ساڈا بادشاہ تے ساڈا بادشاہ نالے واہ واہ

وہ---کیا اسلام میں ماورائے عدالت سزا یا قتل کی اجازت ہے؟
میں ----------ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ـــــــ یہ کیا بات ہوئی؟
میں ــــــ آپ نے پوچھا ہم نے جواب دے دیا!!
وہ ــــ دلائل سے بات کریں ، یہ تو جاہلوں والی بات کی آپ نے۔
میں ــ جی میں کوئی علامہ تو ہوں نہیں کہ دلائل سے بات کروں!!
وہ ـــ آپ سے ایسی امید نہیں تھی۔
میں ــ اسناد اور ڈگریاں آپ کے پاس ہیں ، مجھ سے ایسا سوال کرکے میرا امتحان کیوں لے رہے ہیں؟ کیا آپ کو اس کا علم نہیں؟
وہ ــ مجھے معلوم ہے لیکن آپ کی رائے سننا چاہتا ہوں۔
میں ـــ میری رائے میں نے دے دی!! "ہاں"
وہ ــ جاہل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ــ کوئی شک نہیں :D
نصابی ، تدریسی کتب اور دیگر مذہبی کتب میں ہمیں معاشرت کرنے کا طریقہ سلیقہ اور مالک کی بندگی "لکھ " کربتا دی گئی۔
اور جو پڑھ نہیں سکتے انہیں "خطیب" آسان الفاظ میں "خطبے" میں بتاتے سناتے رہتے ہیں۔یعنی معاشرت کی "تعلیمات" ہی دینے کیلئے ہمارا "دین" وجود رکھتا ہے۔(اگر مجھے غلط فہمی ہے تو اصلاح کی گذارش ہے)
سناتھا!!
ایک مقبول نعرہ ہوتا تھا۔ روٹی ، کپڑا ، اور مکان۔
نعرہ ان کا دیا ہوا تھا جنہیں کبھی بھی ان تین "ضروریات" کی مشقت کی "تکلیف " نہیں ہوئی تھی۔
پھر دیکھا تھا!!
شرعی نظام "زیرِ مونچھ" مسکرا کر نافظ کرنے کی "باتیں" ہوتی تھیں۔پھر "قوم کی ماں" قوم کو روٹی کپڑا مکان دینے کیلئے تگ و دو کرتی ہوئی دیکھی گئیں اور ہم جاپان میں گھر کی بھوک افلاس مٹانے کیلئے جان مار رہے تھے۔
پھر "لوہے کے صنعت کار" کو "امیر المومنین" بننے کی تیاری کرتے دیکھا اور "عدالت" کو زور بازو سے "زیرِ بازو" کرتے دیکھا۔
حالات حاضرہ کی طرح کی ہی چھینا جھپٹی دیکھتے رہے۔پھر فاتحانہ انداز میں مکے لہراتے فوجی کو تخت بادشاہت پر برجمان ہوتے دیکھا۔
انہی دنوں افلاس کی جنگ سے بد حال ہو چکنے والے "ہم " نے خودکشی کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ ایک "ضیعفہ کافر" نے ہمیں احساس دلایا کہ زندگی تو رب العزت کی رحمت ہے اور اس کی رحمت سے مایوسی نا امیدی "کامی ساماں نی شتسرے دا یو" ( مایو سی نا امیدی خالق کی شان میں گستاخی ہے)
فوجی بادشاہ کو کہتے سنا ۔
ٹماٹر مہنگے ہیں تو ٹماٹر کھانا چھوڑ دو نا!!ظاہر ہے بادشاہ سلامت نے کب ٹماٹر خریدنے کیلئے بازار کا رخ کیا ہوگا!!۔
پھر زرداری بادشاہ سلامت کو کہتے سنا ، "معاہدہ" ہی تو ہے "وعدہ" ہی تو ہے۔کوئی قرآن حدیث تو ہے نہیں!!!
ہم سوچ رہے تھے یا اللہ مسلمان کی زبان کیا قرآن اور حدیث مبارکہ نہیں ہوتی؟
ہم نے سنا۔
عوام کو "لائف لائن" کی سہولت صرف تین ماہ ، چھ ماہ، ایک سال میں مہیا کر دیں گئے۔لائف لائن بھی روٹی کپڑا مکان ہی ہوتی ہے۔
جس میں بجلی پانی گیس شامل نہیں ہوتا۔ جسے بجلی پانی گیس کی سہولت کی خواہش ہے وہ لوٹ مار کرنے والا بنے ۔
ورنہ کونسا عوام ننگی اور بھوکی مر رہی ہے۔ کھانے کو بلا تمیز حرام حلال مل رہا ہے اور سونے کیلئے سقف کہن (آسمان)موجود ہے۔
باد شاہ تو بادشاہ ہوتے ہیں ، ان کی اچھائیاں ،برائیاں کہنے سننے لکھنے کی فرصت میرے جیسے بھوک ، ننگ ، تنگ سے ٹکریں مارنے والوں کے بس کا کام نہیں ہوتا۔
اب حالات حاضرہ دیکھتے ہیں تو عجب "طرفہ تماشہ" چل رہا ہے۔"بادشاہوں" کے عوام ایک دوسرے کی ماں بہن ایک کئے ہوئے ہیں۔دلائل دے رہے ہیں ۔
"ساڈا بادشاہ تے ساڈا بادشاہ نالے واہ واہ"
اب دیکھتے ہیں۔
"عالمِ رویا" میں پندرہ بیس سال تعلیم حاصل کرنے والے بزرگ ہستی شیخ الاسلام ڈاکٹر پروفیسر مجدد اسلام غوث وقت قطب ابدال جمع دس پندرہ عہدے طاہر الاقادری صاحب کے "پیرکاروں" کو بے دردی سے مار دیا گیا ، لیکن کوئی عدالت، کوئی منصف کوئی حاکم "عدل و انصاف " کا "سرکس" لگانے نہیں بیٹھا!!۔
"انقلاب" پریڈ تو بنتی ہی ہے۔
اب دیکھتے ہیں۔
عوام کیلئے "آزادی" عوام کیلئے "انقلاب"کی تحریک زور شور سے ہے۔موسیقی سنی جارہی ہے اور ناچا جا رہا ہےعمران خان کو بھی "وجد" میں دیکھا اور خٹک صاحب کو تیز ہوا کے جھونکے سے جھومتے دیکھا۔
پٹھا ن کی روایات کا تو نہیں کہتا لیکن "مسلمان" کی روایات میں ناچ گانے کا تصور نہیں پایا جاتا اور "خواتین" کا تو سرعام ناچنا کسی طرح بھی قابل ہضم نہیں ۔
دوسری سیاسی جماعتوں کی خواتین کو بھی اسی طرح ناچتے دیکھ چکے ہیں ۔
اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں!!!۔
ناچے گانے سے فرشتے آسمان سے مدد کیلئے اترنے سے تو رہے۔زمینی فرشتے ہی آگے آئیں گے۔ جو گزشتہ ساٹھ ستر سال سے "فرشتے" ہی ہیں۔
اتنا تو ایک عام سیدھے سادے ٹوٹے پھوٹے مسلمان کو بھی معلوم ہے کہ جھوٹے الزام ، بہتان کی سزا بھی اسلام میں موجود ہے۔
تو ماورائے عدالت سزا و جزا کا تصور کہاں سے اسلام میں لایا جائے؟
معاشرے میں ہم اپنے آس پاس اڑوس پڑوس کے ساتھ معاشرت کرتے وقت "دینی " احکامات کا احساس کریں ان مذہبی قوانین کی پاسداری کریں توملکی نظام عدالت بھی ٹھیک ہو جائے گا۔
ہم چسکے لینے کیلئے ایک دوسسرے سے "شرعی" مسائل کے سوال و جواب بھی کریں اور کہیں ہمیں تو معلوم ہے لیکن آپ کی رائے سننا چاہتے ہیں۔!!۔
تو جناب یہ چسکے تو ہوسکتے ہیں کوئی تعمیری سوچ نہیں ہو سکتی ۔تو بھی مسلمان میں بھی مسلمان تجھے بھی معلوم مجھے بھی معلوم!!۔
تو مسئلہ کیا ہے؟
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں "یقین" ہی نہیں کہ یہ جو کچھ نصابی تدریسی کتب میں لکھا ہے اس پر عمل کرنے سے ہماری معاشرت میں بہتری آئے گی۔جب یقین نہیں تو باقی صرف چسکا ہی بچتا ہے۔
ہم نے ہوش سنبھالنے کے بعد "مولوی" اور "مسٹر" کو اسی طرح چسکے بازیاں ہی کرتے دیکھا ہے۔ لیکن ذاتی مفاد کیلئے ہر "گری" حرکت کرتے بھی دیکھا ہے۔ زبان سے مکرنا تو ایسے ہی دیکھا کہ چلو بھر پانی منہ میں لیا اور کلی کر دی۔
اللہ اللہ تے خیر صلا۔
اسلاف کہہ چکے ہیں کہ
کفر کی حکمرانی میں معاشرہ قائم ہو سکتا ہے ظلم ناانصافی پر نہیں!!!۔(حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کا مفہوم)
اور ہم دیکھتے آرہے ہیں۔ کافروں کے ملک میں ظلم نہیں عدل ہے انصاف ہے۔اور معاشرہ پُر امن ہے انتشار کر شکار نہیں!!۔
ہمارے ملک میں دین ہے علم ہے قرآن ہے حدیث مبارکہ ہے۔اسلاف کی اقوال ہیں۔اخلاقیات کی تعلیمات اور ان کا پر چار شدت سے ہے۔
اور اتنی ہی شدت سے مذہب کا غلط استعمال دینی تعلیمات کی نفی کرنے والا طرز عمل بھی
موجود ہے۔
ساڈا بادشاہ تے ساڈا بادشاہ نالے واہ واہ ساڈا بادشاہ تے ساڈا بادشاہ نالے واہ واہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:37 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.