اسلام کے نام پر جاپان میں عبادت گاہیں۔

اس مسلکی دینی  جنگ ۔۔۔۔ کچھ سختی سے کہوں تو "عبادت گاہوں " نے ہمیں جاپان میں بھی ذلیل کیا ہوا ہے۔ ہر مسجد میں کچھ نہ کچھ "چلتا" ہی  رہتا ہے۔
"عبادت گاہیں " اس لئے کہ اسلام کی تو "مساجد " ہوتی ہیں۔جب اپنے اپنے نظریات یا فرقے کو اہمیت دی جائے تو یہ مساجد ، اسلام کی مساجد نہیں فرقوں کی "عبادت گاہیں" بن جاتی ہیں۔ بحرحال عبادت تو اللہ کی ہوتی ہے اس لئے اس سے زیادہ کوئی اور نام دینا اچھا نہیں لگتا ایسے ہی جیسے عیسائی یا یہودی اپنی اپنی عبادت گاہوں میں "خدا" کی عبادت کرتے ہیں یہ بھی عبادت ہی کرتے ہیں۔
ہم تو اس وقت کے جاپان میں  ہیں جب سب پاکستانیوں  کو "اپنا" مسلک بھی معلوم نہیں ہوتا تھا۔
سب مل جل کر کسی فلیٹ یا فیکٹری کے کمرے میں فرض نمازیں تراویح اور جمعے کی نماز کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
عیدین کی نمازیں سٹی ہال وغیرہ بک کرکے سب پڑھ لیا کرتے تھے۔
لوگوں میں "مسلک یا مذہب " کے نام پر لڑائی جھگڑا نہیں ہو تا تھا۔ پھر پاکستانی مالدار ہونا شروع ہوئے تو مساجد تعمیر ہو نا شروع ہو گئیں۔
سب نے دل کھول کر چندہ دینا شروع کیا لوگ منتظر رہتے تھے کہ کسی جگہ مسجد کا کام شروع ہو تو چندہ دے کر مسجد کی تعمیر میں حصہ لیں۔کئی دین سے مخلص لوگ انتہائی خاموشی اور رازداری سے چندہ دیتےتھے۔
پھر آہستہ آہستہ ہمیں معلوم ہونا شروع ہوا کہ یہ تو "اللہ کا گھر نہیں" فلاں مسلک کی عبادت گاہ ہے۔جسے لوگوں نے اللہ کا گھر سمجھ کر اپنا پیسہ لگا کر انتہائی دینی محبت سے اپنے مال سے حصہ ڈال کر تعمیر کیا تھا ،وہ تو فلاں مسلک والوں کی عبادت گاہ ہے!!
اس کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے مسلک کا مولوی صاحب بلوایا جانے لگا۔ کسی جگہ ان مولوی صاحب نے اپنا "روزگار" پکا کرنے کی کوشش میں تھرتھلی  مچائی اور کسی جگہ ان مولوی صاحب کو "مذہبی اختلاف" والوں نے تنگی کا ناچ نچایا۔
بس پھر کیا تھا دے دھنا دھن۔۔۔۔۔۔آجکل دو ماہ سے ایک مسجد کو تالا لگا ہوا ہے اور ایک دوسرے کو "دھمکیاں " بھی دی جارہی ہیں۔اور دلچسپ بات جو معلوم ہوئی ہے  کہ پاکستان میں "مذہب کے مرکزی سنٹر" سے بھی قتل کی دھمکیا ں وغیرہ دی جا رہی ہیں۔اب اس میں کتنی حقیقت ہے یہ تو ہم تصدیق نہیں کر سکتے !!
بحرحال ایک بات کا مشاہدہ جو مجھے ان "عبادت گاہوں " میں ہوا ہے ، ایک مخصوص "فرقے" والے مسجد کی کمیٹی میں شامل ہوکر یا مسجد کی تعمیر کے وقت سے ہی چندہ جمع کرنے والا ایک مخصوص "فرقے" سے متعلق ہوتا ہے۔اس "مخصوص" فرقے والے لوگ مسجد پر اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں۔
بس پھر اس کے بعد یہ مسجد اسی فرقے کیلئے "مخصوص" ہو جاتی ہے۔مزے کی بات یہ کہ چندہ جمع کرتے وقت کوئی نہیں بتاتا کہ یہ مسجد کس فرقے کی ہوگی!! صرف ایک دو مخصوص احادیث اور آیات کریمہ سنا کر مسجد کی تعمیر کی افادیت اور آخرت میں اس کے اجر کا بتایا جاتا ہے۔اور چندہ جمع کر لیا جاتا ہے۔یہ آیات کریمہ اور احادیث تمام فرقوں والے مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں!!۔
مثال کے طور پر جن مساجد پر دیوبندیوں کا اثر ورسوخ ہے وہاں تبلیغی جماعت کی جماعتیں آئیں گئیں مسجد میں ہی
قیام و طعام کیا جاتا ہے، امام بھی صرف دیوبندیوں کا "منگوایا" جاتا ہے۔
جن مساجد پر بریلویوں کا اثرو رسوخ ہے ان مساجد میں صلوۃ و سلام ،گیارہویں شریف ، عید میلادالنبی وغیرہ کا اہتمام ہو تا ہے اور امام بھی انہی کاہی ہوتا ہے۔
نہ ہی کوئی مائی کا لال مساجد میں تبلیغی جماعت کے قیام و طعام کی مخالفت کر سکتا ہےکہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور ہر کوئی یہاں پر آ جا اور قیام و طعام کرسکتا ہے۔۔یہ علیحدہ بات ہے کہ جو گھر بار سے "فارغ" ہو جاتے ہیں وہ دو دن مسجد میں نہا لیں تو تیسرے دن کونے میں لے جاکر کہا جاتا ہے کہ تو نے یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟
اسی طرح بریلویوں کی مسجد میں کسی دوسرے "مذہب" کا امام مسجد نہیں بن سکتا!۔ دیار غیر میں چھوٹی کمیونٹی کسی بھی بڑے ملک کے معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے۔
مجھے تو یہاں کی مساجد میں لڑائی جھگڑے مساجد پر اپنے اپنے "مذہب" کا قبضہ قائم رکھنا یا دوسرے "مذہب" کی عبادت گاہ میں جاکر "فسادی " قسم کی "پھلجڑی" چھوڑنا حیران نہیں کرتا کہ ہمارے پاکستانی معاشرے میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔
دکھ صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ تمام فساد لڑائی جھگڑے چیرہ دستیاں "مذہب" کے نام پر ہوتی ہیں۔"شرفاء" ان عبادت گاہوں کیطرف جانے سے گھبراتے ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی بھی فساد میں شامل کیا جا سکتا ہے۔شرفاءکیلئے ذلیل ہونے کا خطرہ تو ضرور ہوتا ہے۔
کئی مساجد کی انتظامی کمیٹیاں مساجد کے معاملات کو احسن طریقے سے چلا رہی ہیں۔ لیکن یا تو کسی اسلامی حکومت کے زیر انتظام ہیں یا پھر "اپنے فرقے" کی اکثریت کی وجہ سے فساد سے بچی ہوئی ہیں۔
ہر "مذہب" کے علماء کرام سے اس فرقہ واریت سے نکل کر سب کو اسلام کے جھنڈے کی نیچے جمع ہونے اور کرنے کی امید رکھنا ناممکن ہے۔
نہ ہی دور دور تک اس کے کوئی امکانات نظر آرہے ہیں۔جاپان کے شریف طبع اور عام مسلمان کو عافیت اسی میں ہی نظر آرہی ہے کہ ان عبادت گاہوں سے دور رہے اور ان "لوگوں " سے اظہارکراہیت پر سختی سے قائم رہے۔لیکن دل میں ایک "خلش " ایک "دکھ" انتہائی شدت سے محسوس ہوتا ہے جو بعض اوقات حد سے زیادہ بے چین کر دیتا ہے۔
بحرحال ہماری تو مودبانہ گذارش ہے کہ جس مسجد میں جو دو فریق لڑائی کررہے ہیں ان میں ایک خاموشی سے پیچھے ہٹ جائے اور اس "عبادت گاہ" کی طرف جانا چھوڑ دے اگر "حق" پر ہوا تو اللہ تعالی ضرور اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ ورنہ اللہ کے دین کے نام پر فساد کرنے والوں میں شامل کر دیا جائے گا۔اور فساد کرنے والوں کیلئے اللہ کی سزا سخت ہی ہو گی۔۔اللہ و اعلم
فی الحال یہ گذارش کرنے کی گستاخی اس لئے کی ہے کہ فساد قائم رکھنے سے اور "اسلام " کے نام پر قائم کی گئی مسجد کو تالا لگنے سے کسی کا فرقہ تو نہیں "اسلام" ضرور بدنام ہو رہاہے۔
ایک جاپانی نو مسلم نے فون کرکے کے پوچھ لیا تھا کہ مسجد میں لڑائی کیوں ہو رہی ہے؟ اب ہم کیا بتلائیں جناب؟

اسلام کے نام پر جاپان میں عبادت گاہیں۔ اسلام کے نام پر جاپان میں عبادت گاہیں۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:20 PM Rating: 5

10 تبصرے:

رضی اللہ خان کہا...

اچھی تحریر ہے، اور آپ کی تجویز بھی اچھی ہے،

محمد انور میمن کہا...

معذرت کے ساتھ آپ کی تحریر کے ساتھ شدید اختلاف کی جرأت کررہا ہوں۔
جہاں ایک سے زائد افراد جمع ہوں وہاں اختلاف تو فطری چیز ہے۔ جیسا میں آپ سے اس وقت اختلاف کررہا ہوں۔ مساجد کے معاملے بھی اختلاف دراصل افراد کی سوچ کا ہوتا ہے، اور زیادہ تر انتظامی طریقہ کار پر۔ یہ بات تو درست ہے کہ اکثر مساجد میں انتظامی غلبہ کسی ایک فقہ یا مسلک کا ہوتا ہے، لیکن میرے خیال میں مسلکی لڑائی جھگڑا بہت کم مساجد میں دیکھنے میں آیا ہے۔ یقیناً یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ تمام مساجد تمام مسلمانوں کے لیے ہوتی ہیں۔ لیکن بہرحال علاقے کے مسلمانوں کی اکثریت اگر دیوبندی ہوگی ہوگی تو وہ لازماً چاہیں گے کہ ان کی مسجد میں بریلوی امام نہ ہو۔ اسی طرح بریلوی اکثریت اپنی مسجد میں دیوبندی امام نہیں چاہے گی۔ لیکن یہاں تک معاملہ اختلاف کا ہے جھگڑے کا نہیں۔
جاپان میں کوئی 80 کے قریب مساجد ہیں، جن میں سے صرف اچند میں چند بار مسلکی جھگڑا دیکھنے میں آیا ہے۔ زیادہ تر انتظامیہ کی پھنے خانی یا منتظمین کی سیاست کے جھگڑے ہیں۔اگر مساجد کمیٹیاں مشاورت کے ذریعے تشکیل پائیں، اور ان میں تبدیلی کا عمل جاری رہے تو یہ جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔
بہرحال مسجد میں جھگڑا ہونا اور خصوصاً تالا لگنے تک نوبت جا پہنچنا قابل افسوس ہے۔ لیکن صرف ’’چند‘‘ مثالوں کو ’’عموم‘‘ باور کرلینا بھی داشمندی نہیں ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ 50 مساجد میں امن ہوتا ہے تو کوئی خبر نہیں بنتی، لیکن ایک میں جھگڑا ہوتا ہے تو خبر بن جاتی ہے۔ چنانچہ ایک یا دو خبروں سے بھی ایسا ’’محسوس‘‘ ہونے لگتا ہے کہ اکثر جھگڑے ہورہے ہیں، حالانکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔
واللہ و اعلم بالصواب۔

شیخو کہا...

بہت اعلیٰ اور اہم تحریر
بھرا جی کچھ قبرستان والے مسلے پر بھی تفصیلی روشنی ڈالیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میمن صاحب میں بچہ نہیں ہوں نہ ہی چھچھورا کہ آپ معذرت کے ساتھ اختلاف کر رہے ہیں۔ محترم اختلاف یا رائے کا اظہار جیسا کہ آپ نے احسن طریقے سے کیا ہے یہ اختلاف یا رائے میرے جیسوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی کا باعث بنتی ہیں بلکہ میرا جیسا بندہ ضرور سوچتا ہے کہ میری سوچ میں جو کوتاہی ،غلطی ہے اسے ضرور دور کروں۔ میرے خیال میں انسان کو تو خود احتسابی کا عمل مسلسل جاری رکھنا چاھئے۔
تحریر کے متعلق جیسا کہ میں نے تحریر میں ذکر کیا ہے۔ کہ یہ میرا مشاہدہ ہے، اور تلخی سے عرض کروں تو تجربہ بھی ہے۔، محترم آپ غور سے ان پھنے خانیوں کا مشاہدہ کریں اس پھنے خانی کا محرک "مسلکی" اختلاف ہی ہے ۔یا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہوتا ہے کہ کوئی "دوسرا مسلک" قابض نہ ہو جائے۔
80 مساجد میں سے تیس مساجد کی "وجہِ تعمیر" کا پس منظر دیکھ لیں۔میری بات سے آپ ضرور متفق ہوں گے۔صرف کانتو ایریا گنما ،چیبا ، سائیتاما ،ایباراگی ، توچکی میں جو مساجد ہیں ان کے متعلق ہی دیکھ لیں۔بحر حال چند مساجد میں ہی سہی اسلام کے نام پر تعمیر شدہ چند مساجد میں بھی یہ "شیطانی حرکات" نہیں ہونی چاہئیں ۔کمیونٹی بھی کنتی بڑی ہے جناب؟ دس ہزار ؟ بیس ہزار؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں بھائی جان۔
کوئلوں والا کام نہیں کر سکتا۔ یہ تو مسجد کا معاملہ ہے جس کو تالا لگا ہوا ہے۔
باقی مرنے والے کو اللہ اپنے پاس لے جاتے ہیں ۔ قبروں کا حال اللہ ہی جانے۔

Mumtaz alam کہا...

i agree with you yasir bhai jazzakAllah

خورشید آزاد کہا...

کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ آپ لکھ تو جاپان کے بارے میں رہے ہیں لیکن کم و بیش یہی حالات و واقعات یہاں ہانگ کانگ اور انگلستان میں بھی ہیں۔

ھارون اعظم کہا...

پاکستان کی حد تک اس طرز عمل کا میں خود مشاہدہ کرچکا ہوں۔ ایک مسلک کے لوگ دوسرے مسلک والوں کو مسجد میں نماز تک نہیں پڑھنے دیتے۔ بلکہ بہت مساجد پر نہایت واضح الفاظ میں لکھا ہوتا ہے "مسجد مسلک فلاں و فلاں"۔
ایسے لوگ صرف اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے مذہب کا سہارا لیتے ہیں، اور لوگوں کو دین سے متنفر کرتے ہیں۔ ان کا ایک ہی علاج ہے کہ جو مولوی حضرات فساد اور فتنہ پھیلائیں، مسجد میں موجود لوگ ان کی ایسی چھترول کریں کہ آئندہ کسی کو ہمت نہ ہو۔ ورنہ یہی لوگ دین کے نام پر کلمہ گو مسلمان بھائیوں کو آپس میں بات کرنے سے بھی روکیں گے اور اگر موقع ملے تو ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر بھی آمادہ کریں گے۔

khalid کہا...

. I certainly agree with memon sb that not all the time "firqa" is the issue behind differences in masjid. We should also accept that difference of opinion is normal especially when communities start growing. Community size was small 20 years back therefore there were less differences. It is true that with increase in size of community, the "firqa pursti" became more apparent, but as community members we should srart healthy discussion in blogs to educate and spread the awareness. I don't know alot about background of clousure of masjid but it is indeed sad to know that difference of opinion reach to such an extent that masjid is gonna closed. The biggest issue in our community is lack of educated and visionary leadership. It will be only solved when community will be lead by new converts or some professionals working in big organizations.

کاشف کہا...

اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ "مسلمانوں" سے ہے.

~ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.