کسی کھیت وغیرہ میں پھینک دیتے ہوں گے۔اگر آپ کی چار دیواری کے ساتھ ہی کسی کا خالی پلاٹ ہے تو
آپ کے گھر کی سگھڑ خواتین گھر کا کوڑا اٹھا کر دیوار سے باہر "کسی" کے خالی پلاٹ میں پھینک دیتی ہوں گئیں۔
خالی پلاٹ کا کوڑا جانے اور خالی پلاٹ کا مالک جانے، آپ کا کام گھر کے کوڑے کو باہر پھینکنا تھا آپ نے پھینک دیا۔ :D
"باہر" کا معاملہ آپ کا "نجی" ، "ذاتی" معاملہ تو ہے نہیں کہ آپ "پریشان " ہوتے پھریں،۔۔۔۔ہیں جی
آپ عموماً دیکھتے ہوں گے، کسی جگہ کوڑے کا ڈھیرے بنا ہوا ہے۔ اگر آپ کی جیب میں رومال ہے تو آپ رومال نکال کر ناک پر رکھ کر گذر جاتے ہوں گے۔ اگر رومال نہیں ہے تو ناک بھوں چڑھا کر تیز تیز گذرنے کی کوشش کرتے ہوں گے۔
لیکن یہ کوڑا کیسے جمع ہو گیا۔۔
کوئی سوچنے کا تکلف نہیں کرتا۔ کرنے کی بھی کیا ضرورت "ہمارا گھر" تھوڑی ہے جو کہ اس گندگی پر ذمہ داری کا احساس ہو یا صفائی ستھرائی کا سوچیں۔۔۔۔۔ہیں جی
ہاں تو ۔۔آپ کو یہ تو معلوم ہی ہے ،کہ سال میں چار پانچ موسم بھی ہوتے ہیں، بہار ،برسات، گرمی خزاں ، سردی۔
یہ جو بہار کا موسم ہوتا ہے نا، یہ ہر طرف "ہریالی" مچا دیتا ہے۔ معلوم نہیں اسی موسم میں ہی کیوں ہر شے سبز سبز آنکھوں کو تسکین دینے والی ہو جاتی ہے۔ پھول کھلتے ہیں ، خوشبو ، مہک ، ہر شے کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
مُر جائے مُرجائے جڑی بوٹیاں چرند پرند حیوان ، عجیب سی نحوست لئے ہوئے چہرے تک کھلکھلا اٹھتے ہیں
ہر طرف خوبصورتی جلوہ گھر ہو جاتی ہے۔ کوڑے کے ڈھیر پر بھی سبزا اُگ آتا ہے۔کسی کسی "ڈھیر " پر پھول بھی کھلے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہیں نا؟
کیا آپ کو زندگی کی دوڑ دھوپ کوڑے کچرے کے ڈھیر کا مشاہدہ کرنے کی فرصت دیتی ہے؟۔۔اگر آپ کچھ مشاہدہ کرنے کا اشتیاق پیدا کر لیں تو سچ بتاؤں زندگی کی دوڑ دھوپ آپ کو کچھ سکون کے لمحات ، کچھ حقیقی زندگی کا حُسن، اعصابی ، نفسیاتی تناؤ کو دور کرنے کی ضرور مدد فراہم کرے گا۔
بس زندگی کی گندگی کے ڈھیر پر کِھلے ہوئے پھول کا تصور کریں، کہ ہر طرف گندگی ہونے کے باوجود کِھل کر دوسروں کی آنکھوں سے تسکین بن کر اتر رہا ہوتا ہے ۔اور خوشبو، مہک ، پھیلا کر گندگی ،غلاظت کے انبار کو مہطر کر رہا ہوتا ہے۔ پھول ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھول کی زندگی کا مقصد،فرض ہی ، خوشبو، خوشگواری ، مہک ،دیکھنے والے کو تسکین پہونچانا جو ہوا۔
تو کیوں نہ زندگی جو کہ انتہا ئی مختصر ہے اس میں گندگی پھیلانے کے بجائے، خوشبو ، مہک ، خوشگواری پھیلانے کی کوشش کی جائے۔۔
بس ہم تو پڑے ہی ہوئے ہیں گندگی کے ڈھیر پر تو کیوں نہ "پھول" بننے کی کوشش ہی کر لی جائے۔۔
:D مسلے تو ویسے ہی جائیں گے ورنہ مرجا جائیں گے
کوڑے کا ڈھیر کوڑے کا ڈھیر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:02 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.