میلہ درویش ۔۔پہلی قسط

ارضِ وطن ایک لمبے عرصے سے شدت پسندی کی لپیٹ میں ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کفر کے فتوے جاری ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ آئے دن مذہب کے نام پر بے گناہ شہریوں کو مار دیا جاتا ہے۔ سانحہ پر سانحات ہو رہے ہیں۔ ہمارے ادارے ایک جگہ اس شدت پسندی کی بیخ کنی کرتے ہیں تو یہ دوسری جگہ نکل آتے ہیں۔

meela-e-mowaishسوچنے کی بات ہے کہ ایسے لوگوں کی ذہنی تربیت کون کر رہا ہے؟ جہاں دیگر کئی عوامل ہیں وہیں پر شرپسندی کی تربیت انٹرنیٹ پر بھی ہو رہی ہے۔ انٹرنیٹ پر ایک ایسا ہی کردار فاروق درویش اور سارا غزل کے نام سے موجود ہے۔

فاروق درویش کا تعارف اس رپورٹ میں ان کرداروں کی ساری حقیقت واضح کرتے ہیں تاکہ عوام الناس اس درویش و غزل سے آگاہ ہو جائیں۔فاروق درویش کو شاعری اور ہر کام میں بڑا بننے کا شوق ہے۔ اس کے لئے یہ ہر قسم کے بھونڈے طریقے اپناتا ہے۔ اپنی ایک ہی بات کو بار بار سوشل میڈیا میں شیئر کرتا ہے۔

خطرناک بات تو یہ ہے کہ خود کو مجاہد تحریک ختم نبوت کہنے والا فاروق درویش عورتوں کی فحش تصاویر لگا کر لوگوں کو اپنی تحریروں پر متوجہ کرتا ہے۔ یہ شخص خودپسندی میں اتنا مبتلا ہے کہ اپنی ہی تعریفوں کے پل باندھتا رہتا ہے۔ جگہ جگہ کہتا ہے۔
میرا بلاگ دنیا کا سب سے بڑا بلاگ ہے۔
حالانکہ اس کے متعلق کئی ماہرین نے اسے سمجھایا ہے کہ یہ بات صرف جہالت پر مبنی ہے جبکہ تمہارے بلاگ کی ذرہ برابر وقعت نہیں۔ دوہری شخصیت کی بیماری میں مبتلا یہ شخص نہایت بدزبان ہے۔ جب کوئی اسے سمجھائے تو جواب میں خوب گالیاں بکتا ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے۔

مذہب، ختم نبوت اور حب الوطنی کا غلط استعمال کرتا ہے اور ذرا سے اختلاف پر دوسرے کو کافر، یہودیوں کا ایجنٹ اور غدار وغیرہ کہہ کر بدنام کرنے کی باقاعدہ مہم چلاتا ہے۔ لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیل کر ایسے ایسے جھوٹے پراپیگنڈے کرتا ہے کہ کئی لوگ اس کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہ واقعی مذہب کی خدمت کر رہا ہے۔ اپنی طرف سے یہ شخص قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں کے خلاف واعظ و نصیحت کرتا ہے مگر اس کی زبان اور الفاظ کا چناؤ انتہائی بیہودہ ہوتا ہے۔ اس کا مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ خود کو بڑا ریسرچر اور لکھاری دیکھانے کے لئے صرف بدزبانی اور گالیوں کا سہارا لیتا ہے۔

اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے جہاں معاشرے میں شدت پسندی کو ہوا ملتی ہے وہیں پر مذہب کا غلط تاثر پیش ہورہا ہے۔ اس رپورٹ میں ہم ایسی ساری باتیں ثبوت کے ساتھ واضح کریں گے۔ ( جاری ہے)۔

نوٹ؛- یہ رپورٹ سیکورٹی اداروں کو دی جا چکی ہے۔ صرف قارئین کیلئے بلاگ پر شائع کی جارہی ہے۔
میلہ درویش ۔۔پہلی قسط میلہ درویش ۔۔پہلی قسط Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:28 AM Rating: 5

7 تبصرے:

علی کہا...

کوئی تبصرہ نہیں ابھی تک؟؟

جواد احمد خان کہا...

بہت عمدہ جناب۔۔۔۔ پولیں قسطوں میں کھولنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔
دو لاکھ وزیٹرز والی بات سن کر اسکے دماغی عدم توازن کا یقین ہوجاتا ہے ۔اسکے بلاگ کا پتا نہیں مگر اسکی کال کوٹھری ضرور چھوٹی ہوگی۔ انشا اللہ

عمران اقبال کہا...

پچھلے دنوں ایک سافٹ ویر نظر سے گزرا۔۔۔ جس میں ویب سائٹ کھول کر آٹو ریفریش پر لگا دیں۔۔۔ صفحہ ہر 10 سیکنڈ بعد آٹو ریفریش ہوتا ہے اور ورڈ پریس میں یا کسی بھی ویب ڈومین میں ایک حاضری کا اضافہ ہو جاتا ہے۔۔۔ تو اب آپ سمجھے کہ دو لاکھ وزیٹر کیسے جمع ہوئے۔۔۔!!!

باقی رہی بات مویش کی۔۔۔ تو اللہ اسے ہدایت دے۔۔۔ بوکھلا گیا ہے۔۔۔ خود پرستی میں اندھا ہو گیا ہے۔۔۔

محمد سلیم کہا...

پیر سائیں؛ ایک حل تو یہ تها کہ آپ ان لوگوں کو انہی کے حال پر جلنے بهننے کیلئے چهوڑ دیتے. بقولہ تعالیٰ: (تمہارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ان سے کہہ دو کہ اپنے غصہ میں آپ جل مرو)

محمد اسلم فہیم کہا...

میں تو کوئی تبصرہ نہیں کروں گا ;)

افتخار راجہ کہا...

یہ بندہ جو بھی ہے بڑی توپ چیز ہے، آپ ہم اسکے ذہنی مریض سمجھ کر اسکاقد کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں

اسکی اپنی زبانی سن لیں ایک پوسٹ سے اقتباس
۔ یاں یہ لوگ مکمل آزاد ہیں ، بصد شوق و جنوں پورے اہتمام اور خصوصی بندوبست کے ساتھ حساس اداروں کو اطلاع دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر عاصمہ جہانگیر، نجم سیٹھی اور عطا الحق قاسمی جیسے تگڑوں کے بارے بلاگ ہی نہیں اخباری کالم لکھ کر قانونی نوٹس اور وڈی وڈٰ تڑیووں شڑیوں سے نپٹ سکتا ہوں تو ان اصحاب ِ فتن کی قانونی جنگ بھی دیکھ لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی قتل شتل ایرا وغیرہ کی دھمکیوں میرے کیلئے کوئی خوفناک بات نہی ۔۔۔۔ میں افغان جنگ میں گولی بھی کھا چکا، ماسکو جیل بھی کاٹ چکا اور قادیانیوں کے سرپرست اعلی مشرف کے اذییت ناک ٹارچر سیلوں میں ہتھوڑیوں سے ہڈیاں تڑوانے، ناخن کھینچے جانے اور دوسرے وحشیانہ تشدد کے مزے بھی لوٹ چکا ہوں ۔۔۔۔
ہنڑ کرو گل

وقاراعظم کہا...

ویسے روسی ماسکو کی جیل میں تو بے ضرر لوگوں کو بھرتے ہیں۔ انکل کو تو سائبیریا کے کسی دور دراز، دشوار گذار علاقے کی جیل میں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ "جان ریمبو" وہاں سے بھی نکل بھاگتا :D

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.