گمشدہ نسل

مغوی نسل یا چوری شدہ نسل کا لفظ انگریزی میں سٹولن جنریشن سے معروف ہے۔جو کہ آسٹریلیا میں مغوی نسلیں (انگریزی میں The Stolen Generations ) ان بچوں اور ان کی نسلوں کو کہا جاتا ہے جنہیں آسٹریلیا کی حکومت اور کلیسا کی سرپرستی میں ابارجینی (آسٹریلیا کی قدیم نسل) اور ٹورز سٹرائٹ جزائر کے قدیم باشندوں سے چھین کر ریاست کے تحفظ میں لے لیا گیا تھا۔
اسے ریاستی جبر اور نسل پرستی کی بنیادی مثال کہا جاتا ہے۔ یہ کام 1869 سے 1969 تک پارلیمان کے اندر نسلی بنیادوں پر قانون سازی کر کے کیا گیا۔ اس کا مقصد ان نسلوں کو ثقافتی بنیادوں پر مغربی نسلوں میں مدغم کرنا تھا تاکہ براعظم آسٹریلیا پر مغربی طاقتوں کے قبضہ کو دوامی حیثیت دی جائے۔ تیرہ فروری 2008 میں آسٹریلوی پارلیمان نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی تسلیم کیا اور وزیراعظم کےون رڈ نے وفاق کی طرف سے معافی مانگی تھی۔
انیس سو بیس میں لکھی گئی بولڈ وین سپنسر رپورٹ کے مطابق دی گان نامی ریلوے لائن کی بچھائی یا تعمیر کےوقت مغربی مزدوروں اور مقامی قدیم نسل ابارجینی کے درمیان پیدا ہونے والی مخلوط نسل کے بچوں کو قدیمیوں کے معاشرے میں قبول نہیں کیا جاتا تھا۔ اور یہ مخلوطی نسل کے بچے مختلف زیادتیوں کا شکار رہتے تھے۔یعنی بچے مقامی یا قدیمی معاشرے میں مدغم نہیں ہو سکتے تھے یا قبول نہیں کئے جاتے تھے ۔

جس کی وجہ سے ان بچوں کو حکومت اور کلیسیا نے اپنی سرپرستی میں لیکر تحفظ فراہم کیا تھا۔ ایسے معاملات میں ہر دو اطراف کے اپنے اپنے محسوسات اور تحفظات ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی  اس "مغوی نسل" کے بارے میں دو طرح کے خیالات پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف والوں کیلئے ریاستی جبر ،نسل کشی ،نسل پرستی کہا جاتاہے اور دوسری طرف سے معاشرے کے کمزور اور ستائے ہوئے لوگوں کو تحفظ فراہم کئے جانے کے دلائل دیئے جاتے ہیں۔
اسی طرح ہم جیسا مزدور طبقہ جاپان آیا اور یہاں پر شادیاں رچائیں، اس وقت جاپان میں مقیم ہماری اکثریت جاپانی خواتین سے شادی شدہ پاکستانی "مسلمانوں" کی ہے۔
ہمارے مزدور طبقے کی پہلی مخلوط نسل سن بلوغت کو پہونچ چکی ہے، اور کئی بچے شادی شدہ ہوچکے ہیں،میرے جیسے مزدور طبقے کی اکثریت جاپان میں کاروباری حثیت اختیار کر چکی ہے،اچھا یا برا اپنا کاروبار کرنے والے اکثریت میں ہیں۔
جاپان میں مستقل رہائش کیلئے کی گئی شادی سے اولاد بھی ہو چکی کئی حضرات کی اولاد بالغ ہے اور کئی ابھی کم سن ہیں اور اس مخلوط نسل میں دن بدن اضافہ بھی ہو رہا ہے۔
ہم پاکستانیوں کی اکثریت بچوں کی اسلامی تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔اسلامی سکول کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔(یہ علیحدہ بات ہے کہ بچوں کی نسبت والدین کو اسلامی تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے)
جاپان میں مڈل تک کی تعلیم حاصل کرنا ہر مرد وزن پر فرض ہے اور یہ "فرض" حکومت جاپان کے ذمے ہے۔حکومت جاپان ہر بچے کے والدین کو بچوں کیلئے ایک مخصوص رقم "اضافی" اخرجات کیلئے ادا کرتی ہے۔ جس سے ان بچوں کے کاپی پینسل اور لنچ کے اخراجات پورے ہو جاتے ہیں۔
مڈل تک لازمی تعلیم ہر کسی کو مفت اور بین القوامی ترقی یافتہ ممالک کے معیار کے مطابق دی جاتی ہے۔جو کہ ہمارے پاکستان میں ہر کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔
ہمارے لئے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کی پریشانی ہے کہ ان بچوں کو اسلام کے بارے میں کیسے تعلیم دیں اور ان کی دینی تربیت کیسے کی جائے۔
پاکستان میں بھی مسلمان والدین کی یہی پریشانی ہے، جس کا حل ان کے پاس یہی ہے کہ مساجد میں بچوں کو قرآن پڑھانے بھیج دیتے ہیں، جہاں بچے نماز کا طریقہ اور قرآن پڑھنا سیکھ لیتے ہیں۔جو والدین غیر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان کے بچے پاکستان میں بھی دین سے دور رہتے ہیں۔ جس کا حال ہم سب خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔
جاپان میں جو میں نے محسوس کیا ہے ، زیادہ تر پاکستانیوں کے بچے عجیب کشمکش کا شکار ہیں۔

تعلیم و تربیت جاپانی سکولوں اور معاشرے میں حاصل کرنے کی وجہ سے ذہنی طور پر "جاپانی" ہیں۔لیکن والدین اور خاص کر والد کی خواہش کے مطابق "مسلمان" رہنے پر مجبور ہیں۔ یہاں ان بچوں کو گائی جن(غیر ملکی) گائی جن نو کو(غیر ملکی کے بچے) یا ھاف (مخلوط نسل) کہا اور پکارا جاتا ہے۔
اور بچے بعض اوقات تعصب کا شکار ہوتے ہیں۔جاپانی بچوں کیطرف سے چھیڑ چھاڑ ،یا تنگ کیئے جانے کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ تقریباً تمام مخلوط بچے اس تعصب کا شکار ہوتے ہیں یا شکار ہو رہےہیں۔
تمام بچوں کے متعلق ایسا کہنے سے ڈر لگتا ہے کہ کئی والدین اتنی سے بات پر غصہ کر جائیں گئے۔لیکن اکثریت کی حالت کچھ ایسی ہی ہے۔
بچوں کی نفسیات پر اس کے نقصان دہ اثرات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔اصل مسئلہ ہمارے ملک کی معاشرتی سماجی اخلاقی تباہ حالی ہے۔ان بچوں کی پاکستان میں پرورش کرنا بھی انتہائی کٹھن کام ہے۔خاص کر جوان ہونے والی بچیوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔لڑکے والد کی طرف سے تقریباً ہر طرح سے "آزاد" ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔لیکن بچیوں پر حد سے زیادہ "پابندیاں" ہونے کی وجہ سے کافی مسائل نے جنم لیا ہوا ہے۔
جاپان کے معاشرے میں مدغم ہونے کیلئے اس نئی نسل کو "جاپانی معاشرت" ہی اختیار کرنا پڑے گی۔اور پاکستانی یا اسلامی "ماحول" نہ ملنے کی وجہ سے یہ بچے زیادہ تر "جاپانی ماحول" کی طرف ہی مائل ہیں۔
پاکستانی والد حضرات کو بچوں کے معاملے میں پریشان ہی پایا۔
اور یہ پریشانی معاشی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے معاشرے کی تباہ حالی امن و امان کا فقدان ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کو ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا شکار کئے ہوئے ہے۔
ہم پردیس میں بسنے والے پاکستان کے حکمرانوں سیاستدانوں اور "خاص" کر "مذہبی رہنماؤں" کو بھی بے بسی سے دیکھتے ہیں کہ ان کی حرکات کسی طرح بھی ملک و مذہب کیلئے "مفید" نہیں ہیں۔
کوئی ایک طبقہ بھی اگر احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور معاشرے کو پُر امن کرنے کیلئے خلوص سے کام کرے تو ہماری پہلی نسل جو کہ دربدر ہو چکی ہے۔
یہ کم ازکم اپنی اولادوں کو اپنی اصل یعنی "اسلام" پر قائم رکھنے کیلئے پاکستان میں بسانے کی کوشش یا ابتدائی تعلیم و تربیت کیلئے بھیج سکے۔
میں نے پاکستانیوں کے بچوں کی اکثریت کو "پاکستان بیزار" ہی پایا ہے۔وجہ پاکستان میں افراتفری اور کسی قسم کا "مہذبانہ" رویہ نہ ہونا اور خاص کر "اخلاقی تباہ حالی "ہے۔
چند پرانے پردیسی پاکستانیوں کے بچوں کے "معاملات" میں ملوث ہونے کے تجربے سے یہی دیکھنے میں آیا کہ یہ بچے نہ تو اس معاشرے میں مدغم ہو سکے ہیں اور نہ انہیں پاکستانی معاشرے سے کوئی دلچسپی ہے۔بلکہ اکثریت جاپان میں ہی اور "جاپانی انداز" میں ہی جاپان میں رہنا چاہتی ہے۔
مستقبل یہی نظر آرہا ہے کہ تاریخ میں ان پاکستانیوں کے بچوں کو "گمشدہ نسل" کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور اس کے ذمہ دار پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ مذہب کے نام پر معاشرے کوقتل و غارت سے تباہ کرنے والے "مذہب پرست" ہی دکھائی دیتے ہیں۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی پوری قوت و ہمت سے اپنے بچوں کی پرورش "اسلامی " طریقے سے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
گمشدہ نسل گمشدہ نسل Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:10 PM Rating: 5

2 تبصرے:

علی کہا...

علیحدہ بات ہے کہ بچوں کی نسبت والدین کو اسلامی تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے)
تمام باتوں کا خلاصہ یہی ہے

جواد احمد خان کہا...

ایک انسان کا بدترین مخمصہ اگر کچھ ہوسکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ اسکی کوئی قوم نا ہو۔ان معاشروں میں قبولیت تو شاید بہت عرصے بعد ہی ملے ۔ اگر انہیں جوڑ کر رکھنا ہے تو دین کے ذریعے جوڑیے ۔۔۔ پاکستان کے ذریعے وہ کبھی نہیں جڑ سکتے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.