قدرت کے اصول و ضوابط

آسمان کی روشنیاں چاند سورج تارے ہوں یا موسموں کا تسلسل ہو۔کائنات کا کوئی بھی نظام ہو،اپنے اندر ضابطوں ، اُصولوں کا تذبذب اور توازن کا اضطراب رکھتے ہیں۔چاند کا ساتھ دینے کیلئے ستارے لازم ہوتے ہیں۔اور چاند ستاروں کیلئے "رات" کا ہونا لازمی ہے۔ورنہ چاند ستاروں سے چمکتا آسمان ہمیں رات کا لطف وفرحت بخش آرام نہیں دیتا۔بادلوں میں چھپا سورج ہمیں دن کی شدید گرمی میں تکلیف نہیں دیتا اور سخت سردی میں یہی سورج نیلے آسمان پر نکل کر ہمیں فرحت بخش گرمائش دیتا ہے۔
میری رہائش ساحل سمندر کے پاس ہے،عموماً سمندر کے پاس جاکر بیٹھ جاتا ہوں، وسیع و عریض سمندر میں سیاہی مائل پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے،موجیں ،لہریں منہ زور ہونے کے باوجود ایک اصول ، ضابطے کے تحت انسانوں کے رہائشی علاقے کیطرف نہیں آتیں ریتلے ساحل سے ٹکرا کر واپس چلی جاتی ہیں۔
ساحل سے چند سو میٹر کے فاصلے پر بنے انسانوں کے آشیانوں کو نہیں اجاڑتیں،بہت کم واقعات ہوتے ہیں کہ "توازن" کے بگڑنے پر اصولوں ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بپھری موجیں انسانی آبادی کو تہ و بالا کر دیتی ہیں۔ اپنے اصولوں ،ظابطوں ، معاملات میں سخت گیر نہ ہوں تو جب "موج" آئے انسانی آبادی پر چڑھ دوڑنا ان "موجوں" کیلئے کوئی مشکل فعل یا عمل نہیں لگتا۔
اسی طاقتور رعب دار وسیع سمندر کے سینے سے انسان اپنے جینے کیلئے "رزق" حاصل کرتے ہیں، اورفیاض  وسیع القلب سمندر انہیں روک ٹوک نہیں کرتا۔
اسی سمندر کا اصول ہے ،کہ کسی بھی ٹھوس ،جامد شے کو سختی سے اپنے باطن میں اتار لیتا ہے۔اندرسے "کھوکھلی" ،"ہلکی"،بے وزن اپنی شکل کا کوئی "اصول و ضابطہ" نہ رکھنے والی شے کو اپنے باطن میں جگہ نہیں دیتا اور اٹھا کر حقارت سے ساحل پر لا پھینکتا ہے۔
ساحل کنارے پڑی "اصول وضابطہ " نہ رکھنے والی حقیر اشیاء سمندر کی منت سماجت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ اے فراخدل تو،تو بہت وسیع قلب رکھتا ہے ہمیں بھی اپنے باطن میں جگہ دے۔
اور یہ فراخدل اور بے رحم سمندر جس میں بسنے والی  چھوٹی مخلوق ہر بڑی "مخلوق" کی خوراک بنتی ہے۔اپنے سینے پر "اصول و ضوابط" رکھنے والے "پیندے" کے مضبوط ،بادبان باندھے جہازوں کشتیوں کو رواں دواں رہنے دیتا ہے۔اپنی موجوں کو ان سے ٹکرا کر واپس جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اسی سمندر کے اوپر آبی پرندے چیختے چلاتے پھڑ پھڑاتے اس کی فیاضی سے اپنے شکم بھرتے ہیں۔ان پرندوں کا چیخنا چلانا مجھے اس سمندر کے خالق کا "شکر" ادا کرتے دکھائی دیتا ہے۔ شاید یہ پرندے سمندر کے ایک ایک نوالے پر سمندر کے خالق ومالک کا شکر ادا کر رہے ہوتے ہیں۔
"قدرت" نے اپنی "تخلیقات"کیلئے  قاعدے،اصول ضابطے  مقرر نہ کر رکھے  ہوں تو "معاملات"بگڑ کر "انسانی زندگی کیلئے کٹھن حالات پیدا ہو جائیں۔تو ہر جاندارمخلوق ،خالق کا شکر ادا کرنے کے بجائے شکوے شکایات "کرنا شروع ہو جائے۔
یہ صرف اشرف المخلوق انسان ہی ہے کہ اپنے "معاملات" کو اصول و ضوابط کا پابند نہیں رکھتا  "معاملات" بگڑنے پر الزام قدرت کو دیتا ہے اور نا شکری کرتاہے۔
دنیا میں بھر پور زندگی گذارنے والے،"سیلف میڈ" لوگ ہمیشہ اپنے اصولوں ، معاملات میں سخت گیر ہوتے ہیں،معاملات کے کھرے اصول وضوابط کے پابند لوگوں کو ہی ہمیشہ کامیاب، بھرپور زندگی گذارتے ہوئے اور "قدرت" کا شکر ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
جن کا کوئی اصول ضابطہ نہیں ہوتا، معاملات کے برے ہوتے ہیں ایسوں کو ہمیشہ سمندر کے کنارے پڑی حقیر اشیاء کی طرح منت سماجت کرتے یا موقع ملتے ہی "ڈبکی " لگاتے دیکھا لیکن قدرت کا شفاف اور کھرا نظام انہیں دوبارہ بے رحمی سے سمندر کنارے حقارت سے پھینک دیتا ہے۔"کامیابی" کیلئے رزق کی قلت یا فراوانی کوئی حثیت نہیں رکھتی۔زندگی کا بھرپور ہونا اور سکون قلب حاصل ہونے پر "قدرت" کا شکر گذار ہونا ہی "کامیابی" ہے۔۔
لیکن انسان تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جلدباز ہی ہے۔
قدرت کے اصول و ضوابط قدرت کے اصول و ضوابط Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:58 PM Rating: 5

3 تبصرے:

علی کہا...

آج کل رخ تصوف کی طرف مائل نظر آتا ہے :پ

sheikho کہا...

بہت اعلیٰ اور سچی تحریر

عمران اسلم کہا...

استاذی گل تے سمندروں ڈنغی کیتی او۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.