سائبر وار اور اشتعال انگیزی

ہمارے طبقے یعنی نچلے طبقے کا فرد جب سنِ شعور کو پہونچتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔ اپنے گھر اور گھر کے باہر بھی افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں گاؤں محلہ کے تمام گھرانے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔
کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔اپنے گھر بھی بھوک تنگ اور ننگ اور اڑوس پڑوس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔اس طبقے کے ہر گھر کے سماجی ، معاشرتی مسائل کی وجہ ہی افلاس اور تنگی ہوتی ہے۔ جو کہ سوچ کو سطحی اور ذہنوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔
حکمران اور امراء کے طبقے میں نچلا طبقہ کسی قسم کا اثر رسوخ نہیں رکھتا اور حکمران اور امراء کی ذہنی سطح بھی ایسی ہی ہے کہ اس طبقے کی عوام کو "حسب ضرورت"استعمال تو کرتے ہیں۔ لیکن مستقل بنیادوں پر اس طبقے کی بہتری کیلئے کچھ کرنے کیلئے "خلوص" نہیں رکھتے۔
مجھےایک بار اس کا تجربہ اسطرح ہوا کہ میدانی علاقے کیطرف ایک دوست کے گھر گیا۔کم سن بچوں کو حقے کے کش لگاتے ہوئے دوست کے والد کے پاؤں دباتے دیکھ کر پوچھ بیٹھا کہ بچوں کے سکول کی چھٹیاں ہیں؟
جواب میں کہا گیا کہ یہ سکول جانے والوں کی نسل میں سے نہیں ہیں۔!!۔
ہمارے ساتھ کیونکہ "جاپانی" کا دم چھلا لگا ہواہے۔ پاکستان میں ملنے جلنے والے ہمیں کوئی "توپ" شے سمجھتے ہیں ۔اور ہمارا حال تو ہمیں ہی معلوم ہے۔
بس روانی میں ان دوست کے والد صاحب نے ان بچوں کا شجرہ وغیرہ سنا دیا۔بچے بھی تاثرات سے عاری چہرے سے اپنے "فرائض " کی ادائیگی میں لگے رہے۔
میرے ذہن میں اس وقت ایک ہی خیال ابھرا کہ ان بچوں اور مجھ میں کیا فرق ہے؟
صرف علاقے کا؟ طبقہ تو میرا بھی اور ان کا بھی ایک ہی ہے۔ بھوکے ننگے۔
مجھے ان "بزرگ" کے مسکراتے لبوں سے جھانکتے سفید دانت ابھی تک نہیں بھولتے ۔اور مزید ان کے الفاظ اب بھی ذہن کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں کہ ان۔۔۔۔*******۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے بھی پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تو افسر بن جائیں گئے تو میرے پاؤں کون دبائے گا۔۔
اس نچلے طبقے کے لوگ عجیب قسم کے عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور اپنے "دفاع"کیلئے مرنے مارنے کا مزاج پا جاتے اور ایک "اکڑ" ،تندخوئی ان کے مزاج کا خاصہ بن جاتی ہے۔
جو کے ان کے مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہے۔اور اس طبقے کی خواتین تو ذرا ذرا سے بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں۔وجہ "عدم تحفظ" کا احساس ہی ہوتا ہے اور اپنے دفاع کیلئے ہر طرح کا جھوٹا پینترا بدل لیتی ہیں ،لیکن اپنی غلطی تسلیم کرنا یا اپنے موقف سے رجوع کرنا انہیں خوفزدہ کئے رکھتا ہے
،کہ نجانے کیا نقصان اٹھانا پڑ جائے۔۔۔۔
اسی وجہ سےاس طبقہ کے مرد حضرات زیادہ تر گھریلو پریشانیوں کا رونا ہی روتے پائے جاتے ہیں۔شومئی قسمت سے ان میں سے کچھ ہمت کرکے معاشی طور پر فراغت حاصل کر بھی لیں تو ان کے مسائل انہی گھریلو "معاملات" کے اردگرد گھومتے ہوئے زندگی کو تلخ ہی کئے رکھتے ہیں۔یعنی کوئی نا کوئی نیا "کٹا" کھول ہی دیا جاتا ہے۔کیونکہ پیدائشی مسلمان ہوتے ہی ہیں تو درمیانی عمر کو پہونچ کر جب اس طبقے کے لوگ "موت" کے خوف سے آخرت کی فکر کرتے ہیں ۔
نماز روزہ اختیار کرنے کے بعد مسجد میں آناجانا شروع ہوتا ہے ،تو انہیں زندگی میں پہلی بار معلوم ہوتا ہے ،کہ صرف "کلمہ گو" ہونا اور صوم و صلواۃ کا پابند ہونا ہی مسلمانی کیلئے کافی نہیں ہوتا!!۔مسلک فرقہ اختیا ر کرنے کے بعد بندہ "سچا" اور "حقیقی" مسلمان بنتا ہے۔
معاشرے میں جن لوگوں سے ساری زندگی اپنی خوشیاں اور غم بانٹ کر مل جل کر زندگی گذارتا آیا ہے۔ ان سے اب مسلک اور فرقے کے اختلاف کی وجہ سے نفرت کرنا بھی "اہم فریضہ" ہو جاتاہے۔
کسی نا کسی طرح اس مسلکی فرقہ واریت میں بھی اپنی جگہ بنا لے توطاغوتی طاقتوں کا بھی معلوم پڑتا ہے جیسے قادیانی ،پرویزی، گوہری، وغیرہ وغیرہ۔
جب ان سے اپنے دفاع کیلئے "اپنےعلم" کیلئے ان کا بھی مطالعہ کرتا ہے اور اللہ کی رحمت سے "ھدائیت" پر ہی رہتا ہے۔ اور اپنا دین ایمان بچانے کی فکر ہی کرتاہے۔ کہ اب درمیانی عمر میں ملک الموت کی قدموں کی چاب صاف سنائی دینا شروع ہو جاتی ہے۔
لیکن معاشرے میں پائے جانے والے غنڈے بد معاش اس نچلے طبقے کے افراد کو ہمیشہ "عدم تحفظ" کا ہی شکار رکھتے ہیں۔ دھونس دھمکی موقعہ ملتے ہی مار پیٹ کرنا ان غنڈے بد معاشوں کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔کوئی ریاست ،قانون اگر فعال ہے بھی تو حکمران اور امراء طبقے کی "خدمت" کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
میں تو ابھی تک حیرت زدہ ہوں گزشتہ دو سال سے ایک غنڈہ بدمعاش شخص مسلسل شر انگیزی کر رہا ہے، ہر دوسرے اختلاف کرنے والے کو گالی گلوچ اور قتل کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے ۔لیکن کوئی پاکستان کا قانونی ادارہ متحرک نہیں ہوا۔
لوگ اس حد تک "عدم تحفظ" کا شکار ہیں کہ اس شخص کے خلاف آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔اور ہر شخص یہی کہہ رہا ہے کہ اس شخص کیخلاف کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی کی صورت میں "جان" کا خطرہ ہے۔یہ شخص زبانی کلامی لڑائی جھگڑے کے بعد اس حد تک چلا گیا کہ "مذہب" کا غلط اور توہین آمیز استعمال کرکے لوگوں کو اشتعال دلا کر اس سے اختلاف کرنے والوں کی "جان" کو خطرے میں ڈال دیا۔
اور دعوہ اس کا یہ ہی ہے کہ یہ ختم نبوت کا محافظ ہے۔اور یہ موضوع ہے ہی ایسا کہ عام مسلمان اس سے اشتعال میں آکر کچھ بھی کر سکتا ہے۔
یہ شخص ختم نبوت کے نازک موضوع کو استعمال کرکے شر پسندی انتشار پھیلا رہا ہے،اور مسلمان اپنے آپ کو بے بس سمجھ رہے ہیں۔کچھ کہیں تو یہ اپنی آپ کو ختم نبوت کا سپاہی کہتا ہے۔اور ہر اختلاف کرنے والے کو قادیانی اور قادیانی نواز بنا دیتا ہے۔
ممتاز قادری کا کیس ہمارے سامنے ہے۔ یعنی کوئی بھی شخص مذہب کے نام پر قانون اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔ہم خاموشی اختیار کر سکتے ہیں۔ لیکن اس شخص کی بد اخلاقی بد کلامی اور قتل و غارت کی دھمکیاں جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا جس سے "ختم نبوت" پر اپنے اعلی اخلاقیات سے کام کرنے والے لوگ ہیں وہ بھی حیرت زدہ ہیں۔"ختم نبوت" والے بھی مجبور ہو کر اپنے ایک "متحرک" کارکن کیلئے وضاحتی بیان دے چکے ہیں۔ کہ یہ ہمارا ساتھی ہے اور اس کے دین ایمان کی ہم "شہادت" دیتے ہیں۔
ڈاکٹر جواد خان کے متعلق "سلیم صاحب" جیسے حلیم طبع بزرگ کو بھی ان کے صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کی وضاحت کرنا پڑ گئی۔اور سلیم صاحب جیسا حلیم طبع شریف شخص بھی اس کی شیطانیت کا شکار ہو گئے۔
میں تو خیر اس شخص سے اسی کی زبان میں بات کر رہا ہوں۔ کہ کچھ کھونے کا اب ڈر ہی نہیں۔دوسال سے دیکھ رہا ہوں یہ شخص یہی کچھ کر رہا ہے۔ دلچسپ بات کہ عنیقہ ناز مرحومہ کے کار ایکسیڈنٹ میں انتقال کے وقت یہ شخص اپنی زنانہ آئی ڈی سے خوشی سے کہتا پایا گیا تھا کہ انہوں نے مرحومہ کو واصل "جنت" کیا ہے۔
کچھ کراچی کے بلاگر مرحومہ کے گھر گئے تھے اور ایکسیڈنٹ میں انتقال کر جانے کی تصدیق کے بعد سب نے بات ہنسی مذاق میں اڑا دی تھی۔
اس کے علاوہ بھی کئی لوگوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ، الزام تراشی ، بہتان بازی اس شخص کے بلاگ اور سوشل نیٹ ورک کی سائیٹ پر پائی جاتی ہیں۔
سارے اردوبلاگرز اس کے پرو پیگنڈے کا شکار ہیں کہ سب یہودیوں قادیانیوں کے ایجنٹ بنا دیئے گئے ہیں۔
ہماری حکمران طبقے اور امراء سے گذارش ہے،کہ یہ شخص جو ہماری "بدکلامی" یاوہ گوئی" یا طرز گفتگو کے متعلق واویلا مچا رہا ہے۔ وہ سب کچھ ہم آپ کو دینے کو تیار ہیں۔
بلکہ جو کچھ یہ ہماری "بیہودگی "بتا رہا ہے ہم "ماننے" کو تیار ہیں۔
برائے مہربانی تحقیق کریں۔ہمارا کسی قسم کا مواد دینے کے بجائے اس کی تحاریر جو آپ کی نطروں سے گذریں گئیں۔ اسی سے آپ اس شخص کی شر انگیزی اور معاشرے میں انتشار پھیلانے کی مذموم حرکات سامنے آجائیں گئیں۔
جناب والا ہم "عدم تحفظ" کے شکار نچلے طبقے کے لوگ ہیں۔ اس جیسے با اثر شخص کے متعلق تفتیش تو کریں؟یا ہمارا "تحفظ" یقینی بنائیں کہ ہم کوئی قانونی چارہ جوئی کرنے کی ہمت کر سکی۔
ہم اس شخص کی کسی قسم کی کمینگی اور ذلیل حرکت کا خوف رکھتے  ہیں۔
سائبر وار اور اشتعال انگیزی سائبر وار اور اشتعال انگیزی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:54 PM Rating: 5

7 تبصرے:

افتخار راجہ کہا...

مجھے تو لگتا ہے کہ یہ بات اس پاؤں دبوانے والے بابے سے مذید بڑی ہے، بلاگز اردو زبان کا عوامی لکھاری ہے جو اپنے دل کا حال اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے متعلق لکھتا ہے اور اسی سے متاثر ہوکر لکھتا ہے، چونکہ انٹرنیٹ پر اردو کا بیشتر مواد انہی کا شائع کردہ ہے اور اب فیس بک اور ٹویٹر پر بھی اردو میں بہت کچھ لکھا جارہا ے، تو انہی کی بدولت ہے، اردو السٹالر سے لیکر فونٹ تک سبھی کچھ اسی گروپ کےلوگوں کے تیارکئے اور بلا منافع عوام کی ملک کردئے۔
لازمی طور پر اردو کے اس طبقہ کو قابو کرنے والی طاقتیں بھی دیکھ رہی ہیں، جو ہر چھوٹی سے چھوٹی کمیونٹی پر نظر رکھتی ہیں ان سے بلا یہ کیسے اوجھل رہ سکتے تھے، چونکہ بلاگرز کسی غیرقانون کام میں ملوث نہیں ہیں تو ان پر کوئی قدغن نہیں لگایا جاسکتا، مگر اس طرح کے قادیانی اور قادیانیوں کے ساتھی ہونے کا الزام کسی پر بھی لگایا جاسکتا ہے، اور پھر ہماری قوم جس کے پس صرف ایمان ہی بچا ہے، وہ اسی ایمانی جزبے کے تحت اس ظالم کا خون کرکے پھاہے لگ کر شہادت پالینے کی کوشش میں وہ فساد فی الارض برپاکرسکتے ہیں جسکی بہت سی مثالیں ہمارے ماضی میں موجود ہیں۔
ہماری انٹرنیٹ استعمال کرنے والی عوام کی بڑی تعداد بس لکھ پڑھ ہی لیتی ہے، ایسے میں اردو بلاگرز کا طبقہ انکےلئے بہت راہنماء ثابت ہوسکتا ہے۔
میری ایک مذہبی علم رکھنے والے دوست سے اس صورت حال پر بات ہوئی تو ان کا خیال یہ ہے کہ یہ ایک کو قادیانی اور انکا ساتھی قرار دینے والا ٹولہ ممکنہ ایجنٹ ہوسکتا ہے طاغوتی طاقتوں کا یا انکا ایک مہرہ جسے وہ مسلمانوں میں فساد پھیلانے کو استعمال کررہے ہیں، ایسی صورت پیدا کرنے کےلئے جس میں کسی کو اردگرد کیا ہورہا ہے دیکھنے کی ہوش ہی نہ رہے اور وہ اپنی ایمانداری اور مسلمانی ہی ثابت کرتا رہے، جیسے ہم لوگ گزشتہ ہفتے سے کررہے ہیں،
انکی اس بات کی تائید میں دیکھا جائے تو ہمارے بلاگرز میں سے کس نے گزشتہ دنوں کتنا لکھا اسرائیل کے مظالم کے خلاف، کتنا ہائی لائیٹ کیا غزہ کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو،
مانا کہ ہم لوگ توپ لے کر ادھر نہیں جاسکتے، مگر زبان سے تو منع کرسکتے ہیں ظل کرنے والوں کو، ورنہ پھر دل میں برا جاننے والا ایمان کا آخری درجہ ہی رہ جاتا ہے۔ جس پر ہم اس وقت ہیں
اللہ ہم سب پر رحم کرے اور امت مسلمہ کو ان فتنوں اور فسادیوں سے بچائے۔

علی کہا...

۔لیکن کوئی پاکستان کا قانونی ادارہ متحرک نہیں ہوا۔
ہاہاہا یہ چنگا لطیفہ لکھا۔ بھائی جان یہ پاکستان ہے یہاں متحرک کرنے کو عمل انگیز استمعمال میں لانا پڑتا ہے جس کو پیار سے روپیہ کہتے ہیں۔ اور وہی پاکستان میں رائج واحد قانون ہے

وقاراعظم کہا...

عمل انگیز کا استعارہ خوب استعمال کیا۔ اعلیٰ :D

وقاراعظم کہا...

بس جی کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ موصوف کی تحریروں سے نہ جانے کیسے لوگوں کا ایمان تازہ ہوتا ہے حالانکہ ایمان بچانے کی فکر کرنی چاہیئے۔ اللہ اس ٹولے کو ہدایت دے اور اسوۃ خاتم النبیّن حضرت محمد ﷺ پر عمل کی توفیق دے۔

جواد احمد خان کہا...

مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ کسی ایک آدمی کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں بلکہ جو بھی حمایت میں آرہا ہے اسے رگید رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر معاملہ ذاتی اور انفرادی نوعیت کا ہوتا تو ہم میں سے ہر ایک ،کب کا اس پر لعنت بھیج کر اپنی راہ لے چکا ہوتا ۔ لوگ جس طرح ایک دوسرے کو سپورٹ کر رہے ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہم پر ایک خاص عنایت ہے اور یہی اس خباثت سے جنم لینے والی مثبت چیز ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اور ڈاکٹر صاحب نہ ہی آپ نے ہمیں کہا تھا کہ ان گالیوں کا جواب دیا جائے، بلکہ ہم نے تو اس جعلی آئی ڈی پر لعنت بھیجنے کیلئے آپ کے ساتھ ہنسی مذاق کیا تھا کہ یہ کسی عورت کی زبان ہو ہی نہیں سکتی۔۔
اس کے بعد جو خباثت شروع ہوئی ۔۔۔ملکہ وکٹوریہ کے محلات تک لرز اٹھے :D
اور نہ ہی میں نے کسی سے کہا کہ آؤ مل کر لڑائی لڑائی کھلیں۔
بس جناب۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اکیلے ہی چلے اور قافلے میں لوگ جھوک در جھوک شامل ہوتے جارہے ہیں۔۔اللہ ہمیں اس "گند" سے امان عطا فرمائے ۔۔آمین

حمزہ صدیقی کہا...

پاکستان کے عوام باوجود عمل میں کورے چٹے ہونیکے مذہب سے شدید محبت رکھتے ہیں، اسکی ایک وجہ غربت زرہ معاشرے میں آسودگی اور عاقبت سنوارنے کا واحد ذریعہ اور دوسری وجہ نظریاتی اساس ہے جسکا اثر بہر صورت مٹی میں شامل ہوتا ہے.

ختم نبوت جیسے نازک موضوع پر اشتعال انگیزی جس منظوم انداز میں ہورہی ہے یہ کسی مذموم سازش کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے.

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا اور عملا" اشتعال پھیلانے والے عناصر کی گزشتہ سانحے کے تناظر میں سرکوبی شروع کردی گئی ہے-

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.