ہمارا رویہ

آجکل تو حد سے زیادہ مولوی کو سوشل نیٹ ورک پر برا بھلا کہا جا رہا ہے۔ اور ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اس میں شریف طبع مسلمانوں کیلئے درد دل رکھنے والے علماء کرام کو بھی رگید دیا جاتا ہے۔
کافی قابلِ عزت مسلک سے بالاتر علماء کرام کو جانتا ہوں ان سے بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے، ان کی "حرمت" کا پاس ہوتا ہے تو کچھ ایسی تحاریر جن میں "مولوی" پر حملے کئے جاتے ہیں .
دیکھ کر افسوس کے ساتھ دکھ بھی ہوتا ہے۔اس کی نفی بھی نہیں کروں گا کہ بعض اوقات مجھ سے بھی مولوی کی توہین یا مولوی پر زبان درازی کی گستاخی ہو جاتی ہے۔ کیا آپ ایسا نہیں کرتے ؟
سینے پر ہاتھ رکھئے جس طرف دل اندر رکھا گیا ہے اور اپنے آپ سے پوچھئے کہ کیا آپ مولوی پر "اکثر" اوقات حملہ آور نہیں ہو جاتے؟
میں نے مسجد میں مولوی کو اپنے مفاد کیلئے "حد" سے گذرتے دیکھا ہے اور اپنے "مفاد " کیلئے مسجد کی حرمت کو پامال کرتے اور "دین" کا غلط استعمال کرتے دیکھا ہے۔
لیکن معصوم عوام کو عقیدت میں "دماغ بند" سوچوں کو "پابندِ احترام" پایا۔ایسے مولوی وقتی طور پر"اپنا" مفاد دیکھتے ہیں۔ اس کے دورس نقصانات نہیں دیکھنا چاھتے۔
لوگوں کے دماغوں سے کھیلنا "شیطانی فطرت" کے طور پر جانتے ہیں۔
اور مذہب کا بے دریغ غلط استعمال کرتے ہیں۔
کیا آپ نے مولانا الیاس قادری کی توہین نہیں کی؟
کیا آپ نے مولانا طاہر القادری کی توہین نہیں کی؟
کیا آپ نے شریف النفس مولانا طارق جمیل کی توہین نہیں کی؟
کیا آپ نے توحید کے داعی  اور گونجدار خطیب مولانا توصیف الرحمن کی توہین نہیں کی؟
کیا مولانا فضل الرحمن میری زبان درازی سے بچے ہوئے ہیں؟
کیا دیگر مولانا حضرات المعروف مولوی حضرات آپ کی زبان کی دسترس سے بچے ہوئے ہیں؟
مان لینا چاھئے کہ فروعی و دیگر دینی مسائل "زد عام" ہوجانے سے ہر "ایرا غیرا نتھو خیرا" مذہب کو اپنی "معاشرت " سنوارنے کے بجائے "چسکے " اور اپنی "ڈیپریشن" دور کرنے کیلئے "زبان دراز " ہوا جاتا ہے۔
جس سے ہماری "معاشرت" بہتر ہونے کے بجائے "اذہان و قلوب" میں مذہب کے نام پر بغض و عناد بڑھتا ہی جارہا ہے۔
ہم مذہب کے نام پر ایک دوسرے سے نفرت و کراہت کرتے ہیں۔اور مذہب کے نام پر ہی "شرفاء" کی عزت جان مال ہم ہی سے محفوظ نہیں!!
ہمارے چند افراد کا اجتماع "مذہب و سیاست" کا اکھاڑہ بن جاتا ہے، ہم ہنسی مذاق میں بھی مذہب کو کھینچ لاتے ہیں ہماری مسکراہٹوں ہمارے قہقہوں کا گلا محفل میں موجود کوئی ایک شخص ہی دینی بات کرکےگھونٹ دیتا ہے۔ سیاست کا موضوع ہو تو میرا لیڈر تیرا لیڈر ۔
دوسرے کی سیاسی لیڈر کی عزت کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں اور اپنے سیاسی لیڈر کو "باپ کا درجہ" دے دیا جاتا ہے۔ اور ساتھ میں وسوق سے کہا جاتا ہے کہ لیڈر تو "باپ" کیطرح ہوتا ہے۔
کیا یہ شخصیت پرستی کی انتہا نہیں؟
دوسرے کے باپ پر دشنام طرازی کی جائے اور امید کی جائے کہ ہمارے باپ کو "بھگوان" کیطرح کی عزت دی جائے!! کیا ایسا ممکن ہے؟
ایک جملہ آجکل نظروں سے گذرتا ہے کہ ۔۔
جو مولوی کو گالی دیتا ہے وہ اسلام کو گالی دیتا ہے!!
تو میں پوچھنے کا حق رکھتا ہوں جناب۔۔ میرا "مولوی حضرت اعلی " اور تیرے "مولوی کی ایسی کی تیسی " ہم خود ہی نہیں کر رہے ہوتے؟
مجھے تو یہی لگتا ہے کہ جسطرح قوم و ملک کے ہمدرد اور مخلص سیاسی لیڈر قلیل ہیں ۔ اسی طرح علماء حق بھی "اقلیت" میں ہیں اور "مولوی" اکثریت میں ہیں۔اور "عوام و خواص" مذہب ، معاشرت زندگی کے ہر شعبے میں "کنفیوژن" کا شکار ہیں۔۔ مسٹر و ملا "جذبات" کی "شدت" سے مغلوب ہیں اور کف اڑاتے ہوئے ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں۔
نا تو محفوظ نا میں محفوظ۔
"عدم تحفظ" نے مت ماری ہوئی ہے۔
مسلمانانِ وزیرستان کو "دینی ہجرت" مبارک ۔
ہمارا رویہ ہمارا رویہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:38 AM Rating: 5

7 تبصرے:

افتخار راجہ کہا...

بھائی جان میں نے آپ کے فہرست کردہ المولبیان الباکستان سے مولوی کینڈوی اور ڈیزل کی مخالفت کی ہے اس کی وجہ وہ خود اور انکے اپنے قول و فعل میں تضاد ہے، باقی علماء سے یا انکے کسی طریقہ سے اختلاف کے باوجود بھی کبھی انکی مخالف نہیں کی کبھی گالی نہین دی معاذاللہ۔ وجہ انکی نیک نیتی پر یقین ہونا ہے،

مولوی کو گالی پڑنے کی وجہ مولوی خود ہے، مسلمان تپا ہوا ہے دین کی تباہی اور فساد فی سبیل اللہ سے، اسکی وجہ وہی ہے جو دین کے نام پر مرعات لیتا ہے جیسے حکومتی ناکامی پر سیاہ ست دانوں کو گالی پڑتی ہے اور دفائی ناکامی پر فوج و پولیس کو۔ اب المولبیان اور پاکستان ولاسلام کو دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو کیسے درست کرتے ہیں، ویسے اس بات کے چانس کوئی نہین ہیں، اب انکی اپنی تربیت بھی یہی ہے ۔ مگر حالات تبدیل ہوچکے ہیں اب علم عام آدمی کی دسترس میں آرہا ہے پوری دنیا میں تو مسلمانوں کو بھی مل جائے گا، اور جس دن مسلمان علم حاصل کرنے والا فرض پوری طرح نبھا گیا اس کے بعد نہ مولویاں کی گنجائش ہے اور نہ انکی ڈگ ڈگی چلنی، انہوں نے عیسائی پادریوں کی طرح مسجد کے گرد خود ہی لمبے چوغے پہن کر گھومنا، بلکہ عیسائی پادری تو گھومنے دیا جاتا ہے، انکو مسجد میں سے نکال دیا جائے گا، تب آپ کی جماعت کی امامت سب سے پڑھا لکھا بندہ کروا رہا ہوگا۔ تب کوئی مولوی کسی ماس کے زندہ بت کی طرح بلاوجہ و بلاسوچ قابل احترم نہ ہوگا، تب کوئی انسان کسی دوسرے کے ہاتھ نہین چومے گا، اور نہ مولوی پادری کو سجدہ کرے گا

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی، نفرت کی حد تک مذاق اُڑانا آج کل لبرلز کا وطیرہ بن چکا ہے۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے نکاح ، قرآن خوانی اور جنازے تک کے لیے انہی مولیوں کے طالب ہوتے ہیں، اور ان مولیوں کے بغیر ان کے نا تو نکاح مکمل اور نا جنازے۔۔۔ چلیں یہ تو دور کی بات ہوگئی۔۔۔ کیا یہی لوگ اگر نماز کے لیے جائیں تو صحیح طریقے سے آزان یا اقامت بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔۔ نماز پڑھانا تو بہت دور کی بات۔۔۔
اچھی بری بات ہر شخص اور طبقے میں ہوتی ہے لیکن کچھ کم ظرف لوگوں کی وجہ سے ہر مولوی کو ذلیل کرنا کسی بھی حد تک درست نہیں۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سچ کہا راجہ جی۔۔۔۔۔۔۔کڑوا سچ ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمران بھائی
یہ بھی سچ ہے جی
دو انتہایں ہیں ۔۔۔سوچوں پر پہرے بٹھا رکھے ہیں۔

علی کہا...

اللہ معاف کرے ہمیں

محمد عبداللہ کہا...

ویسے اگر مولوی سے مراد محلے کی مسجد کے امام اور خطیب کی لی جائے جوممبر پہ چڑھ کر دوسروں کو کافر اور خود کو حق کا علمبردار کہہ رہے ہوں تو وہ لوگ میرے نزدیک قابل نفرت سے زیادہ قابل رحم ہوتے ہیں۔ ایک مخصوص مسلک کے مدرسے میں آٹھ یا چھ سال گٹے رگڑ کر وہاں سے اپنے مسلک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر کسی مسجد میں مولوی لگ جاتے ہیں۔ ایک مخصوص ماحول میں پرورش پا کر ان لوگوں کی ذہنی استعداد اس قدر نہیں ہوتی کہ وہ اس سے آگے نکل کے کچھ سوچ سکیں۔ اسلئے یہ لوگ کولہو کے بیل کی طرح اپنے ہی دائرے میں گھومتے رہتے ہیں اور نفرتیں بڑھانے کا کام ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔
مولوی کی شدت پسندی کی ایک بڑی وجہ ہمارے معاشرے کا رویہ بھی ہے لوگوں کی نظروں اور باتوں میں مولوی کیلئے عام حقارت پائی جاتی ہے جس پرمولوی کچھ نہیں کر سکتا اور پھر اپنا غصہ ممبر پر نکال دیتا ہے اور اپنے جذبات کی تسکین اپنے جاہل پیروکاروں کو اپنے پیچھے لگا کے کرتا ہے۔

علی احمد جان کہا...

جناب بہت خوب۔۔۔۔ مکمل اتفاق کرتا ہوں آپ سے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.