جاپان کا انتظامی ڈھانچہ

جاپان کے انتظامی ڈھانچےپر ایک سر سری سی تحریر
*******************************************
جاپان میں انتظامیہ نچلی سے نچلی عوامی سطح پر تقسیم ہے۔
مثال کے طور پر ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، ہمیں سب سے پہلے محلے کی عوامی انتظامیہ سے واسطہ پڑتا ہے۔
جسے ہم جی چی کائی کہتے ہیں۔ یہ اگر گاؤں ہے تو گاؤں میں پائی جاتی ہے اگر شہر ہے تو شہروں میں وجود رکھتی ہے۔ یہ ایک طرح کی کمیونٹی کی کمیٹی ہوتی ہے جس کا انتظام شہری رکھتے ہیں۔
جی چی کائی سے نیچے ھان ہوتے ہیں۔ جس کا مطلب گروہ یا گروپ سمجھ لیں۔یہ گروپ محلے کے گھروں کے حساب سے بنائے جاتے ہیں۔ اسے اس طرح سمجھ لیں کہ گلی نمبر ایک کا گروپ اور دو تین دس نمبر گلیوں کے گروپ علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔
اور یہ سب ایک جی چی کائی میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ جی چی کائی ایڈریس کے حساب سے ہوتی ہے۔
جیسے پنڈی شہر کے فلان فلاں علاقے کے فلاں فلاں گلی والے محلے گلی کے ھان کی جی چی کائی۔۔
پھر شہر کی تمام جی چی کائی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں تو اسے جی چی رنگو کائی ۔۔۔۔۔۔یعنی جی چی کائی کا اشتراک۔ یہاں تک کی انتظامیہ رضاکارانہ طور پر غیر سرکاری و سیاسی شہریوں کی ہوتی ہے۔
جی چی کائی علاقے محلے کے شہریوں کے زیر انتظام ہوتی ہے۔ایسے سمجھ لیں کہ محلہ کمیٹی ، علاقی کمیٹی کی طرح ہوتی ہے۔ اور یہ کمیٹیاں شہری انتظامیہ سے رابطے میں ہوتی ہیں،
ان کا کام علاقے کے شہریوں کے ساتھ رابطے میں رہنا ۔ علاقے محلے کی صفائی ستھرائی رضاکارانہ طور مل جل کر کرنا۔
بچوں کے سکول آنے جانے کیلئے حفاظتی اقدام پر نطر رکھنا ، ثقافتی تقریبات کا انتظام کرنا۔ بوڑھوں بچے کیلئے مختلف ایونٹ وغیرہ کرنا۔ رضاکارانہ طور پر آگ وغیرہ لگ جانے کی صورت میں اس کیلئے بھی ایک عدد غیر سرکاری رضاکارانہ تنظیم کی تشکیل اور شہری انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہنا۔
قدرتی آفات کے آنے کی صورت میں اس وقت افراتفری سے بچنے کیلئے پہلے سےانتظام کرنا اور اس کی معلومات تمام شہریوں کو دینا۔
محلے علاقے گلی نالی سڑک کی توڑ پھوڑ کی صورت میں شہری انتظامیہ کو اطلاع دینا اور اس کی مرمت یا اضافہ کروانا۔ اور دیگر اسی طرح کے معاشرتی امور وغیرہ۔
اس شہریوں کی جی چی کائی یعنی محلہ ،علاقائی کمیٹی کے اوپر شہری انتظامیہ ہوتی ہے۔جس کا کام دیگر سرکاری امور ہوتے ہیں اس کی اپنی اسمبلی ہوتی ہے۔ جس کے ممبران باقاعدہ الیکشن سے منتخب ہوتے ہیں اور ان کے باقاعدہ طور پر معاوضے ہوتے ہیں۔ یہ شہری اسمبلی معاشی ،معاشرتی ، عوامی سہولیات ، امن و امان کے امور کی دیکھ بھال کرتی ہے اور باقاعدہ اس میں بھی بل پیش کئے جاتے ہیں۔
جو بحث مباحثے کے بعد "پاس یا فیل" ہوتے ہیں۔
اس کے بعد صوبہ ہوتا ہے۔ جسے "کین " کہا جاتا ہے۔جس کی بھی اسمبلی ہوتی ہے اور الیکشن سے اس کے ممبران بھی شہری ووٹ سے منتخب کئے جاتے ہیں۔
بڑے شہروں میں "اوساکا" اور جاپان کے وفاق "ٹوکیو" کیلئے ۔ "فو" اور "تو" کا انتظامی ڈھانچہ ہے۔ جسے ہم ایک خود مختار صوبہ سمجھ سکتے ہیں۔ ان کی بھی اپنی اسمبلیاں ہیں۔ اور تمام شہری امور انجام دیتی ہیں۔ اور داخلی ، خارجی ، دفاعی وغیرہ وغیرہ امور قومی اسمبلی انجام دیتی ہے۔
یعنی محلہ کمیٹی ،علاقائی کمیٹی سے رابطہ میں ہوتی ہے اور علاقائی کمیٹی ،شہری انتظامیہ سے رابطے میں ہوتی ہے، شہری انتظامیہ ، صوبائی انتظامیہ سے رابطے میں ہوتی ہے اور صوبائی انتظامیہ ، مرکزی حکومتی انتظامیہ سے رابطے میں ہوتی ہے۔
عام شہری اپنے مشترکہ حقوق کیلئے محلہ کمیٹی سے لیکر قومی اسمبلی تک شرکت کرتے ہیں۔ حکومت نے انتظام ہی اس طرح کیا ہوا ہے۔ کہ شہری کسی قسم کی پریشانی ، دقت ، تکلیف کے بغیر اپنے "بنیادی حقوق" تک رسائی رکھتے ہیں۔
اور یہ ان کیلئے ایسے ہی جیسے ہم سانس لینے کیلئے کسی قسم کی محتاجی محسوس نہیں کرتے اور اس کیلئے کسی کے مشکور بھی نہیں ہوتے (اللہ کا شکر ادا کرنا آپ کے ایمان کا حصہ ہے)
اور نہ ہی سیاستدا ن یا حکمران یہ "بنیادی حقوق اور سہولیات" مہیا کرنے کا احسان جتانے کا حق رکھتے ہیں۔
سیاستدان ، حکمران اس بات کا احساس شدت سے رکھتے ہیں اور عوام بھی انہیں سختی اور بے رحمی سے جتاتی ہے کہ آپ جو نوالہ منہ میں ڈال رہے ہیں یہ ہمارے خون سے نچوڑے ہوئے ٹیکس کا ہے۔
تفصیلاً اس انتظامی ڈھانچے پر لکھنے کیلئے کافی وقت اور محنت کی ضرورت ہے۔ ہے تو دلچسپ موضوع لیکن معذرت کے ساتھ کہ خشک موضوع ہونے کی وجہ سے ہم ہی اکتاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔
اور ہم نے کونسا اس انتظامی ڈھانچے کو ایک مزید "تجربے" کیلئے پاکستان پر قبضہ کرکے پاکستانیوں آزمانہ ہے۔
بس ان معلومات سے یہ سمجھ لیں کہ دنیا کے ایک پر امن اور عوام کو بنیادی حقوق عوام کی دہلیز پر پہونچانے والے ملک کا انتظام کس طرح ہے اور ہمارے ملک کا ایک "کل کا لونڈا" ہمیں سنا رہا ہے۔
مر جاؤں گا لیکن ابا جی کے جہیز میں ملنے والے ایک صوبے کی "حکمرانی" عوام کو نہیں دوں گا۔۔
پاکستان زندہ و پائیندہ باد۔
جاپان کا انتظامی ڈھانچہ جاپان کا انتظامی ڈھانچہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:19 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.