تربیت

مطلب کیلئے تو بے زبان مشقتی کو باپ بنانا تو معروف "عمل" ہے۔اور بے وقوف بنانے کو الو بنانا کہا جاتا ہے :D
نا سمجھنے والے کیلئے بھینس بی بی کے آگے بین بجانا کہا جاتا ہے۔کافی عرصہ سوچتا رہا کہ مجھے کتا پالنا چاھئے کہ نہیں۔
ایک بار بچپن میں کتا پالا تھا تو سردیوں کی رات میں "ٹائیگر " کو بغل میں چھپا کر بستر میں گھسیڑ کر مزے سے سو رہا تھا کہ چھتروں کی جھنکار میں ،اپنی اور "ٹائیگر" کی "چیکوں" سے آنکھ کھلی تھی۔
پھر ٹھنڈے ٹھار دریا میں پھینک کر رگڑ رگڑ کر دھویا گیا تھا۔۔اف سردیوں کا ٹھنڈ ٹھار دریائی پانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قلفی اے اوئے قلفی۔
پھر ٹائیگر پاگل ہوا تو اسے پہاڑی کی اوٹ میں لے جاکر گولی مار دی گئی۔۔بس اس کے بعد کتا دیکھ کر ایک عجیب سی کراہت اور خوف نے دل میں جگہ بنا لی۔
"تاڑو" کو پالنے تک کسی کتے کو ہاتھ لگنا بھی میں انسانیت کی توہین اور غلیظ ترین بات سمجھتا تھا۔۔
نئے مکان میں آنے کے بعد کچھ چوکیداری اور "شکار" کے شوق کیلئے کتا پالنے کا خیال آیا مگر پلید اور غلیظ جانور کا تصور ذہن میں بیٹھا ہوا تھا ۔ بار بار خیال آتا کہ باہر جانا ہوتا ہے اور گھر کھلا ہے۔
بیوی اکیلی ہوتی ہے ، کتا پال ہی لینا چاھئے۔ مولوی دوستوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا ۔۔ہاں نا۔۔۔۔۔کیوں نہیں کتا تو پالا جا سکتا ہے۔
جب کتا پال لیا تو خانہ خراب مولوی بالکل ہی بدل گئے۔۔۔
کتا پالا جا سکتا ہے کہا تھا۔۔کتا پال لے تو نہیں کہا تھا۔ اب پالا ہے تو اپنی ذمہ داری پہ پال تے سانوں کی۔۔۔۔۔۔
مولویوں سے دوستی میں احتیاط کرنی چاھئے، بندے کو پھنسا کر تے سانوں کی کہہ دیتے ہیں۔
چالیس دن کا ایک پیارا سا کتورا خرید لایا تھا۔ پہلی بات جو سمجھ آئی کہ بچہ تو بہت ہی پیارا ہوتا چاھے کتے کا بچہ ہی کیوں نہ ہو
پھر کتے کے بچے کی تربیت کا مرحلہ آیا تو مختلف کتابیں خریدیں جن میں کتے کے بچے کی تربیت کرنے کا طریقہ اشکال و امثال سے بتایا گیا تھا۔
بال پھینک کر بال پر جھپٹنا ، بال اٹھا کر لانا، انتظار کر، بیٹھ جا، لیٹ جا ، ہاتھ ملا دوسرا ہاتھ ملا، بھونک مت ، بھونک، کچھ پوچھنے پر "ہاں" کہہ کر جواب دے۔
یہ سارے کام "تاڑو" تھوڑی سی محنت سے سیکھ گیا۔اور حیرت انگیز طور پر عموماً ہر بات سمجھ لیتا ہے۔
لیکن ہے ابھی بھی کتے کا ہی بچہ!!
وہ جو "ارتقائی عمل" ہوتا ہے نا۔ وہ مشکوک ہی ہے۔ کتے کا بچہ کتا ہی ہے۔ بندہ نہیں بن سکا!!۔
ساری تربیت کے دوران مجھے ایک بات سمجھ آئی کہ جب کتورے کی تربیت کی جاتی ہے تو اسے لاڈ پیار کیا جاتا ہے۔ کتا جب بات "مان" لیتا ہے تو اسے "انعام" کے طور پر سوکھے گوشت کا ٹکڑا دیا جائے تو بہت خوش ہوتا ہے اور دُم پوری قوت سے ہلاتا ہے۔
نہ "ماننے" پر کتے کو سزا دی جاتی ہے۔ لیکن یہ سزا مار پیٹ کی نہیں ہوتی صرف اسے "نظر انداز" کیا جاتا ہے۔ کتے کی طرف پیٹھ موڑ کر کھڑے ہو جائیں۔کتے کو نظر انداز کر دیں۔ چند لمحات میں ہی "رو رو" کر "مالک" کو منانا شروع ہو جاتا ہے۔اور یہ رونا عجیب معصوم سا دردناک سا ہوتا ہے۔
صرف "مالک " کی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ پھر جب "مالک " کتے کی طرف منہ "موڑتا" ہے ۔
تو کتا خوشی سے مسکرا دیتا ہے۔ کتے کا مسکرانا کتا پالنے والے کو ہی سمجھ آتا ہے۔کتا بھی خوشی اور غم کے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔
"مالک" ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن دل میں کتے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔اب روتا ہے کہ کب روتا ہے۔اس وقت دل میں کتے کیلئے ایک بیان نہ کر سکنے والی شفقت ہوتی ہے۔پیار ہوتا ہے۔رحم ہوتا ہے۔
کتا بار بار "رو" کر مالک کو مناتا ہے۔ مالک کے راضی ہونے سے خوش ہو جاتا ہے۔پھر مالک کی بات مان کر "انعام" حاصل کرتاہے۔
اور آخر کار "تربیت یافتہ" ہو کر "مالک " کا ہر "حکم" مانتاہے۔لیکن "کتا تو کتا" ہی ہوتا ہے۔
"تربیت یافتہ" ہونے کے باوجود "عموماً " اپنی اصلیت "چھچھورے پن" کی وجہ سے "حکم عدولی" کر ہی جاتا ہے۔
اور پھر "مالک" کی ناراضگی مول لیتا ہے۔
بڑے بڑے شعلہ بیان خطیب میرے جیسے "ناقص العقل" انسان کو جو نہیں سمجھا سکتے وہ ایک "بے زبان حیوان" سکھا دیتا ہے۔ بس جی قدرت کو سکھانا ہوتو سکھا ہی دیتی ہے۔
سیکھنے کیلئے بھی تو "زبان" والے حیوان کو " سوچنے" کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان تو ہے ہی اشرف المخلوق!!۔
اشرف شاید اسی وجہ سے ہے کہ "سوچنے " کی صلاحیت عطا کی گئی ہیں۔ورنہ "مالک" کو "راضی" کرنے کا گُر تو "بے زبان حیوان" کو بھی عطا کر دیا گیا ہے۔
زندگی کی آزمائشیں، مصائب، تکالیف رحیم و کریم مالک و خالق کا ہمیں کچھ لمحات کیلئے "نظر انداز" کرنا ہی لگتا ہے۔جب ہم "رونا رو" کر اسے منا کر "تابعدار" ہو جائیں گئے تو انعام تو ضرور دے گا۔
اور زندگی تو ہے ہی "انعام" کیلئے ہے۔لیکن "مشروط" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتے اور انسان میں دیگر "غیر انسانی" صفات کے علاوہ ایک "صفت" تو مشترکہ ہونی چاھئے کہ بار بار "نظر انداز" کر دیئے جانے پر "مالک" کو "رورو" کر تو منانا چاھئے نا۔۔۔۔۔۔ہیں جی
تربیت تربیت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:36 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.