سازشی دماغ

اب تو دور مختلف ہے۔اور کاروباری نوعیت بھی بدل گئی ہے۔جاپان کے معاشی حالات بھی اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ہم پاکستا نی بس گذارہ کر رہے ہیں۔
کوئی وقت تھا کہ ہم بھی ڈیلرز کے پاس گاڑیاں خریدنے جایا کرتے تھے۔کئی پاکستانی اب بھی اسی طرح کاروبار کر رہےہیں۔ اب ہمارا زیادہ تر کاروبار "اوکشن" یعنی گاڑیوں کی منڈی سے ہی منسلک ہے۔یہ گاڑیوں کی منڈی اسی طرح ہوتی ہے.
جس طرح پاکستان کی سبزی منڈی یا مچھلی منڈی ہوتی ہے ۔ ہر طرح کے مال کی کوالٹی اور خرید و فروخت کرنے والے تاجر اس منڈی میں پائے جاتے ہیں۔

پرانے وقتوں میں ڈیلرز سے گاڑیاں خرید کر کاروباری سوجھ بوجھ رکھنے والے پاکستانی تاجر "مال کی نکاسی" کا اچھا طریقہ سمجھنے والے دن کے لاکھوں کمایا کرتے تھے۔
اب بھی طریقہ کار یہی ہے۔ لیکن کچھ کاروباری مندی نے اصول و ضوابط کو نیا رنگ دے دیا ہے۔اور آمدنی بھی پہلے جیسی آسمان سے برستی  طوفانی بارش کیطرح نہیں رہی۔

جہاں پر آسمان سے طوفانی بارش کیطرح اور زمین سے چشموں کی طرح "خزانے" امنڈ رہے ہوں۔وہاں پر "کاروباریوں" کے سازشی دماغ بھی متحرک ہو جاتے ہیں۔ حسد ،رشک ، "میں رہ گیا" ، پیسہ کمانے کی دوڑ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ۔جیسی "خصوصیات" پیدا ہو ہی جاتی ہیں۔
ایک جیسا کاروبار اور ایک ہی جیسی جنس کی تجارت کرنے والوں میں اگر "مالی فرق" صاف نظر آنا شروع ہو جائے۔ "دکھاوے" کی "لیلہ" بھی بن ٹھن کر "نخرے" دکھانے کی ضد کرے اور مقصد ہی "دوسرے" کو "نیچا" دکھانا ہو توظاہر سی بات ہے "نیچا" سمجھا جانے والا موقع ملے یا نہ ملے "حسب توفیق" بدلہ لینے کا "کینہ" ضرور دل میں پال لیتا ہے۔
ہمارے معاشرے کی نفسا نفسی ،افراتفری ،اسی "دکھاوے" کی "لیلہ"کو تسکین پہونچانے کی وجہ سے ہی ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے وہ ہی "اونچے شملے ، پگڑی" والا ہوتا ہے۔ سادہ لوح ، باریش ، ٹخنے ننگے اپنے حال میں مست کو ہم لوگ آسانی سے یہ "مولوی" ہے کہہ کر اظہار حقارت کر دیتے ہیں۔نیت ہو نہ ہو۔ لاشعوری طور پر رویہ حقارت والا ہی ہوتا ہے۔
ایک بار ہی دیس یاترا کیلئے پاکستان "شلوار قمیض" پہن کر جانے کی غلطی کر چکا ہوں۔ ائیر پورٹ پر ہی امیگریشن والے نے پاسپورٹ ہاتھ میں لیتے ہی کہا تھا۔
۔"اوئے تو کِتھے جاپان" :P
اب سستی سی جاپانی لنڈے کی جینز اور سفید شرٹ پہن کر چلا جاتا ہوں۔ "بیستی" محفوظ رہتی ہے۔
ایک بار ایک ڈیلر کے پاس گیا تو وہاں پر ایک دوسرے پاکستانی تاجر بھی کھڑے تھے۔کچھ گاڑیاں کام کی تھیں تو ڈیلر ہماری طرف آیا تو پوچھنے سے پہلے بولا یار ،یہ گاڑیاں فلاں کو دے دیں ہیں اگلی بار تم لوگوں کو دے دوں گا۔ایسا عموماً ہوتا رہتا تھا اس لئے ہم نے کہا ٹھیک صاحب،،اور آپ کا شکریہ۔
لیکن ساتھ والے تاجر کو شاید ان گاڑیوں کی شدید ضرور تھی یا جس نے گاڑیاں خرید لیں تھیں  ان سے کسی  طرح کی حسد تھی۔وہ ڈیلر کو مخاطب ہو کر بولے آپ "اسے" گاڑیاں تو دیتے ہو۔
لیکن وہ بندہ تو چورہے۔ چوری کی گاڑیاں شپ پر چڑھاتا ہے!!۔
جاپانی ڈیلر کو اس سے کیا غرض کہ بندہ کیا کرتا ہے،اسے تو اس سے غرض ہوتی ہے کہ کون اس کے مال کی قیمت زیادہ ادا کرتا ہے۔
اگر بندہ معاشرے میں گھوم پھر رہاہے تو اس کا مطلب ہے بندے کو پولیس نے مجرم ثابت  نہیں کیا اور نہ جیل میں ہے۔میں شش و پنج میں تھا اور نکلنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ ایسی فضولیات پر کان دھرنا بیوقوفی ہی سمجھتا ہوں۔اتنے میں اس جاپانی ڈیلر نے اس پاکستانی تاجر کو ایک دلچسپ بات کہی جسے سن کر میرا قہقہ نکل گیا اور کئی معاملات سمجھنے کیلئے ابھی بھی یہ جملہ کافی مددگار ہو تا ہے۔
جملہ کچھ یوں تھا۔
جس "طوائف" کو "گاہک" نہ ملے تو اس "طوائف" کیلئے "ساری طوائفیں"،"فاحاشائیں" ہی ہوتی ہیں۔
اب جب بھی کوئی کسی کی غیبت ،بد خوئی کر رہا ہوتا یا کسی سازش کا ذکر کرتا ہے تو مجھے یہ جملہ یاد آجاتا ہے۔اور اس کے بعد میں سکون سے کہنے والے کی بات سن کر بھول جاتا ہوں۔  :p
مزے کی بات کہ ان پاکستانی تاجر نے اس جملے کا مطلب مجھ سے ہی پوچھا تھا!!!!۔
سازشی دماغ سازشی دماغ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:09 PM Rating: 5

5 تبصرے:

دہرا ح کہا...

ہا ہا ہا جاپانی نے کمال کی بات کہی۔

شیخو کہا...

بہت خوب تحریر

جواد احمد خان کہا...

یہ تو ایک لطیفہ ہی ہوگیا۔ یہ مضمون کچھ ردوبدل کے ساتھ درسی کتابوں میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

Sarwat AJ کہا...

پتہ نہیں کب نیتیں اور باطن ٹھیک ہونے ہیں ؟

Muhammad Aamer کہا...

نهایت اعلی شاه جی. زبر دست......

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.