فاروق درویش کا پس منظر۔ میلہ درویش 2

بقول فاروق درویش۔ پورا نام فاروق رشید بٹ جبکہ انٹرنیٹ پر فاروق درویش کے نام سے موجود ہے۔ لاہور کا رہائشی ہے۔ خود کو بڑا لکھاری اور شاعر سمجھنے والا یہ بندہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جیل بھی جا چکا ہے۔ اس کا ذکر خود اس نے آن لائن کئی جگہوں پر کیا ہے۔ اپنی بدزبانی کی وجہ سے کئی نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے۔
بندر کے ہاتھ میں استرے کی طرح اب فاروق درویش کے ہاتھ میں انٹرنیٹ آ چکا ہے اور شریف النفس لوگوں پر کیچڑ اچھالتا رہتا ہے۔
ماہر نفسیات نے اس کی تحریروں، باتوں اور کرتوتوں کا جائزہ لینے کے بعد بتایا
یہ شخص بیماری کی حد تک خود پسند ہے اور اسے ایسی ذہنی بیماری ہے جس میں اسے اپنے سے معمولی اختلاف کرنے والا بندہ بھی اپنا دشمن لگتا ہے ۔
اور بیماری کی وجہ سے ہی یہ جو سوچتا ہے اسے وہی حقیقت لگنے لگتا ہے۔ کئی کا کہنا تو یہ تھا کہ فاروق درویش کی بیماری شیزیوفرینیا جیسی ذہنی بیماری سے بھی آگے نکل چکی ہے۔
(اسکی حرکات دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ کوئی ذہنی مریض شخص ہی ایسی حرکات کر سکتا ہے۔
جیسے میری تصویر میں خنزیر شامل کرکے اس نے اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کیا۔)
2010 کے آغاز پر یہ بندہ انٹرنیٹ پر وارد ہوا۔ فیس بک پر دھکے کھاتا رہا۔ اس کے کرتوت اور پاگل پن کی وجہ سے اسے کوئی منہ نہ لگاتا تھا۔ جس گروپ میں پہنچتا ادھر گند کرتا تو لوگ اسے گروپ سے باہر پھینک دیتے۔
پھر اس نے اپنا گروپ بنایا۔ مگر خاطر خواہ نتائج نہ ملے
ڈیڑھ سال فیس بک پر دھکے کھانے کے بعد اسے اردو فورمز کا پتہ چلا۔ پھر فاروق درویش نامی یہ بندہ اردو محفل فورم پر پہنچا۔ وہاں اس نے اپنی شاعری پوسٹ کرنی شروع کی۔ کئی ماہر نقاد نے اپنی رائے دی۔ ابتدا میں اردو محفل پر بڑا تابع دار بنا رہا۔
ہر کسی کو محترم اور استاد جیسے رتبے دے کر پکارتا۔ پھر چھوٹے چھوٹے اختلافات پر اس نے ادھر بھی گند کرنا شروع کر دیا تو لوگوں نے اسے سمجھایا۔ جن میں ایک نام محمد وارث تھا۔ جب فاروق درویش باز نہ آیا تو اردو محفل سے نکال دیا گیا۔
اردو محفل سے باہر پھینکے جانے پر اس ذہنی مریض فاروق درویش نے غصہ کرتے ہوئے قادیانی اور یہودیوں کا ایجنٹ جیسے الزامات لگاتے ہوئے محمد وارث کو بدنام کرنے کی کوئی کثر نہ چھوڑی۔ حالانکہ فاروق درویش کو بلاک کسی اور منتظم نے کیا تھا۔
اردو محفل سے دھتکارے جانے کے بعد فاروق درویش کئی اردو فورمز پر دھکے کھاتا رہا اور پھر اس نے اردو بلاگنگ کا رخ کیا۔ اردو بلاگرز کو اس کی ذہنی حالت کا کچھ خاص اندازہ نہیں تھا۔ اس لئے جیسے وہ ہر نئے آنے والے بندے کی بلاگ بنانے میں مدد کرتے ہیں ۔
ایسے ہی اس کی بھی مدد کی۔ یہ اپنے بلاگ سمیت اردو بلاگرز کے گروپ میں گندگی پھیلاتا رہا تو بلاگرز کو اس کی ذہنی بیماری کا علم ہو گیا۔
اسی دوران بلاگرز نے اپنی ایک کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں شروع کیں۔ فاروق درویش نے بڑا جوش دیکھایا اور کانفرنس میں شرکت کی رجسٹریشن سب سے پہلے کرائی۔ یہ بار بار کہتا رہا کہ مجھے کانفرنس کا کوئی کام بتاؤ۔
حقیقت میں یہ کانفرنس کے کرتا دھرتا میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ چونکہ سب اس کی ذہنی حالت جانتے تھے۔ اس لئے کوئی اسے منہ نہ لگاتا۔ جب اسے بڑا بننے کے سارے دروازے بند ہوتے نظر آئے تو شروع میں اس نے کانفرنس پر شک کا اظہار کیا۔
کئی بلاگرز نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے انہیں ہی گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر اسی کانفرنس جس میں شرکت کے لئے سب سے پہلے فاروق درویش نے رجسٹریشن کرائی تھی، اسی کانفرنس کو یہودیوں کا ایجنڈا اور ناجانے کیا کیا کہتا رہا۔
یہ سب آج بھی آن دی ریکارڈ موجود ہے۔
اردو بلاگرز کے گروپ میں گند پھیلانے کی وجہ سے بلاگرز نے اسے اپنے گروپ سے باہر نکال پھینکا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی
وہی فاروق درویش جسے کوئی منہ نہیں لگاتا تھا۔ بلاگرز اور ان کی کانفرنس کی مخالفت کرنے کی وجہ سے یہ بندہ مشہور ہونا شروع ہو گیا۔ دراصل انٹرنیٹ پر اپنے اردو بلاگرز کی کافی جان پہچان ہے۔
کانفرنس کافی مشہور ہوئی اور پاکستان کے چھوٹے بڑے کئی اخبارات میں اس کی خبریں شائع ہوئیں۔
ظاہر ہے مشہور بلاگرز اور ان کی کانفرنس کے بارے سازشی نظریوں کو بھی پذیرائی ملنی تھی۔
اس کے بعد فاروق درویش نے مشہور شخصیات اور بلاگرز کو بد نام کرنے کا بھونڈا طریقہ اختیار کیا اور اپنے گرد کئی جاہلوں کو اکٹھا کر لیا۔
ہماری بات پر یقین نہ آئے تو خود اس کا بلاگ اور فیس بک پیج دیکھ لیں۔
گالیوں کی پٹاری کھولے بیٹھا فاروق درویش مداری کرتا ہی نظر آئے گا۔ دعوے مسلمانی، ختم نبوت اور درویشی کے کرے گا مگر اس کی تحریروں میں فحش تصویروں، بدزبانی اور گالیوں کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ یہ فاروق نام نہاد درویش ہمیشہ کسی نہ کسی بڑی شخصیت کو گالیاں دیتا ہی پایا جائے گا۔
یہ قادیانیوں کو بھی گالیاں دیتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی بھونڈی حرکتوں سے الٹا قادیانیوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور سادہ لوح مسلمانوں گمراہ ہو رہے ہیں
جو بھی مسلمان اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسے بھی قادیانی ایجنٹ اور گالیاں بکنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تحریک ختم نبوت کے لئے کام کرنے والوں نے اسے سمجھایا تو اس نے تحریک ختم نبوت کے مجاہدوں کو بھی گالیاں دیں۔ فاروق درویش کی اس حرکت پر ختم نبوت اکیڈمی نے باقاعدہ اس کی تردید کی۔

انٹرنیٹ کے ہر فورم سے دھتکارہ فاروق درویش آج کل اپنے پیج اور بلاگ پر گند مچاتا ہے۔ ہر بات کے آخر پر اس کا یہی رونا ہوتا ہے کہ مجھے اردو کے فورمز میں داخل کیا جائے مگر اس مریض کو کوئی شامل نہیں کرتا۔
جیسے جیسے رپورٹ آگے بڑھتی جائے گی۔ ہم جو باتیں ابھی کر رہے ہیں ہر ایک کا ثبوت اسکرین شاٹ اور لنک فراہم کیا جائے گا۔ اگلی قسط میں سارا غزل کی آئی ڈی کو ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کریں گے۔
مویشیاں
فاروق درویش کا پس منظر۔ میلہ درویش 2 فاروق درویش کا پس منظر۔ میلہ درویش 2 Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:18 AM Rating: 5

7 تبصرے:

فخرنوید کہا...

اتنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی شک تھا کیا؟

جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ جناب۔۔۔۔
کافی محنت طلب کام تھا اس ہسٹری شیٹر کی ہسٹری نکالنا، لیکن آپ نے کر دکھایا۔ یہ مضمون فاروق مویش کے کھروں میں آخری کیل ثابت ہوگا انشا اللہ۔۔۔

وجاہت حسین کہا...

موصوف کا اللہ ہدایت دے کہ ختم نبوت کی تحریک کو کسی صورت نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ اور آپ حضرت کو صبر و برداشت کا متحمل بنائے۔ آمین!

فصیح الدین کہا...

ایسے لوگوں سے اللہ بچائے۔ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

سیمان حسن کہا...

میرا خیال ہے کہ درویش صاحب کا اندز بیان ہی ایسا ہے۔ مغلضات زیادہ اور کام کی بات کم ہوتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی تبصرہ کرتے دو چار فیک آئی ڈیز بھی پہچان میں آجاتے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی انکا مشن اچھا ہے۔ آپ حضرات کو بھی صلہء رحمی سے کام لینا چاہیئے۔

محمد سلیم کہا...

ان کے ایک مطالبہ ( مجهے جہاں جہاں بلاک کیا گیا ہے وہاں وہاں ان بلاک کیا جائے) کے تناظر میں اس تحریر کو دیکها جائے تو آپ کی باتیں کافی حد تک سچی لگتی ہیں کہ اسے بہت ساری جگہوں پر بلاک کیا گیا ہوگا.

آپ سے ایک گزارش ہے اپنی صلاحتیوں کو حسب معمول لوگوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے میں صرف کریں.

اس طرح تو لگتا ہے کہ یہ صاحب آپ کو اور آپ کی قیمتی صلاحتیوں کو دیوار کے ساتھ لگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں.

افتخار راجہ کہا...

یہ صاحب اس چکر میں ہین کہ اردو بلاگرز کی اس چھوٹی سی کمونٹی کو اپنے قابو میں کرکے اپنے انڈر رکھا جائے
پہلے تو انہون نے دھونس دھاندلی کی، گالیاں اور مغلظات بکیں، جیسے کہ پہلے اکا دکا کے خلاف کرتے رہے ہیں تو اس کو اس ردعمل کی توقع نہ تھی۔ اب جو جوابی چھترول ہوئی تو اس بندے نے اب کوشش شروع کردی ہے کہ ایک دو کو اچھا قرار دے کے باقیوں کو برا منوالو،
مگر اس کے پیچھے کچھ اور ہی معاملہ ہے،

جو کچھ وقت کےبعد ہی سامنے آوے گا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.