نہ چھیڑ میری حب الوطنی کو!

دیکھیں جی ، ہر ملک اپنی عوام کو حب الوطنی اور معاشرے کو مضبوط رکھنے کیلئے۔
ہیرو تیار کرکے پڑھاتا ہے اور نئی نسل کی برین واشنگ کرتا ہے۔
جاپان جب مفتوح ہوا تھا تو “شکست خوردگی” کے معاہدے میں اپنی ایک شرط منظور کروانے کیلئے جان توڑ کوشش کر کے کامیاب ہوا تھا۔
وہ شرط جاپانی زبان کو ذریعہ تعلیم کیلئے لازمی رکھنا تھا۔ اس میں جدید و قدیم تاریخی علوم سے لیکر سائینسی علوم بھی شامل ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج جاپان کا پی ایچ ڈی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر شاکٹر بھی انگلش بولنے میں جھجھکتا ہے اور اپنی فیلڈ میں لکھنے میں اسے کو ئی پریشانی نہیں ہوتی۔لیکن اس کے علاوہ یہ اپنی زبان کو ہی استعمال کرتے ہیں۔
لیکن تعلیمی نصاب امریکہ سے منظور شدہ ہی ہوتا ہے۔ تاریخی نصاب چین، کوریا ، تائیوان وغیرہ وغیرہ کے “جذبات” کا خیال رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔اگر کو ئی جوشیلا جاپانی ڈنڈی مار کر نصاب میں “اپنی تاریخ” یا “مخالفین” کے جذبات مجروح کرنے والی تاریخ لکھ دے تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
سابقہ خدائی دعویدار شہنشاہ کے مخصوص مندر "یاسو کونی جنجا" پر ہر سال جاپانی وزیر اعظم کی حاضری  چین و کوریا سے سفارتی تعلقات خراب کر دیتی ہے۔
چین اور کوریا وغیرہ میں جلوس نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں بھی امریکی لابی کا متحرک ہونا شاید سب کو یاد ہو۔اب بھی یہ لابی اپنے مشن پر لگی ہوئی ہے۔یعنی کس طرح نصاب اپنا پڑھا کر نئی نسل کو اماں ابا کے بچوں سے ممی ڈیڈی بچہ بنا دیا جائے۔اور اس مشن میں سب سے بڑی رکاؤٹ “مولوی” ہی بنا ہوا ہے۔
اس وقت جاپانی قوم کی ذہنی حالت یہ ہے کہ “کرسمس ڈے” انتہائی جوش سے منایا جاتا ہے۔لیکن یہ “گرل اور بوائے فرینڈز” کی “سرگرمیوں” کیلئے ہوتا ہے ۔کسی کو نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کرسمس ایو یا کرسمس ڈے ہے کیا شے۔
پاکستانی بھی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کے الفاظ کے عادی ہو چکے ہیں ،کچھ عشروں کی بات ہے ،بچے بھی بغیر باپ کے پالنا کوئی معیوب بات نہیں رہے گی۔بس"مولوی" اگر اسی طرح "پریشان حال" رہا تو یہ عشرے بھی لپک دھپک کر آئیں گے۔
میں جاپان کے بارے میں یہی کہوں گا کہ ان کے ہیرو صرف اور صرف امریکن ہیں اور وہ بھی صرف امریکی گورے۔امریکی گوروں کے سامنے جاپان کا امیر سے امیرترین شخص ہو یا اعلی ترین تعلیم یافتہ شخص کسی “بندر” کی طرح حرکات کرتا ہے۔
کہ دیکھ کر ہنسی آجاتی ہے۔
اگر چائینیز اور کورین یا دیگر ہم جیسے غیر ترقی یافتہ ملک کے لوگوں کیلئے جاپانیوں کے جذبات لکھنا شروع کردوں تو ہمارے کئی نیکو کار باکردار مسلمان بھائیوں کے "مرعوبیت زدہ مقدس جذبات" مجروح ہونے کا خطرہ ہے۔جاپان میں رہنے والے پاکستانی جاپانی میں "پاکستان جن" لکھ کر کسی بھی سرچ براؤزر پر تلاش کرکے دیکھیں "لگ سمجھ جائے گی"
بحرحال ہمارے ملک کی تعلیمی سطح بے شک حد سے زیادہ بری حالت میں ہے لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ قلیل تعداد میں ہی سہی پاکستانی دیار غیر میں انتہائی مخدوش حالات میں بھی اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ اس کی کوئی وجہ تو ہو گی ہی؟
میرے خیال میں ہماری جو بنیادی تعلیم جس کا سارا دارومدار “مذہب” پر ہے یہی تعلیم ہمت و محنت اور مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
میں مغرب کی ترقی سے قطعی مرعوب نہیں ہوں۔اور میرے خیال میں اگر پاکستانی عوام کو صرف دس سال امن و امان اور معاشی فراغت کے ملیں تو یہی “اجڈ ” ،مار دھاڑ” کی عادی عوام دنیا میں اپنے آپ کو منوا کر دکھائے گی۔
میری نظر میں پاکستانیوں میں خود اعتمادی کا فقدان ہے اور وجہ صرف اور صرف ملکی حالات,معاشی حالات کی وجہ سے ہے۔قابلیت ذہانت میں ہمارے مدارس کا تعلیم یافتہ بچہ بھی ذہین ترین ہوتا ہے۔ بس حالات نے اسے اتنے جھٹکے دیئے ہوئے ہوتے ہیں کہ بیچارہ ایک دائرے سے باہر نکل ہی نہیں سکتا۔ اس بیچارگی میں یہ بچہ "اپنے مکتبِ فکر" کا ہی ہو کر رہ جاتا ہے۔
بحرحال ہماری نئی نسل کو صرف اور صرف "احساس تحفظ" اور "ہمارا بھی کوئی ہے" کا سہارا چاھئے۔ یہ دے کر دیکھئے نتائج نہ ملیں تو آئی ایم ایف کا قرضہ معاف کر دیا جائے گا۔

نہ چھیڑ میری حب الوطنی کو! نہ چھیڑ میری حب الوطنی کو! Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:37 PM Rating: 5

5 تبصرے:

وقاراعظم کہا...

یہ بات پیرصیب۔۔۔
ہمارے موجودہ نصاب تعلیم جس میں بے شمار خامیاں ہیں اور دور جدید کی تقاضوں کے مطابق بھی نہیں لیکن لوگوں کو تکلیف زیادہ تر تاریخ اسلامی اور مطالعہ پاکستان پر ہے کہ جھوٹ پڑھاتے ہیں، بچوں کی برین واشنگ کرتے ہیں۔ نہ پائی جی اب کیا تاریخ اسلامی میں رچرڈ لائن ہارٹ کی بہادری اور صلاح الدین ایوبی کی خونریزی کے خود ساختہ قصے پڑھائیں تو انہیں قرار آئے؟ :)

جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ جناب۔۔۔۔۔لیکن پاکستانیوں کی ترقی والے خیال سے میں متفق نہیں ہوں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستانیوں کا اجتماعی شعور بھیڑ بکریوں سے زیادہ بلند نہیں ہے اور شاید ہو بھی نہیں سکتا۔ جو چیز یا یوں کہیں کہ معجزہ ہو سکتا ہے تو وہ یہ کہ کوئی اللہ کا بندہ ان بھیڑ بکریوں کو ڈنڈے کے زور پر انسان بننے پر مجبور کردے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب آپ سے متفق ہوں اپنے لکھے سے کم متفق ہوں۔
یہ فرمائشی تحریر تھی۔
زیادہ پریشانی کی ضرورت نہیں جناب :P

خورشید آزاد کہا...

اس بات کو کچھ ہی سال ہوئے ہیں کہ مجھے پہلی بار معلوم ہوا ہے تمام پاک - بھارت جنگوں میں جارحیت پاکستان کی طرف سے ہوئی ہے۔ تمام جنگوں میں پاکستان کو شکست ہوئی ہے۔ لیکن پاکستان میں بچوں کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ بھارت نے 65ء کی جنگ میں رات کے اندھیرے میں جارحیت کی۔ 71ء میں بھی بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا۔ مجھے یقین ہے کارگل کے بارے میں بھی کم و بیش اسی طرح بتایا جارہا ہوگا۔

نلکے میں خراب پانی کی ذمہ داری بھی یہود و ہنود کے زمرے میں ڈال دی جاتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا اس کا 100 فیصد ذمہ دار بھارت ہے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ بات چیت سےحل کرنے پر رضامندی کے باوجود وہاں پر مسلح جدوجہد کا آغاز کرنے کی غلط پالیسی اختیار کرنے کے قومی جرائم پر تعلیم اداروں میں تو دور کی بات ہے، کچھ سال پہلے تک میڈیا پر اس پر کھل کے بات کرنا بھی جرم گردانا جاتا تھا۔

بات لمبی ہوجائے گی اس لئے تھوڑے کو زیادہ سمجھتے ہوئے اتنا ہی کہوں گا کہ جاپانیوں، کوریائیوں اور ٹاوانیوں کی کامیابی کا راز ان کی سخت محنت اور حقیقت پسندی ہے۔ تعلیم و تحقیق کے میدان میں انہوں نے امریکی بالادستی کو قبول کیا، اُس سے سیکھا اور پھر اپنے انداز اور اپنے طریقوں سے اس سے فائدہ اٹھا کر دنیا کی باعزت اقوام میں جگہ حاصل کی۔ دوسری طرف ہمارا المیّہ یہ ہے کہ ہم میں کچھ لوگ امریکہ اور مغرب سے متاثر ہوکر ان کے چلنے پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے اور کھانے کی نقل شروع کردیتے ہیں اور اپنی پہچان کھو دیتے ہیں، اور کچھ لوگ نہ معلوم کون سے ماضی کی جھوٹی شان کو بہانہ بنا کر امریکہ اور مغرب کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور اس کو ختم کرکے اسلام کا نشاۃ ثانیہ لانا چاہتے ہیں۔

ایم بلال ایم کہا...

”میری نظر میں پاکستانیوں میں خود اعتمادی کا فقدان ہے اور وجہ صرف اور صرف ملکی حالات,معاشی حالات کی وجہ سے ہے۔“
میں آپ کی اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا کہ اس خود اعتمادی کے فقدان کی وجہ ملکی اور معاشی حالات ہیں۔ میرے خیال میں خود اعتمادی کے فقدان کی وجہ ہماری اخلاقی تربیت کا نہ ہونا ہے۔ کئی لوگ پیسے کے باوجود بھی احساس کمتری کے مارے ہوتے ہیں اور کئی لوگ غریب ہو کر بھی خود اعتماد ہوتے ہیں۔
مختلف شعبہ جات کی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہے۔ معاشی ترقی کوئی بڑی بات نہیں۔ سڑکیں اور بڑی بڑی عمارتیں وغیرہ دس سال میں بن جاتی ہیں مگر یہ چیزیں اور دیگر بہت ساری چیزیں قوم کی اخلاقیات سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اخلاقی تربیت کے لئے مضبوط تعلیمی نظام بہت ضروری ہوتا ہے۔
بڑی سے بڑی ترقی بھی محض ایک جنگ سے ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہے۔ مگر وہ قومیں جن کا اخلاقی معیار بلند ہوتا ہے وہ دوبارہ بہت جلد اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ قوموں میں اصل چیز معاشی ترقی نہیں بلکہ اخلاقی ترقی ہوتا ہے اور ہماری اخلاقیات کس سطح پر ہیں، یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ قومیں پیسے سے نہیں بلکہ اخلاق سے ترقی کرتی ہیں۔
جب اخلاق کی کمی ہوتی ہے تو پیسے ہونے کے باوجود لوگ خودغرض بن جاتے ہیں، جس سے معاشی نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے جبکہ دوسری طرف اگر اخلاق بلند ہو تو قومیں غربت اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کا خیال کرتی ہیں اور دنوں میں معاشی ترقی کر لیتی ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.