سارا غزل کا پس منظر۔ میلہ درویش 3

آگاہی شعور کے لئے عوام کو بتا رہے ہیں۔
نوٹ ؛- تحریر میں موجود تمام تصاویر۔سارا غزل اور دانیال اکبر کی فیس بک وال سے حاصل کی گئی ہیں۔

فاروق درویش کے انٹرنیٹ پر آنے کے چند ماہ بعد ایک اور کردار سیدہ سارا غزل کے نام سے سامنے آیا۔ فاروق درویش انٹرنیٹ پر جہاں بھی پہنچا سارا غزل اس کے ساتھ ساتھ رہی۔
سوشل میڈیا انیلسٹ (تجزیہ کار) کا کہنا ہے
سارا غزل کی آئی ڈی جعلی ہے اور اس آئی ڈی کے پیچھے فاروق درویش ہی ہے۔ جعلی کے شواہد بیان کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے
پہلی بات تو یہ نام ہی غلط ہے۔ لڑکیوں کا نام ’سارہ‘ ہوتا ہے ناکہ ’سارا‘ یعنی نام کے آخر پر ’ہ‘ آتی ہے جبکہ اس آئی ڈی میں آخر پر الف ہے۔ کوئی بندہ ہر چیز کی غلطی کر سکتا ہے مگر ایک جاہل بھی اپنا نام درست لکھتا ہے
یہ آئی ڈی فاروق درویش نے ہی بنا رکھی ہے اور اسے لڑکیوں کے نام ’سارہ‘ کے ٹھیک ہجے بھی معلوم نہیں۔
سارا غزل کے جعلی ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ یہ خود کو ہاشمی سید گھرانے کا کہتی ہے جبکہ فیس بک کے پرانے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ اس کی پروفائل میں اس کے جو فیملی ممبر شامل تھے وہ اپنے نام کے ساتھ ’ملک‘ لکھتے تھے۔
کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ ایک بندہ ہاشمی سید اور باقی خاندان والے ملک۔
سارا غزل کہتی ہے کہ وہ کراچی کی ہے۔ جبکہ اس کی فحش گوئی، گالیوں اور تحریروں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ جس طرح کی اردو لکھنے میں الفاظ اور گالیوں میں الفاظ یہ استعمال کرتی ہے۔ ایسے الفاظ کراچی کے بندے استعمال نہیں کرتے بلکہ سارا غزل آئی ڈی کے پیچھے جو شخص ہے وہ لاہور یا اس کے گردونواح کا رہنے والا ہے کیونکہ اس کی زبان اسی علاقے جیسی ہے۔سارا2
اس آئی ڈی کے جعلی ہونے کا سب سے اہم ثبوت یہ ملتا ہے
اپنی تعلیم ایم فل اکنامکس بتانے والی اور خود کو پاک فضائیہ کے پائلٹ سید زوہیب ہاشمی کی بیوی اور خود کو شاعرہ کہنے والی اتنی فحش گو اور بدزبان نہیں ہو سکتی۔
پہلی بات تو یہ کہ کسی اچھے گھرانے کی خاتون گالیاں نہیں نکالتی اور اوپر سے سید گھرانہ، پڑھی لکھی، پائلٹ کی بیوی اور شاعرہ اتنی غلیظ گالیاں تو بالکل بھی نہیں دے سکتی۔ جبکہ سارا غزل تو فاروق درویش سے کئی ہاتھ آگے ہے اور بات بات پر گندی گالیاں بکتی ہے۔
تجزیہ کرنے کے لئے فاروق درویش کی پوسٹس پر جان بوجھ کر سخت کمنٹس کیے تاکہ اس کا اور سارا غزل کا رد عمل نوٹ کیا جا سکے۔ جب بھی سخت کمنٹ کیا۔ فوری سارا غزل والی آئی ڈی سے گالیاں آئیں۔ اس کے بعد فاروق درویش گالیاں دیتا ہے اور پھر دانیال اکبر اور بنت وطن جیسی جعلی آئی ڈیز سے انتہائی غلیظ گالیوں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ایسا عموما سارا غزل وال پر ہوتا ہے۔
خود سوچو کہ اگر سارا غزل کوئی خاتون ہوتی تو وہ خود گالیاں دیتی نہ ہی وہ اپنی وال پر دوسروں کی طرف سے اتنی غلیظ اور فحش گالیاں رہنے دیتی۔
سارا1
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے
فاروق درویش اور سارا غزل ایک ہی ہے۔ خاتون کے نام سے آئی ڈی بنانے کے انٹرنیٹ پر کئی فائدے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ تو جاہل نوجوانوں کو جمع کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ویسے بھی بہن کی مدد کو بھائیوں کی قطار لگ جاتی ہے۔
جو بات کہنے پر فاروق درویش کو خدشا ہو کہ لوگ اسے ہی برا بھلا کہیں گے۔ وہ بات سارا غزل والی آئی ڈی سے کہتا ہے۔ جیسے عموما گالیاں سارا غزل والی آئی ڈی سے ہی نکلتی ہیں۔ جب کئی لوگ اعتراض کرتے ہیں تو فاروق درویش کہتا ہے کہ یہ سارا غزل بیٹی نے جذبات میں آ کر غلطی کر دی ہے۔ میں اسے سمجھاتا ہوں۔
اس طرح فاروق درویش خود کو سارا غزل کی آئی ڈی کی آڑ میں بچا لیتا ہے۔
کئی بار فاروق درویش کو لوگوں نے کہا ہے کہ سارا غزل تمہاری ہی آئی ڈی ہے تو اس بات کی تردید وہ اس طرح کرتا ہے کہ کئی لوگوں نے سارا غزل سے فون پر بات کی ہے۔ غور کیا جائے تو فون پر بات کرنا کسی آئی ڈی کے اصلی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ اول تو چائنہ موبائل اور ویسے بھی وائس چینجر عام ملتے ہیں جس سے فون پر مرد کی آواز دوسری طرف والے کو خاتون کی آواز بن کر پہنچتی ہے۔ دوسرا کسی بھی خاتون کو کہہ کر بات کرائی جا سکتی ہے۔
سارا غزل آئی ڈی کے جعلی ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جب یہ آئی ڈی شروع ہوئی تو تب ایک ہی خاتون کی مختلف تصویروں کے ساتھ شاعری لگا کر پوسٹ کی جاتی۔اس خاتون کو سارا غزل کہا جاتا۔ان تصویروں کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ کوئی انتہائی ماڈرن خاتون ہے۔
اب خود فیصلہ کریں کہ خود کو پردہ دار اور انتہائی مذہبی کہنے والی لڑکی اپنی ایسی تصویریں شاعری کے ساتھ لگا کر پوسٹ کرے گی۔ جن تصویروں سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ یہ مرد حضرات کو اپنی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے۔
فرض کیا جائے کہ سارا غزل اصلی آئی ڈی ہے تو پھر دو باتیں ہیں۔
1471869_10203414193569055_2579237142073524024_n
ایک یہ
وہ تصویریں اس کی نہیں۔ اگر اس کی نہیں تو پھر یہ کتنی واہیات حرکت ہے کہ کسی کی تصویریں چوری کر کے فحاشی پھیلائی جا رہی ہے۔
دوسری بات یہ
اگر وہ تصویریں واقعی ساراغزل کی ہیں تو پھر خود کو مذہبی کہنے والی کا اصل چہرہ کتنا گندہ ہے کہ ایک طرف حیائی اور مسلمانی کے دعوے اور دوسری طرف مرد حضرات کو دعوت گناہ دی جا رہی ہے۔
سارا غزل کی آئی ڈی کو اصلی اور اس کے پیچھے کسی خاتون کو فرض کرنے پر بھی یہی واضح ہو رہا ہے کہ یہ کوئی انتہائی گندہ کردار ہے۔ جو غلیظ گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ اپنی یا کسی کی تصاویر دعوت گناہ والے انداز میں پھیلا رہا ہے۔
فاروق درویش کی تحریروں پر ہونے والے کمنٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے شدت پسندی اور فتنہ فساد کو ہوا دینے کے لئے کئی ایک جعلی آئی ڈیز بنا رکھیں ہیں۔
سائبر کرائم کو بھیجی گئی رپورٹ میں یہ بات ثبوتوں سے واضح کی ہے کہ سارا غزل کی آئی ڈی کے پیچھے اگر واقعی کوئی خاتون ہے تو پھر بھی یہ فاروق درویش کی انتہائی قریبی ہے اور ایف آئی اے کو فاروق درویش اس آئی ڈی کے اصل کردار تک پہنچا سکتا ہے۔
کیونکہ اکثر جگہوں پر خود فاروق درویش نے اقرار کیا ہے کہ سارا غزل اس کی بیٹیوں جیسی ہے اور وہ اس سے مکمل رابطے میں ہے۔
سارا غزل فاروق درویش کو اپنا پیر مانتی ہے اور اس کا کہا مان کر چلتی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سارا غزل کی گالیاں فاروق درویش کی مرضی سے ہی نکلتی ہیں۔
اگر سارا غزل کی آئی ڈی جعلی ہے جیسا کہ تمام شواہد اس کے جعلی ہونے کی طرف جاتے ہیں تو تب ظاہر ہے فاروق درویش ہی یہ آئی ڈی چلا رہا ہے اور سارا غزل والی آئی ڈی سے ہونے والے تمام سائبر کرائمز یعنی کسی ثبوت کے بغیر مسلمانوں کو بدنام کرنا، ان کی کردار کشی کرنا، انہیں دھمکیاں دینا، ان کے ایمانوں پر حملہ کرنا، معاشرے میں شدت پسند اور انتشار پھیلانا اور سب سے اہم لڑکیوں کی تصویریں چوری کر کے جعلی آئی ڈیز بنانا اور انہیں چلانا اور اس جیسے سارے کام فاروق درویش کے کھاتے میں ہی جاتے ہیں۔
یہ دانیال اکبر کی فیس بک کی کوور فوٹو ہے۔
ڈانیال
ہم سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان لوگوں کے آخر مقاصد کیا ہیں؟مجاہد ختم نبوت کے داعویدار بھی ہیں اور ان کی تصاویر کسی طرح بھی باشرع مسلمان ہو نے کا ثبوت نہیں دے رہیں، اور ان کی بد اخلاقی ،بد کلامی اکثریت کو معلوم ہی ہے۔
ہمیں ان سے کوئی لینا دینا نہیں، مسلمانوں کو بدنام کرنے کی غلیظ حرکات ختم کر دیں ، گالم گلوچ ، مذہب کا توہین آمیز استعمال کرنے کے مقاصد کیا ہیں؟
یہ میری تصویر ہے جو سارا غزل کی آئی ڈی سے ایڈیٹ کر کے شیئر کی گئی ہے۔اور اسے درویش نے بھی شیئر کیا ہے۔
خنزیر
سارا غزل کا پس منظر۔ میلہ درویش 3 سارا غزل کا پس منظر۔ میلہ درویش 3 Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:09 PM Rating: 5

6 تبصرے:

جواد احمد خان کہا...

زبردست جناب۔۔۔

نعیم اکرم ملک کہا...

آپ نے معاملہ سائبر کرائم والوں کو دے کر اچھا کیا۔ بلا شبہ یہ تمام شیطانیاں کسی وجہ سے کی جا رہی ہیں، اور ایسا کرنے سے یا تو شیطان کی انا کو تسکین حاصل ہو رہی ہے یا پھر کسی خاص وجہ کے تحت اردو بلاگر کمیونٹی کو بے راہ روی اور انارکی پر اکسایا جا رہا ہے۔
ماشاءاللہ اردو بلاگر کمیونٹی بہت اچھے کام کر رہی ہے، شیاطین آتے جاتے رہتے ہیں۔ آپ سے بھی گزارش ہے کہ غصہ تھوک جائیں یا پی جائیں اور کوئی جپانی فوٹو شیئر کریں۔ ایک تازہ پوسٹ سوشی پر ہی لکھ لیں، اسی بہانے تسیں وی چنگی شے کھا لینا۔

صحرا برگ کہا...

سید زادیاں اگر وہ واقعی سید زادیاں ہوں یعنی تقسیم کے بعد مہاجرین کے قافلوں سے وجود میں آنے والے سید نا ہوں تو ایسی حرکتیں کبھی نہیں کرتی کہ انکو تربیت گھٹی میں دی جاتی ہے
اور مسلمان بالخصوص خانوادہء نبوت سے تعلق رکھنے والوں کو یہودیوں اور قادیانوں کے علاوہ کوئی گالی نہیں دے سکتا کہ گالی پلٹ کر باپ دادا تک جاتی ہے اور سید زادے کس کی اولاد ہیں سب کو معلوم ہے اس لئے کسی سید کو گالی دینا بھی توہین رسول ہے اور یہ جاہل درویش یا مویش اور اسکی چمچی میری نظر میں شاتم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں

افتخار راجہ کہا...

یہ سارا غزل کی ائیڈی سو فیصد جعلی ہے، اس پر صرف تنقید اور گالیاں،مغلظات اور بکواس کرتی ہے اور ہمارے کم عقل ع کم علم لوگ اس کی باتوں پر واہ واہ کرنے لگ جاتے ہیں، اسکا ساتھ دیتے ہیں
ہر گاؤں محلے میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جہا مرد عورتوں کو آگے کردیتے ہیں انکو ممیسیئے کہا جاتا ہے، یہ صرف زنانہ پن کے استعمال سے ناجائز کام کرواتا ہے اور اس پر انگلی اٹھانے والے کو عورت ذات پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ کردار کی انتہائی پستی کی دلیل ہے، کہ مرد اپنے نام سے سامنے اکر بات نہیں کرسکتا

انکل ٹام کہا...

بہت سے لوگ نہیں جانتے لیکن سچ یہ ہی ہے کہ سارا غزل فاروق درویش کی ہی جعلی آئی ڈی ہے جو اس نے اپنے ارد گرد ٹهرکی جمع کرنے کے لئے بنائی ہوئی ہے- اور اس پر سب سے بڑی بیوقوفی درویش نے یہ کی کہ لکهنے انداز نہیں بدلا اسکے جملے بنانے کا طریقہ ایک جیسا ہے گالیاں ایک جیسی ہیں لفظوں کا چناو ایک جیسا ہے غرض ایسے لگتا ہے یہ درویش کا زنانہ ورزن ہے حیرت ہے اس عمر میں لوگ سیریس ہوتے ہیں اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں لیکن درویش صاحب کو لڑکی کی آئی ڈی بنا کر ٹهرکی جمع کرنے کی سوجهی

اس آئی ڈی کے پیچهے ہے مونچهوں والی بڈهی
بڈهے کو ٹهرک پنے میں بہت دور کی سوجهی

محمد امین کہا...

سائبر کرائم کی رپورٹ کے نتیجے سے بھی آگاہ رکھیے گا۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.