اردو بولنے والے

اردو ہماری قومی زبان ہے۔ اور ہم اردو میں ہی لکھتے اور پڑھتے ہیں، انگریزی ، یا دیگر بدیسی زبان کا لٹریچر پڑھنے سے ہماری پیاس نہیں بجھتی اور ہم اردو لکھنے پڑھنے میں جو سکون جو لطف محسوس کرتے ہیں۔
اسے الفاظ میں بیان کرنے کیلئے بھی ہم اردو کو ہی پسند کرتے ہیں۔
دیگر پاکستان کی علاقائی زبانیں بھی اپنا اپنا لطف رکھتی ہیں اور پاکستان میں بولی جانے والی ہر "بولی" اور "زبان" ہر پاکستانی کی "بولی اور زبان" ہے ہم کسی مخصوص علاقے میں رہنے والے ہی کو اس کا "مالک" نہیں سمجھتے۔
پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، پشتو، سرائیکی ، ہند کو، پٹھواری ، یا دیگر اقلیتی "بولیاں یا زبانیں " ہوں سب ہم سب کی مشترکہ ہیں۔
اور ہمیں عزیز ہیں۔
اسی طرح ہم "لسانیت" کی بنیاد پر کی تفریق سے سخت نفرت کرتے ہیں۔
پاکستان کے "چاروں صوبوں" سے تعلق رکھنے والی زبانیں ہماری زبانیں ہیں اور ہم بلاتفریق اپنے آپ کو پنجابی ، سندھی ،بلوچی ، پختون سمجھتے ہیں۔
"قوم " کا مزاج صدیوں سے ایسا ہو چکا ہے۔
کہ "لسانی تفریق" کی بنیاد پر ایک دوسرے حقارت والا معاملہ کرتے آئے ہیں لیکن اس حقارت کے باوجود اسی ملک معاشرے میں مل جل کر سماجی معاشرتی معاملات کرتے آئے ہیں۔
پاکستان میں بولی جانے والی ہر زبان کے افراد میں "گھٹیا اخلاق " ، "جاہل ،اجڈ"، " بیوقوف" ، "بے غیرت" ، "بے حیا" ، "بزدل ، کمزور" پائے جاتے ہیں اور اسی طرح "اعلی اوصاف" سے بھی بلاتفریق قدرت نے ہر علاقے کے لوگوں کو نوازا ہے۔
دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی ہر علاقے کے لوگ پائے جاتے ہیں اور صرف ایک ایم کیو ایم سندھ کے چند شہروں تک ہی محدود ہے ملک کے باقی علاقوں میں "پھیل" نہ سکی۔
لیکن جماعت اسلامی اور تحریک انصاف میں سارے ملک کے لوگ "خلوص اور جذبے" کے ساتھ لسانیت سے بالاتر ہو کر شامل ہیں۔
عمران خان کے ساتھ صرف "خان" لگا ہوا ہے باقی عمران خان بھی "ایوب خان" اور "یحیی خان" کی طرح ہی غیر پشتو بولنے والا " پختون" ہے۔
لیکن "پختونوں" میں بھی صرف "خان" ہونے کی وجہ سے مقبولیت رکھتا ہے۔اسی طرح میں بھی نہ ہی پنجابی ہوں اور نہ پختون "کے پی کے " کے علاقے کا ہونے کی وجہ سے پشتو بولنے والوں سے "رشتہ داریاں" تو رکھتا ہوں لیکن "ہندکو" بولنے والا ہوں۔
ماضی کے تعصب سے ہمیں جان چھڑانی ہو گی اور اس "لسانی" تفریق کو اپنی پہچان کیلئے ضرور "عزیز" رکھا جائے لیکن اس "لسانی تفریق" سے ایک دوسرے کے ساتھ حقارت والا معاملہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی ہماری طرح ذلیل و خوار کرتا رہے گا۔
ایم کیو ایم کیوں وجود میں آئی اور اس کے محرکات کیا تھے۔ اس کے لئے کئی "وجوہات" تلاش کرکے کاغذ کالے کئے جا سکتے ہیں لیکن اصل وجہ اس سے بڑی کوئی نہیں تھی کہ ہجرت کرکے آنے والے لوگوں کیلئے ادھر بسنے والوں کے دل میں جگہ نہ بن سکی انہیں "نئے ملک" میں مجبوراً بسانا پڑا لیکن دل سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے ان کے ساتھ "حقارت والا معاملہ کیا جانے لگا۔
جو ایک نئے علاقے میں ہجرت کرکے آنے والوں کیلئے پہلے سے بسنے والوں کا "نفسیاتی" رد عمل تھا۔
یہ بات ہمیں خود "معاشی مہاجر" ہونے کے بعد "نئے دیس" یا پردیس میں مقامیوں کے رویوں سے سمجھنے کا موقعہ ملا۔ ورنہ ہمیں بھی یہ "نفسیاتی ردعمل" سمجھ نہ آتا۔
دیگر ہجرت کرکے آنے والے جیسے کہ "پنجابی زبان" بولنے والے لوگوں کو نئے ملک کے معاشرے میں جذب ہونے کیلئے کوئی دقت نہ ہوئی اور "شیخ ، مرزا، بیگ ، میر ، بٹ" آسانی سے نئے ملک کے معاشرے میں جذب ہو گئے۔
لیکن "اردو" بولنے والے اپنی "اعلی تہذیب" ، " علمی تفاخر" ، " نفیس طبع" ہونے کی وجہ سے کچھ تو خود ہی دیگر زبان والوں کے ساتھ "گھل مل" نہ سکے اور کچھ "دیگر زبان" والوں کے "جارحانہ اور کھلے ڈھلے مزاج" کی وجہ سے ان کی "حقارت" کا شکار ہو گئے۔
نیا دیس نئی معاشرت نئے معاشی مسائل نے "مزاجوں کی تفاوت" نے بہت کچھ توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ۔
لوگوں کے "ذہن" نئی تبدیلی سے اعصابی اور نفسیاتی تناؤ کا شکار ہوئے جس سے معاشرہ اور معاشرت متاثر ہوئے۔
اور نئے ملک نئے معاشرے میں "عوام" دست گریبان ہونا شروع ہو گئے۔اپنے اپنے مفادات کی حفاظت کرنے کی فکر کرنا شروع ہوئے اور نفرت ، بغض و عناد ، ایک دوسرے سے حقارت نے ان کے قلوب میں جگہ بنا لی۔
اردو بولنے والوں کی "معاشرتی ،سماجی مجبوری" اور کچھ "سیاسی ضروریات" نے "ایم کیو ایم" بنانے پر انہیں مجبور کیا ۔
میں بھی ایم کیو ایم کا سخت مخالف تھا۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن سچ یہی ہے کہ اردو بولنے والوں کو باعزت جینے کیلئے ایم کیو ایم کی ضرورت تھی اور "معاشرے کے مزاج" کے مطابق ایم کیو ایم نے "ڈنڈے" سے عزت سے جینے کا راستہ نکال لیا ہے۔۔ ورنہ اردو بولنے والوں کو پنجابی پٹھان ، سندھی بلوچی "دبا" کر رکھتے تھے اور "حقارت" والا معاملہ کرتے تھے۔
اردو بولنے والوں کیلئے "القابات" ہم سب کو معلوم ہیں۔
اب بھی پچاس سے اوپر کے لوگ اردو بولنے والوں کو صرف لسانیت کی وجہ سے حقارت سے اپنی اندرونی محفلوں میں یاد کرتے ہیں۔ نئی نسل میں مجھے یہ "حقارت" دکھائی نہیں دی۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے ماضی میں بھی اور اب بھی پڑھا لکھا سلجھا ہوا طبقہ اردو بولنے والوں کی دل سے عزت کرتا تھا اور کرتا ہے۔۔وجہ اردو بولنے والوں کا "اہل علم" ، "اہل تہذیب" اور ان کی "شائستگی" ہی ہے۔
اب بھی آپ بغور "مشاہدہ" اور "موازنہ" کریں تو اردو بولنے والے "گھٹیا اخلاق" والے اور "دیگر لسانیت" والوں میں فرق صاف نطر آئے گا کہ پھر بھی اردو بولنے والے کے "اخلاق" میں کچھ بہتری ہی ہو گی۔
پڑھے لکھے لوگوں میں بھی "لسانی تفاوت" دیکھنے کو ملتی ہے تو ہمیں نہایت دکھ ہوتا ہے۔
کب تک ماضی کے قیدی بنے رہنا ہے؟
کب تک "لسانی تفریق" کی وجہ سے ایک دوسرے سے نفرت کا سلسلہ جاری رکھنا ہے؟
ہر "سیاسی جماعت" میں جرائم پیشہ لوگ "کثرت" سے موجود ہیں ، تمام جماعتوں کی "چارج شیٹز" سب کو معلوم ہیں۔
اب ایم کیو ایم کے وجود میں آنے کی " مجبوری" کو سمجھتے ہوئے ایم کیو ایم کو بھی سارے ملکی معاشرے میں قبول کر لینا چاھئے ۔
اور ایم کیو ایم کو بھی اب صرف "قومی زبان" بولنے والوں کی "سیاست" چھوڑ کر "ملک و قوم " کی سیاست میں بھر پور حصہ لینا چاھئے۔

نوٹ؛--- دل جلے کی باتوں سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اردو بولنے والے اردو بولنے والے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:37 PM Rating: 5

9 تبصرے:

جواد احمد خان کہا...

ایک نہایت عمدہ، توازن اور احتیاط کے ساتھ لکھا مضمون ہے۔

نورین تبسم کہا...

دل سے زیادہ دلیل سے۔۔۔ اردو سے محبت کا اظہار کرتی۔۔۔ ہر طبقہ فکر کے لیے ایک 'شفاف' تحریر ۔
وطن کو دھرتی ماں کہا جاتا ہے تو اردو اس کے سر کی درا ہے۔ اور وطن کی مٹی کی بات ہو تو اردو ا س مٹی کی خوشبو ہے۔وہ خوشبو جو قریب رہ کر اتنی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن ! جیسے جیسے فاصلہ بڑھتا ہے ،انسانوں کے ہجوم میں تنہائی گرفت میں لیتی ہے ،شناخت کی بےیقینی تشنگی میں بدلتی ہے تو پھر ماں کی ردا اور بارش میں سوندھی مٹی کی مانند خوشبو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
جو ایک نئے علاقے میں ہجرت کرکے آنے والوں کیلئے پہلے سے بسنے والوں کا “نفسیاتی” رد عمل تھا۔
"ہجرت" محض ایک عمل ہی نہیں ، ایک بہت بڑا انسانی رویہ ہے۔ چاہے اپنی رضا سے ہی کیوں نہ ہو ۔ابتدائی طور پر انسان کا اعتماد زیرو کر دیتا ہےجب اسے نئی جگہ نئے ماحول میں قدم قدم پر سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔
"یہ بات ہمیں خود “معاشی مہاجر” ہونے کے بعد “نئے دیس” یا پردیس میں مقامیوں کے رویوں سے سمجھنے کا موقعہ ملا۔ ورنہ ہمیں بھی یہ “نفسیاتی ردعمل” سمجھ نہ آتا۔"
امید کرتی ہوں کہ آئندہ کبھی دیار غیر میں زبان کے حوالے سے اپنے تجربات بلاگ پر شئیر کریں گے۔

ahmad کہا...

عمدہ تحریر ہے خود اردو سپیکنگ ہوں، شروع میں MQM کی حمایت کی وجوہات آپ نے بیان کر ہی دیں ہیں ایک مثال دیتا ہوں، کراچی یونیورسٹی میں دھڑلے کی ساتھ آپ کو پنجابی سٹوڈنٹ فیڈریشن اور پختون فیڈریشن نظر آۓ گی جس سے دیگر طبقوں میں بھی لسانیت فروغ پاتی ہے - بہرحال ہر مہاجر MQM میں نہیں ہے. وجہ یہ ہے کہ غنڈہ گردی اردو اسپیکرز کے مزاج میں نہ تھی ، MQM نے علم و شائستگی سے دور کردیا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

احمد صاحب ۔
معذرت میرا خیال میں ایم کیو ایم نے نہیں دوسری لسانی طاقتوں نے اردو بولنے والوں کو علم و شائستگی سے دورہونے پر مجبور کیا اور ایم کیو ایم وجود میں آئی۔

علی فرقان کہا...

بہت ہی خوبصورت تحریر اب بڑی سادگی سے بہت گہری باتیں کہہ گئے آپ کی تحریر حقیت سے قریب تر ہے

fikrepakistan کہا...

بہت مدت بعد بلاگ کا چکر لگا ہے آج، سب سے پہلے آپکی تحریریں سرچ کیں، آپکی سوچ کا تغیر اچھا لگا، جو بات آپ نے کی ہے یہ ہی درست ہے یہ ہی وجہ ہے ایم کیو ایم بننے کی۔ آپکے بیان کردہ تمام مراحل سے میں گزر چکا ہوں اسلئیے جانتا ہوں کے ایم کیو ایم کیوں بنی، ایم کیوایم رد ہے دیگر قومیتوں کا۔

fikrepakistan کہا...

یاسر بھائی آپکی کسی ایک تحریر پر شعیہ حضرات کے عقائد پر خاصی لمبی بحث چلی تھی اسامہ غازی نام کے ایک صحافی تھے جنہوں نے دلائل سے کچھہ خدشات واضع کئے تھے مجھے آپکی اس تحریر کا لنک چائیے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

معذرت جناب۔۔
تمام مباحثہ کرنے والوں سے اجازت لیکر میں نے وہ تحریر ڈیلیٹ کر دی تھی۔
کہ
تعصب کی آگ میں اپنے حصے کی لکڑیاں ڈالنے سے پرہیز کرنا شروع کر دیا ہے۔

fikrepakistan کہا...

boht achi bat hai bhai.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.