مغربی میڈیا اور ہم

اہل مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کا میڈیا حکومت کا پانچواں ستون سمجھا جاتا ہے
اندرونی و خارجہ پالسیوں پر اثر انداز ہونا عام سے بات ہے۔
عوام کی ذہنی تربیت ، اخلاقی تربیت، معاشرتی تربیت کے "فرائض " بھی انجام دیتا ہے۔اور "حسبِ موقعہ" اپنے "مخصوص مقاصد" کیلئے بھی کام کرتا ہے۔

یہی کام ہمارے ملک کا میڈیا کر سکتا ہے لیکن اس میڈیا کا کردار "مشکوک" سمجھا جاتا ہے۔
بس ایسے ہی کہ "ساڈی کتی چوراں نال رل گئی اے"

عوام کی ذہنی تربیت ، اخلاقی تربیت، معاشرتی تربیت کے "فرائض " عرصہ قدیم سے ہمارے ملک میں "مساجدو مدارس" اور ان کے "پیشوا" کرتے آرہے ہیں۔
لیکن اپنی عوام کا موازنہ اقوام مغرب سے کرکے دیکھ لیں۔اخلاقی لحاظ سے بھی اور دیگر معاشرتی ذہنی لحاظ سے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منمناتی آواز میں ہم صرف ایک شعر ہی پڑھ سکتے ہیں۔ ہے ترکیب میں خاص قوم رسول ہاشمی۔۔
جیسے آجکل کا میڈیا صیہونی طاقتوں کے ہاتھوں بکا ہوا ہے کہیں عرصہ قدیم سے عوام کی تربیت کرنے والے ہمارے"بڑے" بھی بکتے نہ رہے ہوں؟

ہمارے علم میں ہے کہ کسی ایک نے کہہ دیا کہ فلاں "مولوی" صاحب بکے ہوئے تھے جس کی وجہ سے "فلاں" فرقہ وجود میں آیا وغیرہ وغیرہ۔۔بس اس کے بعد "ہر مولوی صاحب" مشکوک ثابت کر دیئے جائیں گے۔
ہمارے "مذہبی بڑے" مسلسل طاغوتی یلغاروں کےآگے اگر بے بس نظر آرہے ہیں۔

معاشرہ بد امنی کا شکار ہے ایسا لگتا ہے کہ ہمارے بڑے شکست تسلیم کر چکے ہیں اور اس وقت صرف مالی مفاد کیلئے کاروبار کر رہے ہیں۔اگر ایسا کچھ نہیں ہے تو ہم اپنے ان "مذہبی بڑوں" کیطرف دیکھ کر امید کرتے ہیں کہ وہ امن و امان قائم کرنے کی کوششیں کرکےثابت کر دکھائیں کہ
ہمارا مذہب "سلامتی امن وآشتی کا مذہب" ہے۔۔۔
ورنہ جناب عوام دن بدن جس اذیت مسلسل کا شکار ہو رہی ہے،
اس کے بعد عوام نے بھی "ہر کسی " کیلئے یہی کہنا ہے۔
"ساڈی کتی چوراں نال رل " گئی اے۔
مغربی میڈیا اور ہم مغربی میڈیا اور ہم Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:26 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.