الفاظ کی ہیرا پھیری

آپ کے ہاتھ میں فل لوڈڈ گن ہے۔
سیفٹی لاک بھی ہٹا ہوا ہے
آپ کے سامنے والا شخص دعوہ کرے کہ
میں اللہ کے نبی کا "بیٹا "ہوں !!
تو آپ کیا کریں گے ؟
اگر آپ خالی ہاتھ ہیں تو کیا کریں گے؟
گن ہاتھ میں ہونے کی صورت میں دعویدار کو قتل کیا جا سکتا ہے۔خالی ہاتھ ہونے کی صورت میں سامنے والے بندے کی جسمانی طاقت اور اس کے حواریوں کو دیکھ کر درگت بنائی جا سکتی ہے یا پھر خاموشی سے "دور ہٹ"کر گالیاں دے کر بھاگا جا سکتا ہے۔
یہ کسی بھی مہذب معاشرے کا رویہ نہیں ہو سکتا۔انسان آزادی کیلئے لڑتے ہیں۔
اور پھر قانون بنا کر "غلامی" اختیار کر لیتے ہیں۔قوانین حسب منشاء بنائے جائیں تو ہم اسے سیکولر یا لبرل قوانین کا معاشرہ کہہ سکتے ہیں۔جس میں ہر طرح کی" شخصی آزادی " ہوتی ہے اور "مدرپدر آزادی " ایک حسین و جمیل معاشرہ دکھانا شروع ہو جاتی ہے۔لیکن انسانیت اس میں بھی سسک رہی ہوتی ہے۔
"دین فطرت" کے قوانین والا معاشرہ ہوتو اس معاشرے کی عمومیہ برداشت،صبر و تحمل،درگذر، ،فکرو تدبر کا مزاج پاتی ہے۔
ہر انسان اپنے محسوسات ،خیالات احسن طریقے سے بیان نہیں کر سکتا۔کسی کا انداز کچھ اور کسی کا کچھ ہوتاہے۔ہماری اکثریت الفاظ کے چناؤ کرنے کی "صلاحیت" نہیں رکھتی بلکہ تمام انسانوں کی اکثریت الفاظ کی ہیرا پھیری کی صلاحیتوں میں "قابلیت" نہیں رکھتی۔
ہمیشہ اعلی مقرر ،تقریر کرنے والا نمایاں ہوتا ہے۔الفاظ کی ادائیگی اور الفاظ کا چناؤ،آواز کا بڑھاؤ اتارچڑھاؤ ، ماحول کو جانچنے پرکھنے کی "صلاحیت" ہی اس کا ہتھیار ہوتی ہے۔
ورنہ جان کش و محنتی "گدھے" کی آواز ہر کس و ناکس کیلئے وجہ سمع خراشی ہی ہوتی ہے۔ ہم نے یہ تو بار بار کیطرح کئی بار سنا ہوا ہے کہ "پہلے تولو اور پھر بولو"۔
میرے خیال میں یہ انسانوں کے مشاہدے کا نچوڑ ہے۔کسی بھی معاملے کے مطلق کچھ لمحات سوچ کر اس پر اپنی رائے دینی چاھئے یا "عملی قدم" اٹھانا چاھئے۔
"بد گمانی" ،یا برا "گمان رکھنا "اپنے "اندر" کی برائی ہوتی ہے،جو فساد پیدا کرتی ہے۔کوئی بھی محکمہ یا ادارہ اپنے ملازمین کی "ذہنی تربیت" کرتا ہے اور اپنے محکمے یا ادارے کا نظام احسن طریقے سے چلاتاہے۔
معاشرے کی ذہنی تربیت حکمرانوں کا فریضہ ہوتی ہے اسی طرح جس طرح عوام کی جان و مال کی حفاظت حکمران کا فرض ہوتا ہے۔
اور معاشرے کے "خواص" کا کام بے لوثی اور خلوص دل سے مسلسل عوام میں شعور پیدا کرنا اور معاشرے میں مثبت سوچ کا فقدان نہ ہونے دینا ہوتا ہے۔
الفاظ کی ہیرا پھیری اتنی مشکل اور دلچسپ ہوتی ہے کہ "مفاد پرست " چالاک لوگ عمومیہ کا "رواج" دیکھ کر الفاظ کی ہیرا پھیری سے اپنا مطلب نکال لیتے ہیں۔
جو شخص "منہ پھٹ "صاف گو ہو اور بلا خوف و جھجھک اپنی بات کہہ دینے والا ہو۔وہ نقصان میں ہی رہتا ہے۔ایک شخص کہے کہ میں اللہ کے نبی کا "بیٹا" ہوں۔اور اگلی بات کہنا چاہ رہا ہو کہ میں نسلی تعصب کو پسند نہیں کرتا۔لیکن کہہ نہ پائے اور "لوڈڈ گن" اس پر خالی ہو چکی ہوتو اس میں کہنے والے کا قصور یا گناہ صرف اتنا ہی ہے کہ اس کو اپنی بات کہنے کا "سلیقہ" نہ تھا۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔۔آمین۔
اب یہی بات منبر پر بیٹھے "امام صاحب" کہہ رہے ہوں تو عالم سے لیکر عام انپڑھ بندہ بھی لوڈڈ گنوں کے ساتھ "عقیدت مندی" سے سر جھکائے اپنے ہی  ہونٹوں اور آنکھوں کو چوم رہے ہوں گے۔
اما بعد ۔۔اے ایمان والو۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اور آپ "باوا آدم" اور "اماں حوا " کے "بیٹے" ہیں۔
سبحان اللہ ۔۔۔اللہ کی شان۔
باوا آدم اور اماں حوا کو شیطان نے "ورغلایا " اور انسان کو جنت بدر ہونا پڑا!!۔
اب یہی بات ہم ایک چڑ چڑے  کی زبان سے سنیں تو
بس یار!۔
۔باوا آدم اور اماں حوا "غلطی" نہ کرتے تو آج ہم جنت میں موجاں کر رہے ہوتے۔
اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بات ایک ہی ہے لیکن کہنے والے کے روئیے یا کہنے کے انداز میں ایک"جنگ" کا دہانہ کھلنے کیلئے کافی ہے۔
ایک ہی بات "امام صاحب " نے کہی تو اللہ کی  شان پر بات ختم ہوئی۔
شیطان ورغلاتا ہے تو ہی گناہ سرزد ہوتا ہے!!
۔لیکن کہنے کے انداز اور کہنے "والے " کی وجہ سے بات بتنگڑ بن جاتی ہے۔
معاشرہ اس وقت صحت مند ہو سکتا ہے۔ جب کوئی کہے کہ
میں اللہ کے نبی کا "بیٹا"ہوں۔
اور سننے والا قہقہ لگا کر کہے۔ ہاں یار۔ ہم دونوں خونی بھائی ہیں۔ آ بیٹھ ایک ہی پلیٹ  میں بانٹ کر کھاتے ہیں۔
بحث ہو سکتی ہے  کہ "باوا آدم" اللہ کے نبی تھے یا نہیں؟
کہنے والا اپنے آپ کو کس نبی کا بیٹا کہہ رہا ہے؟
جب معاشرہ بیمار ہو تو "آبیل اور قابیل" کو خونخواری کیلئے بہانہ ہی چاھئے ہوتا ہے۔
بس اوئے تو نے میری آنکھوں میں کیوں دیکھا ہے؟
الفاظ کی ہیرا پھیری الفاظ کی ہیرا پھیری Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:11 PM Rating: 5

3 تبصرے:

نورین تبسم کہا...

“بد گمانی” یا برا “گمان رکھنا ”اپنے “اندر” کی برائی ہوتی ہے،جو فساد پیدا کرتی ہے۔"
(حاصلِ تحریر)
کسی اور کے لیے الفاظ کی مزید ہیرا پھیری یا تڑکے کی گنجائش بھی نہیں اس تحریر کو پڑھنے اور محسوس کرنے کے بعد۔
جزاک اللہ ۔

علی کہا...

سبحان اللہ روحانیت کی طرف جھکاؤ ہوتا جا رہا ہے آج کل

جواد احمد خان کہا...

اللہ کے نبی کا بیٹا تو ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں اللہ کے نبی کی اولادوں میں سے ہوں۔
لیکن اس معاملے میں ظرافت کا پہلو پایا جاتا ہے اور بہت سے لوگ دین کے معاملات میں ظرافت کو پسند نہیں کرتے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.