ممتاز مائی کا پاکستان

ہم "پاکستانی " دنیا کی ساری "اقوام" سے اس لئے   ممتاز ہیں۔
یہ "اقوام" ساری دنیا کی ہیں اور ساری "دنیا" میں پھیلی ہوئی ہیں۔
ہم "پاکستانی" اس لئے ممتاز ہیں کہ "پاکستانی اقوام " صرف ایک ہی "پاکستان" میں بستے ہیں اور ہر کسی کا اپنا اپنا پاکستا ن ہے۔
پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، اور دین صرف پاکستانیوں میں رہ گیا ہے۔
جھوٹ ،ریاکاری ،منافقت سے مسلمانان پاکستان کے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان کا اسلام اور مسلمان اس لئے ممتاز ہیں کہ ان کا  اسلام خطرے میں رہتا ہے اور اسلام کے قلعے کے  خلاف ہر سیکنڈ میں تین سو پینسٹھ سازشیں اور حملے ہوتے ہیں۔
پاکستان اس لئے ممتاز اور عظیم تر ہے کہ یہ تاقیامت قائم رہنے کیلئے بنا ہے اکہتر میں تو پاکستانیوں نے کالے کلوٹے بدشکل بونے موسلی کھانے والے "بنگالی مسلمانوں" کو "بدبودار" ہونے کی وجہ سے اٹھا کر اپنے سے دور پھینک دیا تھا۔

وہ بنگال کے "بنگالی" تھے "پاکستان کے "پاکستانی مسلمان" تو تھے نہیں!!
پاکستان اس لئے ممتاز ہے کہ اس کے حکمران سیاستدان جاگیردار، مالدار تاجران اعلی فوجی افسران تمام کے تمام "باہر " کے پڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔

اور ان  کی اولادیں بھی "باہر" ہی تعلیم و تربیت حاصل کرتی ہیں۔
یہ سب پاکستان پر حکمرانی کرتے ہیں اور ان  تمام کے "منافع بخش کاروبار" پاکستان میں ہی ہیں۔
یہ علاج معالجے سے لیکر ویک اینڈ ، انجوائے منٹ، ویکیشن کیلئے بھی "باہر" جاتے ہیں۔کیونکہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہونے کی وجہ سے "خالص" بھی نہیں ملتی ۔یہ تمام عظیم اور ممتاز تر حضرا ت "کپی" تو نہیں پی سکتے ۔
اور عوام تو پاکستان میں "بسنے والی "اقوام" ہیں۔ ان کا اپنا اپنا "اسلام" اور اپنا اپنا "دیوتا" ہے۔
یہ "اقوام پاکستان" بغیر دیوتا کے اللہ میاں سے کچھ "مانگ " ہی نہیں سکتے ۔

بے شک خالی خولی دعا ہی کیوں نہ ہو۔سیاسی معاملات میں اسپیشل دیوتا کی ضرورت ہوتی ہے ،اور ان کی بھوک ، تنگ ، ننگ برقرار رکھنے والا دیوتا ہی قابل پرستش ہوتا ہے۔
ان کی دعا ئیں اللہ کی بارگاہ میں پہونچانے والے کثیر تعداد میں مولوی حضرات اور پیر ومرشد حضرات پاکستان میں بستے ہیں۔
مساجد میں بعد از فرض نماز دو دو گھنٹے مولوی صاحب اجتماعی دعا کرواتے ہیں، اور ایسا رقت انگیز منظر ہوتا ہے کہ فرشتوں کے آنسووں کے پرنالوں سے سمندر بھی ٹھاٹھیں مارنا شروع ہو جاتا ہے۔
پیر و مرشد کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں ان کے ہاتھ پاؤں چومتے ہیں انہیں نذرانے دیتے ہیں۔
پھر بھی ناجانے کیوں ان کی "ہر خواہش پر دم "نکلے والی دعائیں  "جابر اللہ میاں" نہیں سنتا!!!!!!
پاکستان ایسا اسلام کا قلعہ ہے کہ اس کی ہر گلی گلی نکڑ نکڑ ڈگر ڈگر پر ساری دنیا کا "اسلام "لاکر سجا دیا گیا ہے۔
ایمانی آتش فشاں  سے اسلام کے قلعے سے ایمانی شعلے اٹھ رہے ہیں۔
اور ساری دنیا ان سے گرمائش حاصل کر رہی ہے۔
پاکستانی فراخ دل بھی ہیں۔۔۔۔جس کا دل کرے ان کے ایمانی آتش فشاں سے "حرارت" حاصل کرنے ان کی "خلوتوں" تک میں گھس جائے تو بھی یہ برا نہیں منانتے۔۔
ہر دو میں سے ایک بندے کا اپنا اپنا پاکستا ن اور اپنا اپنا اللہ اور اپنا اپنا اسلام ہے۔ بس پاکستانی مسلمان کو دنیا میں ایک ہی شے ممتاز کرتی ہے کہ یہ صرف اپنا "رانجھہ" راضی کرنے پر لگا ہوا ہے۔
او موجاں ای موجاں۔
ممتاز مائی کا پاکستان ممتاز مائی کا پاکستان Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:04 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.