اردو اور اردو بلاگرز

اردو ہمارے پاکستان کی قومی زبان ہے، جسے صرف پاکستان میں ہی نہیں برصغیر کے تقریباً تمام ممالک میں ہی بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ہندی فلموں نے بھی اس زبان اردو کو بنام "ہندی" کے معروف کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ہم ہندی فلموں کو ہندی زبان کا ہی کہہ سکتے ہیں کہ نام میں کیا رکھا ہے۔
جس زبان کا رسم الحظ ہندی ہے وہ ہندی زبان ہوئی اور جس کا اردو ہے وہ اردوزبان ہوئی۔
ہندی فلمیں بنانے والے  گانے "اردو زبان" کے ہی  فلموں کو کامیاب کرنے کیلئے مجبور دکھائی دیتے ہیں۔

جب آریہ قوم نے چار ہزار سال پہلے ملک ہندوستان فتح کیا تو اس ملک ہندوستان کو اپنا وطن بنا کر بودوباش اختیار کی محققین کے مطابق آریہ قوم جو زبان بولتی تھی وہ سنسکرت زبان ہی تھی۔جب آریہ قوم نے یہ وطن اختیار کیا تو اس ملک کے مقامیوں کی زبان سے آمیزش پیدا ہوئی تو ان کی زبان میں خلل لاحق ہونے لگا۔مفتوح قومیں فاتح اقوام کی زبان اختیا ر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں  ذہنی مغلوبیت یا ذہنی غلامی کےاحساس سے مفتوح اقوام اپنی زبان میں فاتح اقوام کی زبان کی آمیزش کرنا شروع ہو جاتی ہیں۔

اسی طرح فاتح اقوام اگر مفتوح علاقے کو وطن کے طور پر اختیار کرلیں تو مقامی زبان کی آمیزش اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
آریہ قوم کی زبان اور ہندوستان کے مقامیوں کی زبان کی آمیزش سے رفتہ رفتہ ایک غیر سنسکرت زبان وجود میں آئی جسے "پراکرت" کہا جاتا ہے۔

جب آریہ قوم نے یہ دیکھا کہ سنسکرت کی شستگی اور صفائی میں بہت خلل واقع ہو رہا ہے تو آریہ قوم نے قواعد صرف و نحو کے قائم کرکے الفاظ غیر سنسکرت کو دور کرکے اپنی زبان کی پوری اصلاح کر ڈالی یہ سنسکرت زبان برہمنوں کیلئے مخصوص زبان قرارپائی۔

لیکن جو زبان "پراکرت" جاری ہو چکی تھی اس کی کسی قسم کی اصلاح نہ ہو سکی۔اسی پراکرت زبان کی ایک قسم بھاشا ہے اور مختلف "علاقوں" میں یہی زبان جاری ہے۔
برہمنوں کے مذہب کو "بودھ مذہب" نے مغلوب کیا تو "پراکرت" ہی "سنسکرت" کا قائم مقام سمجھی جانے لگی۔کہا جاتا ہے کہ تقریباً پندرہ سو سال پہلے شنکر اچاریہ نے مذہب بودھ کو شکست دینے کے بعد مذہب براہمہ کی تجدید کی تو اس نے سنسکرت کو ازسر نو رواج دیا۔

لیکن "پراکرت" عوام الناس میں رواج پا چکی تھی۔ اسلام کے ظہور کے بعد عرب جب شروع شروع میں سندھ میں آنا شروع ہوئے تو سندھیوں کی زبان جو "پراکرت" کی ہی ایک قسم تھی یہ زبان عربی کے الفاظ سے مزاج پکڑنا شروع ہو گئی۔پھر مختلف اقوام کے شاہان اسلام ہندوستان پر حملہ آور ہوتے گئے ۔حتی کہ ہندوستان پر اسلامی سلطنت قائم ہو گئی۔

اس وقت سے مسلمانوں اور ہندؤوں میں میل جول بڑھنے لگا تو جو زبان "بھاشا" ہندوؤں میں جاری تھی اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ کثرت سے داخل ہونا شروع ہو گئے۔خاص کر لشکروں میں ایک خاص زبان بولی جانے لگی۔ اس مرکب زبان کانام اردو ہو گیا۔
اردو لشکر کو کہتے ہیں۔پس وجہ تسمیہ یہی ہوئی کہ یہ زبان لشکریوں سے شروع ہوئی۔رفتہ رفتہ اس زبانِ نونے شکل امتیاز پکڑی حتی کہ عہد اکبر میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبان ایسے انداز کی ہوگئی تھی کہ اس وقت کی زبان اور اُس عہد کی زبان اردو دان بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

عہد اکبر میں اردو کتنی حثیت کو پہونچ چکی تھی اکبر کی ایک رباعی سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔

پوچھے جو گھڑی مجھ سے براہ عادت                                     تو وصل کو ساعت کی نہیں کچھ حاجت
ہوجاتی ہے ملنے سے مبارک ساعت                                        ساعت کا بہانہ نہیں خوش ہر ساعت

ہمیں اس رباعی سے  اندازہ ہوتا ہے کہ عہد اکبر میں ہی اردو اپنی درستگی کی اعلی حالت کا وجود اختیار کر چکی تھی۔امیر خسرو کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ  اس زبان میں بعض اوقات شعر کہا کرتے تھے۔اردو زبان کے شاعر ولی دکنی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اردو زبان کو ممتاز کیا۔

شعرا میں میرو مرزا اور ناسخ ، میر انیس کو اس زبان کی تراش خراش اور ایک خوبصورت زبان میں تبدیل کرنے کا مرکزی کردار سمجھا جاتا ہے۔
المختصر پہلے آریہ قوم نے اپنی زبان کو رواج دیا، بعد ازاں اس سے بھاشا پیدا ہوئی پھر اس بھاشا میں عربی فارسی کے الفاظ کی آمیزش ہوتی گئی بہت سے  انقلابات کے بعد اردو زبان پیدا ہو گئی۔ اور اردو زبان میں اب مسلسل دیگر زبانوں کے الفاظ کی آمیزش جاری ہے۔ کہ یہی اس زبان کا حسن ہے۔

عربی فارسی کے الفاظ سے ہمارے کان نا آشنا نہ ہونے کی وجہ سے ان الفاظ کی شمولیت ہمیں حیران نہیں کرتی لیکن انگریزی کے الفاظ کی آمیزش ہمارے لئے جھنجھلاہٹ کا باعث بنتی ہے۔اس کی واحد وجہ انگریزوں کی ہندوستاں میں آمد اور حکمرانی کو مسلمان اپنی تنزلی کی وجہ سمجھتے ہیں۔بحرحال اس وقت علم و ہنرمندی کے تمام جدیدعلوم زیادہ تر انگریزی زبان میں ہی ہیں،اور ان علوم کے الفاظ کا ترجمہ اردو میں کافی مشکل ہے۔انگریزی الفاظ کی آمیزش اردو میں ناگزیر ہی سمجھی جاتی ہے۔

اردو کی ترویج و اشاعت میں شعراء کی خدمات ماضی کی  تورایخ سے ہمیں ملتی ہیں۔اس کے بعد "دینی طبقہ " یعنی "علماء کرام" کی خدمات بے لوثی کی عمدہ مثال ہیں۔ جیسے سب پہلے قرآن پاک کا اردو ترجمہ حضرت شاہ عبدلقادر محدث دہلوی صاحب نے کیا ۔اس طرح دیگر اہل علم اردو زبان میں مسلسل انفرادی اور اجتماعی طور پر اردو کی ترویج و اشاعت میں اپنا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔

دور حاضر میں بھی ہمارے سکولوں و مدارس میں اردو کا مواد ہی زیادہ تر پڑھایا جاتا ہے۔دینی کتب ہر مکتب فکر کی ہمیں اردو میں زیادہ تر میسر ہیں اور ہمارے فہم یا سمجھنے کیلئے اردو کتب کا دینی و ادبی مواد ہی ہمارے لئے بہتر انتخاب ہوتا ہے۔
ہر مکتب فکر کا دینی طبقہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دینی مواد اردو میں شائع کرتا رہے گا۔جدید دور کے انٹرنیٹ پر بھی اس دینی طبقے کی انٹر نیٹ سائیٹ کام کر رہی ہیں۔

اردو بلاگرز "انفرادی"  طور پر مختلف موضوعات پر لکھ رہے ہیں۔ان بلاگرز میں میری طرح کے سطحی تحاریر لکھنے والے بھی ہیں تو اعلی پائے کے تجزیہ نگار ،افسانہ نگار ، مزاح نگار بھی کثیر تعداد میں ہیں۔آجکل پرنٹ میڈیا بھی بلاگرز کی تحاریر کو اپنے صفحات میں جگہ دے رہا ہے۔

مقصد کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اردو کی ترویج و اشاعت کیلئے "اردو بلاگرز" کی حوصلہ افزائی یا اپنے صفحات کیلئے نیا اور "مفت "معیاری مواد جمع کرنا. بلاگرز کا لکھا ہوا "کاپی" تو ویسے بھی ہوتا آیا ہے۔

اردو بلاگرز بلا معاوضہ "انفرادی" طور پر لکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو لکھنے کی تحریک دینے کیلئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔بلاگ بنانے کی مدد امداد تک بغیر کسی مفاد کے کرتے ہیں۔
اس سے بلاگرز کی ایک کثیر تعداد کا "مخلص و بے لوث" ہونا ثابت ہوتا ہے۔

ابتدا میں میری حوصلہ افزائی کیلئے "حال دل " کے جعفر المعروف استاد جی ، "ڈفرستان" کے ڈفر ایک بلاگر کا دلچسپ کردار "پھیپھے کٹنی" تبصرے کیا کرتے تھے۔جس کی مجھے بہت خوشی ہوا کرتی تھی۔بلاگر ایگریگیٹر "سیارہ" اور "اردو کے سب رنگ" میں شمولیت بھی میرے لئے خوشی کا باعث بنی تھی۔میں اردو بلاگرز کی تحاریر کو "ان"کے نام سے پرنٹ میڈیا میں اشاعت کو اسی تناظر میں دیکھ رہا ہوں۔
آج "پرنٹ میڈیا" اردو بلاگرز کی تحاریر کو شائع کر رہا ہے تو اس کے پیچھے بہت سارے مخلص اور بے لوث لوگوں کی کاوشیں کار فرما ہیں۔

مجھےتو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ مستقبل میں جیسے جیسے انٹر نیٹ"پاکستان" میں  ترقی کرے گا۔ایک بلاگ ایک کتاب کی حثیت اختیار کرتا جائے گا۔اور بلاگرز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ قاری معیاری اور غیر معیاری بلاگ کا انتخاب کیا کرے گا۔
"قابل" اور "با صلاحیت" بلاگرز ہی نمایاں ہوں گے۔اور شاید میرے جیسے بلاگر کو کوئی پڑھنے والا ہی نہ ملے۔

اردو اور اردو بلاگرز اردو اور اردو بلاگرز Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:50 PM Rating: 5

13 تبصرے:

علی کہا...

کیوں جی کیا ہم پڑھنا چھوڑ دیں گے یا یہ وقوعہ ہمارے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد ہو گا :p

نورین تبسم کہا...

کسرِنفسی اچھی بات ہے لیکن اگر اس طرح کی تحریر "سطحی" کہی جائے تو یقیناٍ دوسرے لکھنے والے شرمندگی محسوس کریں گے ۔ میری طرف سے پرنٹ میڈیا کے لیے ایک اور تحفہ۔اگر کوئی اسے "لفافہ بلاگنگ" نہ جانے کہ ہم ہر چیز پر شک کرنے کی خطرناک عادت کا شکار ہو چکے ہیں ۔

نعیم اکرم ملک کہا...

مکسنگ اور ری مکسنگ اردو زبان کی بنیادی اساس ہیں، انگریزی کے الفاظ ملانے سے اردو زبان کو تقویت ملے گی۔ آپکا بلاگ کوئی پڑھے یا نہ پڑھے شبیر تو پڑھے گا۔

نورین تبسم کہا...

شبیر کا دیکھنا بھی قیامت ہے جناب۔ یہی بہت ہے

افتخار راجہ کہا...

آپ تو مشہور ہو ہی گئے ہیں جناب اور اس کا اظہار بھی اپنی اس تحیقیقی پوسٹ میں کررہے، ابھی تو اپ لکھائی مین بھی رعونت آگئی ہے۔ ہین جی، میرا دل کررہا ہے مصر جا کر فراعین کی زیارت پاک کرنے کا، ہوسکتا ہے ادھر سے ہی کوئی افاقہ ہو۔

اور آخیر میں عرض ہے۔ تنقید سے نہ گبھرا اے بلاگر ۔ ۔۔ ۔ یہ تو چلتی ہے تجھ سے اچھا لکھوانے کو

ہیں جی

نورین تبسم کہا...

سب چلتا ہے جناب ۔آخر ہم غریب بلاگر عوام بھی تو "سریے" کے حقدار ہیں ، چاہے اپنی گردن میں ہی کیوں نہ آئے ۔ ویسے ایسا کچھ بھی نہیں ۔ جناب یاسر تو بہت ہی عاجز بندے ہیں ۔

خورشید آزاد کہا...

روزنامہ دنیا میں تحریر کیا شائع ہوگئی یاسر خواہ مخواہ جاپانی سے تاریخ دان بن گئے۔۔۔۔۔کمال کا لکھا ہے یاسر بھائی۔۔۔۔ویسے برائے مہربانی ہمارے لئے اپنا وہ "سطحی" انداز ہی برقرار رکھیں۔

جواد احمد خان کہا...

آپکی تحریر روزنامہ دنیا میں شایع ہوئی جسکے لیے مبارک باد قبول کیجئیے۔ آپ ، سلیم بھائی اور بلال صاحب ایک قدم آگے بڑھ کر پرنٹ میڈیا کی طرف آگئے ہیں جو ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے دعا ہے کہ ترقی اور شناخت کا سفر ہمیشہ جاری رہے۔
رہی اپنی تحاریر پر کسر نفسی کی والی بات تو مجھ سمیت بہت سوں کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ آپکے پاس بات کہہ دینے کا وہ فن ہے جو بہت سے مشہور لکھاریوں کے پاس نہیں اور سب سے اچھی بات آپکی یہ ہے کہ آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جنہیں دبایا یا ورغلایا جاسکے۔
امید ہے کہ بلاگستان جس صاف گوئی اور حقیقت کشائی کے لیے مشہور ہے آپ اسکی احسن انداز میں نمائندگی پرنٹ میڈیا پر کریں گے اور پرنٹ میڈیا کو یہ بتا سکیں گے کہ اہم امور پر بلاگستان میں کیا سوچ پائی جاتی ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

راجہ جی آپ تو ہیں ہی "بروٹس" کے ملک کے ؛ڈ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

پاکستان میں "انٹرنیٹ" ہر کسی کو نیٹ گردی آسانی سے کرنے تک شاید ہم نہ رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

لفافہ ملنا چاھئے جی۔۔۔۔۔شک و شبات ہم خود پیدا کر لیں گے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جناب ایک دو تحریر یں شائع ہو ئی ہیں۔
اور مجھے "پیشہ ور" بننے کا بالکل شوق نہیں !!
اور نہ ہی اپنے میں اتنی قابلیت محسوس کرتا ہوں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ملک صاحب آپ تو ہمارے بلاگ کے پرانے مہربان ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.