روئیہ

کل رات کنوینیس سٹور پر جانا ہوا، رات کا وقت تھا ایک پچاس پچپن سالہ شخص کیشیئر تھے ،
انہیں شاید فالج کا حملہ ہوا تھا اور کافی صحت مند ہونے کے بعد کام کرنے کیلئے اس سٹور میں پارٹ ٹائم جاب کرنے آئے ہوئے لگ رہے تھے۔
اس شخص کی حرکات اور کام کرنے کی رفتار سے معلوم ہو رہا تھا ۔
کہ ابھی صحت یاب نہیں ہیں، جسم کا ایک حصہ ابھی ٹھیک کام نہیں کررہا۔
لیکن وہ صاحب اپنی پوری "توانائی" سے فرائض انجام دے رہے تھے۔
اندازہ ہو رہا تھا کہ انہیں پارٹ ٹائم جاب دینے والے بھی جانتے ہیں کہ مصروف ترین علاقے کے سٹور پر گاہک کو کچھ انتطار کی کوفت ضرور ہوگی ۔
اسی لئے شاید ان صاحب کو رات کے وقت کی شفٹ دی گئی ہے۔ کہ رش نہیں ہوتا اور یہ صاحب کام کر لیں گے۔
آٹھ دس لوگ سٹور میں تھے اور دو چار کاؤنٹر پر لائن میں کھڑے تھے میں بھی اپنا سامان لیکر کھڑا ہو گیا۔کیشیئر والے صاحب کسی وجہ سے کیشیئر مشین کی الجھن میں پھنس گئے۔ سب خاموشی سے انتظار کر رہے تھے،
اتنے میں پیچھے سے ایک غصیلی آواز آئی ۔
کیا کر رہے ہو۔ کوئی اور ٹھیک کام کر سکنے والا نہیں ہے؟
اس کے ساتھ جاپانی گالی سننے کو ملی ۔سب خاموشی سےکھڑے رہے ۔اتنے میں وہ شخص نزدیک آیا اور مزید گالی گلوچ کے ساتھ ترش کلامی سے غصے کا اظہار کرنے لگا۔
کاونٹر والے صاحب نے دوسرے گاہکوں سے معذرت کی اور غصہ کرنے والے شخص کو فٹا فٹ پہلے فارغ کیا۔ جو لائن میں کھڑے تھے ہم میں سے کسی نے کچھ نہیں کہا۔
اس کے بعد کیشیئر صاحب نے آہستہ آہستہ ہم سب کو فارغ کیا۔جب میری باری آئی تو میں نے ادائیگی کے بعد ان کیشیئر صاحب کو کہا۔
گانباتے کوداسائی۔(ہمت رکھئے، یہ ایک جاپانی جملہ ہے جس سے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے)
انہوں نے آرگاتو گوزائی ماس۔( شکریہ )
کہا۔
جب میں دروازے سے باہر نکل رہا تھا تو
میرے بعد والے گاہک کی آواز بھی میرے کانوں میں آئی
گانباتے کوداسائی۔
لیکن میں سٹور سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ
یہ ہمارا دیس ہوتا اور یہاں موجود سارے دیسی ہوتے تو
ہمارا رویہ ایسے موقعے پر کیسا ہوتا؟
مذمتی اور حمائیتی آوازیں بلند ہوتیں، توں توں میں میں ہوتی۔
بک بک جھک جھک ہوتی۔ آخری کا ر شورشرابے کے بعد وقت کے ضیاع کا احساس کئے بغیر سب اپنی اپنی راہ لیتے ۔
بات ختم شد ہی ہو جاتی۔لیکن ٹینشن کی فضا ضرور قائم ہو جاتی۔
اپنے خیالات ، جذبات کا اظہار لازمی ہوتا۔۔صرف خاموشی اختیار ،برداشت کرنے سے "ہجوم" جمع نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن بات وہی کہ ہمارے اور اغیار کے رویئے کا فرق!!!!!!!!
روئیہ روئیہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:39 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.