کامیابی کا نسخہ

بڑی مشکل سے دن کو نوکری کرکے اور رات کو نائٹ سکول میں پڑھائی کرکے ہاتھ میں ڈپلومہ آیا تو جاب تلاش کی تھی۔
مقصد "آمدنی " بڑھانا تھا۔ لیکن "وائٹ کالر" جاب ملی تو معلوم ہوا کہ جو جسمانی مشقت والا کام کرتے آئے ہیں وہ ہی ہمارے لئے بہتر ہے کہ اس میں آمدنی زیادہ ہوتی ہے۔
جس کمپنی میں جاب ملی تھی اسے نیا پروجیکٹ ملا تو ہمارے جیسے نئے رنگروٹ کو پراجیکٹ ٹیم میں شامل کرکے ہمیں ادھر ٹرانسفر کر دیا گیا۔
ٹوکیو کی صبح کے رش آوور انتہائی تکلیف دہ ہوتے ہیں، بندوں کو "سامان " کی طرح ٹرین میں ٹھونسا جاتا ہے۔
ٹرین سے جب اترا جاتا ہے تو دم گھٹا ہوا ہوتا ہے۔ شدید تکلیف کے بعد سکون ملنے جیسی کفیت ہوتی ہے۔
اگر روزانہ اس "تکلیف" اور "سکون" کو برداشت کرنا پڑے تو میرا جیسا بندہ تو ادھ موا سا ہو جاتا ہے۔
ٹرین سے اترنے کے بعد میں نے کچھ سکھ کا سانس لینے کا یہ طریقہ نکالا تھا کہ کچھ لمبا گھوم کر ایک بہت بڑے باغ میں سے گذر کر پروجیکٹ والی بلڈنگ کے مرکزی دروازے کے سامنے سے جا نکلتا تھا۔
میرے لئے یہ لمحات "آزادی" کو انجوائے کرنے کے قیمتی اوقات ہوتے تھے۔
جب بھی باغ سے گذرتا تو قیمتی لباس پہنے ایک سوٹڈ بوٹڈ پینسٹھ ستر سال کے بزرگ ہاتھ میں جھاڑو ،چمٹا اور مومی لفافہ اٹھا ئے۔
باغ میں سے سیگرٹ کے ٹوٹے مسل کر پھینکے گے کاغذات اور اسی طرح کا دیگر کچرا اٹھا رہے ہوتے تھے ۔انہیں صبح کا سلام کرتا تھا اور گذر جاتا تھا۔
انہیں دیکھ کر یہی سوچتا تھا کہ شاید کوئی فارغ سنکی کھسکے ہوئے بزرگ ہیں جو کہ قیمتی لباس پہن کر صبح صبح کچرا اٹھانے آجاتے ہیں۔
روزانہ کا یہ معمول پروجیکٹ ختم ہونے تک چلتا رہا۔جب پروجیکٹ مکمل ہوا اور ٹیسٹ ڈرائیو کے بعد جس کمپنی کیلئے یہ "سسٹم" بنایا گیا تھا اسے دیا گیا تو میٹنگ میں دیکھا کہ مرکزی کرسی پر وہی بزرگ شان سے بیٹھے ہوئے ہیں ۔
کچھ خوشگوار حیرت کا احساس ہوا۔
لیکن اس کلاس کے "شاچو" (سیٹھ) سے ہمارے جیسے رنگروٹ کا بات کرنا مشکل ہوتا ہے اور وہ بھی کمپنی کے آفس میں ۔۔اس طرح کے "شاچو" صاحب کی نشست و بر خواست پر آس پاس والوں پر ایک بارعب سا ماحول طاری ہو جاتا ہے۔
اور تمام لوگ ایک ہلکے سے خم کے ساتھ کورنش بجا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جب "شاچو" صاحب گذر جاتے ہیں تو ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوتے ہیں۔
بعد میں اپنے کولیگ سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے۔سیٹھ صاحب صبح جلدی آتے ہیں ، دفاتر کی صفائی چیک کرتے ہیں، ٹائلیٹ کی صفائی کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد بلڈنگ کے آس پاس کی صفائی کے بعد باغ سے کچرا چن کر باغ کی صفائی کرتے ہیں۔
ان کی ہر صبح کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے۔ جاپانی کمپنیوں، فیکٹریوں ،دفاتر کی ایک دلچسپ بات ہے کہ کئی کمپنیوں ، فیکٹریوں میں ہر صبح دس پندرہ منٹ کی اسمبلی ہوتی ہے اسی طرح جس طرح پاکستا ن میں "ہمارے وقت" میں ہر صبح سکول میں اسمبلی ہوتی تھی (اب معلوم نہیں)
جن کمپنیوں ،فیکٹریوں ، دفاترمیں یہ اسمبلی روزانہ نہیں ہوتی ، ان میں ہفتے میں ایک دن ضرور ہوتی ہے۔
بقول کولیگ کہ اس کمپنی کی اسمبلی میں یہ بزرگ سیٹھ صاحب ہر بار ایک بات دھراتے تھے کہ
جو اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف ستھرا نہیں رکھ سکتا وہ کبھی بھی اچھا کام نہیں کرسکتا، کامیابی کیلئے اپنے آس پاس کا ماحول صاف ستھرا رکھا جائے تو کام اچھے انداز میں ہوگا اور کامیابی کا حصول آسان ہوگا۔
**************
نوٹ ؛- یاد رہے کہ جاپان میں باغ کی صفائی کا ٹھیکا پرائیویٹ کمپنیوں کے پاس ہوتا ہے۔ ویلنٹیئر مدد کر سکتے ہیں۔اور کسی کمپنی سے ٹھیکہ لے کر کام کیلئے جانے والی کمپنی ، ٹھیکہ دینے والی کمپنی کی اسمبلی میں شریک نہیں ہوتی۔ اس لئے بابا جی سے پروجیکٹ ختم ہونے تک ہمارا آمنا سامنا نہیں ہو سکا۔
کامیابی کا نسخہ کامیابی کا نسخہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:40 PM Rating: 5

1 تبصرہ:

ڈاکٹر و حکیم ارشد ملک کہا...

السلام علیکم !
باغ کی صفائی کا ٹھیکہ آپ کی کمپنی نے بابا جی سے لیا ہوا تھا یہ تو ٹھیک ہے ۔
لیکن اگر ویسے ہی سوئپر کا کا م کیا تو یہ ہمارے پڑھے لکھے جوانوں کے لیے نا مناسب ہے ۔
اگر وائٹ کالر جاب یہی ہے تو اپنا پاکستان ہی بہتر ہے -
www.hakim.pk

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.