میلہ مویش

. ہم بلاگ اس لئے لکھتے ہیں کہ اپنے محسوسات دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔یہ ایسے ہی ہے۔ جیسے آپ اپنے دوستوں کے ساتھ دکھ سکھ یا گپ شپ لگاتے ہیں۔ کہ جو دوستوں میں بیٹھ کر گپ شپ لگائی جاتی ہے، اس سے کچھ "فضول " اور "بیہودہ " بات بھی زبان سے نکل جاتی ہے۔
اچھے دوستوں کے ساتھ بیٹھک ہونے کے باوجود اپنی ایسی کسی بات کا بعد میں ہمیں افسوس ہوتا ہے۔لیکن بلاگ کا یہ فائدہ ہوتا ہے ،کہ ہم لکھتے ہیں ، تحریر کی اصلاح کرتے ہیں .
نا چاہتے ہوئے بھی سوچتے ہیں اور کبھی جان بوجھ کر اور کبھی انجانے میں ہی سہی لیکن سوچ کر اسے بلاگ پر شیئر کر دیتے ہیں۔ کمنٹس تبصرے سے ہمیں اپنی سوچ کی اصلاح کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ اور سوچ کو وسعت دینے کا موقع بھی ملتا ہے۔۔ بلاگر کا کوئی انتہائی علمی شخصیت ہونا لازمی نہیں ہے۔
لیکن اگر کوئی علمی شخصیت بلاگ لکھنا شروع کر دیتی ہے، یہ تو پڑھنے والوں پر بہت بڑا احسان ہو جاتا ہے، کہ علم حاصل کرنے کیلئے ریاضت کرنے والی شخصیت اپنے علم سے دوسروں کے ذہن بھی منور کر رہے ہیں۔ اور کئی ایسے محترم بلاگر موجود بھی ہیں ۔
جو اپنے اپنے علم سے بلاگ لکھ کر علمی خدمات نیکی نیتی انجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے آپ بلاگرز کے قارئین بلاگرز اور ایک "علمی توپ" کی چخ چخ سے کافی ٹینشن محسوس کر رہے ہیں۔ جس کے لئے ہم معذرت خواہ ہیں ،لیکن یہ بلاگر کا کام ہوتا ہے۔
کہ جو اچھا یا برا سمجھتا ہے۔ اسے سب کے سامنے رکھ کر اس سے اپنی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود اچھے یا برے روئیوں کا بتاتا ہے۔ معاشرتی برائیوں پر آواز اٹھا کر سب کے ساتھ "سوچنا" بھی بلاگر کا کام ہے۔۔جو کہ ہم کرتے ہی آئے۔ اب کہا جائے کہ یہ چخ چخ ختم کر دی جائے ۔
یہ ہے وہ ہے۔ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ برائی کو دیکھ کر برائی کا احساس نہ کیا جائے۔ یا گندگی کو دیکھ کر گندگی پر ڈھکن رکھ دیا اور کہا جائے کہ گندگی تو وجود ہی نہیں رکھتی۔کم از کم صفائی کرنے کی کوشش تو کرنی چاھئے،،اور اسی کوشش میں کوشاں لکھنے والا بلاگر ہوتا ہے۔
بلاگر بلا معاوضہ لکھتا ہے۔جو محسوس کرتا ہے وہ لکھتا ہے۔اور لکھنے کیلئے بلاگر کے پاس اپنے آس پاس کا ماحول ہی ہوتا ہے۔ ناکہ صرف کتب سے کاپی پیسٹ کیا ہوا تدریسی اور نصابی مواد۔۔۔ میں ایک سلسلہ جاری کر رہا ہوں۔ جسے میں "میلہ مویش" کا نام دے رہا ہوں۔ یہ ایک رپورٹ ہے۔
جو کہ مملکت پاکستا ن کے تمام سیکورٹی اداروں کو ارسال کی جائے گی۔ اگر معاملہ میری ذات تک ہوتا تو میں بھی دو چار سنا کر خاموش ہو جاتا جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔یا کہیں آمنا سامنا ہو جاتا تو "زورِ بازو" بھی آزمانے کا موقعہ دے دیتا۔ لیکن دو سال گذرنے کے بعد بھی اس "فاروق درویش " کی بکواسیات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ اور یہ شخص مسلسل "جھوٹ" سے لوگوں کی کردار کشی پر لگا ہوا ہے۔
صرف گالی گلوچ ہو تو پھر بھی قابلِ معافی ہے۔ لیکن یہ شخص مذہب کا انتہائی توہین آمیز استعمال کرتا ہے ،بعض اوقات مذہب کی توہین اپنی ، فحاشی ، بے حیائی ، فحش کلامی اور بیہودگی کے ساتھ کر رہا ہوتا ہے۔اس لئے فی الحال میں اس "معاشرتی" غلاظت پر مسلسل کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اور قتل کی دھمکیاں تو ریوڑیاں بانٹنے کی طرح دیتا ہے۔ برائے مہربانی آپ خواتین و حضرات بھی سمجھنے کی کوشش کریں ،۔
کہ یہ ایک ایک برائی ہی ہمارے ملک معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹتی جا رہی ہے۔ اور ہم ڈر خوف ، احتیاط پسندی، دفع کرو جیسے جذبات سے مغلوب ہو کر خاموشی اختیار کر جاتے ہیں۔آئے معاشرے ، ملک و قوم کیلئے چھوٹی چھوٹی معاشرتی برائیوں سے جنگ کریں کہ یہی معاشرے کی اصل بیماریاں ہو تی ہیں۔ 10519773_608393949274561_5472816642975534670_n
میلہ مویش میلہ مویش Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:44 AM Rating: 5

2 تبصرے:

علی کہا...

بھائی جان ہم سب فاروق درویش ہیں بس فرق یہ ہے کوئی کہاں زور آزمائی کر رہا ہے کوئی کہاں۔

جواد احمد خان کہا...

آپکا یہ اسٹینڈ قابل تعریف ہے ۔ جس دل جمعی سے آپ اس غنڈہ گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ یقیناً ایک ہمت کا کام ہے۔ ورنہ میرے جیسے تو لوگ تو جلد بھاگ جانے والے ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.